ایجنسیز
ایتھنز// اقوامِ متحدہ کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے مغربی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط قائم رکھیں تاکہ ملک دوبارہ عدم استحکام کا شکار نہ ہو، جس کے اثرات اس کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین برہم صالح اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے افغانستان کے مشترکہ دورے کے دوران ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ افغانستان کو نظر انداز کرنا دانشمندانہ پالیسی نہیں۔برہم صالح نے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا، اگرچہ افغانستان کو اب بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ دنیا اس سے روابط رکھے، تعاون کرے اور ایسی پالیسیوں کی حوصلہ افزائی کرے جو ملک کو محفوظ اور مستحکم رکھ سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا تو عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں منشیات کی اسمگلنگ، انتہا پسندی، جرائم اور مہاجرین کی نقل مکانی جیسے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔چار دہائیوں پر محیط جنگ کے بعد افغانستان اس وقت متعدد بحرانوں سے نبرد آزما ہے، جن میں قدرتی آفات، موسمیاتی تبدیلی، غربت اور حالیہ برسوں میں مہاجرین کی غیر معمولی واپسی شامل ہے۔ الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا، افغانستان میں کوئی ایک بحران اکیلا نہیں آتا، یہاں ہر بحران کے ساتھ ایک نیا بحران جڑ جاتا ہے، اور یہی صورتحال اس وقت بھی نظر آ رہی ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق 2023 سے اب تک تقریباً 60 لاکھ افراد افغانستان واپس آ چکے ہیں، جن میں اکثریت پاکستان اور ایران سے لوٹنے والے مہاجرین کی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں کے بعد یہ سلسلہ تیز ہوا، جبکہ رواں سال مزید تقریباً 20 لاکھ افراد کی واپسی متوقع ہے۔واپس آنے والے مہاجرین نے مقامی آبادی پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، جہاں پہلے ہی وسائل کی شدید کمی، غربت اور غذائی قلت جیسے مسائل موجود ہیں۔اس صورتحال کو بین الاقوامی امداد میں نمایاں کمی اور طالبان حکومت کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد سخت پابندیوں نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خواتین کو پرائمری تعلیم کے بعد تعلیم حاصل کرنے سے محروم رکھا گیا ہے اور بیشتر شعبوں میں ملازمت کی بھی اجازت نہیں۔