ایجنسیز
اسلام آباد// پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے میں کم از کم 9 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے، جبکہ 5 اہلکار تاحال لاپتا ہیں۔یہ حملہ پیر کی شب ضلع زیارت کے علاقے منگی ڈیم میں واقع پولیس چوکی پر کیا گیا۔ضلع زیارت کے ڈپٹی کمشنر عبد القدوس اچکزئی نے 9 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ اہلکار اب بھی لاپتا ہیں۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔عبدالقدوس اچکزئی کے مطابق علاقے میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ لاپتا اہلکاروں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے ایک بیان میں کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں منگی اور کاوس پولیس اسٹیشنوں کے اسٹیشن
ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) اور انسداد دہشت گردی فورس کے انچارج ہیڈ کانسٹیبل سیف اللہ بھی شامل ہیں۔دوسری جانب شاہد رند نے ایک الگ بیان میں دعویٰ کیا کہ حملے کے بعد شروع کیے گئے کلیئرنس آپریشن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 15 دہشت گرد مارے گئے۔واضح رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کواقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔شاہد رند نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے بیان میں کہا کہ کلیئرنس آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور دہشت گردوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرنے کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں مزید شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق، “بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، اور امن دشمن عناصر کے مکمل خاتمے تک ان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔”