ریاست جموں و کشمیر مذہبی اعتبار کے علاوہ ادبی لحاظ سے بھی مشہور ہے اوریہ ریاست فکشن نگاری کی حیثیت سے بھی کافی زرخیز ہے ۔یہاں بہت سارے ادیبوں شاعروں اور قلمکاروں کے علاوہ افسانہ نگاروں نے جنم لیا ہےاور اپنے فن وادب کی وجہ سے ادب نواز دوستوں کو محظوظ کیا ہے، انہوں نے نہ صرف اردو زبان وادب کی آبیاری کی بلکہ اپنے شاہکاروں کی وجہ سے اس زبان کو محفوظ رکھنے کےلئے بہت سارے خدمات انجام دئے ہیں ،یہاں ہر خطہ میں کوئی نہ کوئی قلمکار، افسانہ نگار، محقق یا شاعر مشہور ہے ۔اگر ان کو گنا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔ انہی خطوں میں سےجموں صوبے کا ایک خوبصورت، ہرابھرا، سیاحوں کو اپنی طرف لُبھانے والااور دلجوئی کرنے والا علاقہ بھدرواہ بھی ہے ،بھدرواہ نہ صرف اپنی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ یہاں بھی ریاست کے باقی علاقوں کی طرح بہت سارے قلمکار، افسانہ نگار اور شاعروں کی وجہ سے بھی مشہور ہے انہی مشہور زمانہ قلمکاروں میں سے ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی کا نام مشہور ہے ،اگرچہ آپ ترک سکونت کرکے جموں میں رہائش پذیر ہیں مگر اپنے علاقے کے نام سے ہی آپ کو پہچانا اور جاناجارہا ہے یعنی بھدرواہی ۔ظریفانہ مزاج،میٹھی اور مدھر زبان،مومنانہ روپ، چہرے پر سفید داڈھی، اچھےپروقار اوربااخلاق معالج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے اور رنگین خیال والے قلمکار اور افسانہ نگار کے افسانے بھی انہیں کی طرح معاشرے کی سچی ترجمانی کرتے ہیں۔ آپ کی سبھی تحریریں دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ معنی خیز اور پُرمغز ہیں، ان کی تحریروں میں دین شناسی جھلک رہی ہے گویا اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر مجید صاحب کواپنی عنایت سے نوازا ہے۔ زیر نظر افسانوی مجموعہ "چُبھن"میں اکثر افسانےعصری تقاضوں کی ترجمانی کرکے ہمیں سوچنے اور غور کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ اس مجموعے میں پچسٹھ افسانے شامل ہیں جن پر ریاست جموں و کشمیر کے مایہ ناز شخصیات نے اپنے تاثرات پیش کرکے ان افسانوں پر تصدیقِ مہر ثبت کی ہیں، جن میں نورشاہ، ش م احمد، اسیر کشتواڑی، خالد حسین، شاد فرید آبادی، مشتاق فریدی، محمد اسداللہ وانی اور منشور بانہالی وغیرہ شامل ہیں ۔پہلے پہلے راقم کو یقین تھا کہ ڈاکٹر صاحب صرف ایک کالم نگار ہیں مگر آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ آپ افسانوی ادب کے منجھے ہوئے کھلاڑی بھی ہیں، جنہوں نے اپنے افسانوں کو حقیقت کی زبان دی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سبھی واقعات میرے ساتھ بھی پیش آئے ہیں۔ اس شاہکار یعنی "چُبھن" کو ترتیب دینے میں اسیر کشتواڑی اور نشر کرنے والے خالد مجید نے کافی عرق ریزی سے کام کیا ہے ۔ انہوں نے اس کتاب کی ترتیب بڑے شاندار اور خوبصورت انداز سے دی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے بھی ایک سے بڑھ کر ایک افسانہ پیش کیا،اسلوب زبان سادہ وسلیس ہے یعنی سیدھے سادھے الفاظ میں انہوں نے ایک بڑا پیغام دینے کی کوشش کی ہے ۔ان افسانوں سے پتہ چلتا ہے کہ آپ جسمانی معالج ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی معالج بھی ہیں یعنی آپ اس بگڑے ہوئے معاشرے کے نبض شناس ہیں، آپ نے قارئین تک ماں کی افادیت اور بچے کے ساتھ ماں کی شفقت اور بچے کو ماں کے ساتھ محبت کو بھی نرالے انداز میں افسانوی رنگ دیا ہے افسانہ "کچھ دیر تو رُک جاتے" میں انہوں نے یہ ایک درد بھری کہانی پیش کی ہے کہ کیسے ماں اور بیٹے کی آپسی دوری ،چاہے وہ موت کی وجہ سے ہوئی ہے یا اور کسی وجہ سے، ایک دوسرے کےلئے سہہ پانا مشکل ہورہا ہے اور "بس تیرے بغیر میرا جینا مشکل ہوگیا تھا۔ہر کسی سے کہنا مجھے جینے میں مزہ ہی نہیں آرہا ہے میرا روزمرہ کا معمول بن گیا تھا، میرا یہ دُکھڑا ایک دوبار تو کوئی سنتا تھا مگر جب میں ایک ہی بات بار بار دہراتا تو لوگ میرا مزاق اڑاتے" یا یہ کہ"لوگ ہر روز مجھے طرح طرح کی باتیں سناتے تھے، چلو اب اچھا ہوا۔پھر سے اجڑے دیار میں بہار آئی، وہی زندگی کا مزہ، وہی رونق، وہی چہل پہل جیسے پہلے تھی اب پھر ہوگی"،مگر یہ خوشی چند ہی پلوں میں اس وقت گُم ہوجاتی ہے، جب مسجد میں موزن اذان دینا شروع کرتا ہے کہ اور بچے کی ماں کہتی ہے کہ
" بیٹا! خدا حافظ! میں اب چلتی ہوں۔ میں نے اتنی ہی اجازت لی تھی ۔میں صرف تیرا حال معلوم کرنے آئی تھی، اپنا خیال رکھنا بیٹا! یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔ دور،بہت دوراور میں بس دیکھتا ہی رہ گیا۔یہ میری ماں تھی جسے میں نہ جانے خیال میں یاعالم خواب میں ایک سراب کی طرح دیکھ رہا تھا۔میرے لبوں پر یہ الفاظ آکر ایسے منجمد ہوکر رہ گئے۔ ماں! کچھ دیر تو رک جاتی‘‘۔ڈاکٹر صاحب نے کس حالت اور کیفیت میں یہ افسانہ لکھا ہوگا سے میں پوری طرح واقف ہوں۔ڈاکٹر عبدالمجید نے ماں کی عظمت کو سمجھانے اور اس کے ساتھ کس طریقے سے پیش آئیں ،کے بارے میں اس کتاب میں چھ سات افسانے شامل کئے ہیں جن میں "مقدس ماں وردھ آشرم میں؟ ماں کا آنچل،ماں اور آشرم ،افسوس صد افسوس، ماں!، ماں سے وعدہ، مدرس ڈے وغیرہ جیسے افسانےہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں افسانچہ مدرس ڈے جو اس کتاب کے پیج نمبر تین سو چوالیسویں میں شامل ہے، میں کچھ ہی الفاظ میں ایک بڑا پیغام دیا ہے یہ افسانچہ ہنستے ہنساتے ہمیں اس ماحول میں لیجاتا ہے جہاں آج کل اولڈ ایج ہوم کا رواج عام ہے اور اکثر اولاد والدین کو اپنے پربوجھ تصور کرکے اُنہیں اولڈ ایج ہومز میں داخل کرکےان سے چُھٹکارا پاتےہیں مگر جوانی کی وجہ سے یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح سے ہمیں پال پوس کر بڑا کیا ہے اور پھر بھی مدرس ڈے منانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب بہت ساری جگہوں پر بحیثیت معالج کام کرتے رہے، اس لئے انہوں نے سماج میں پھیلی بہت ساری برائیوں کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کیا ہے اور انہی مشاہدوں کو انہوں نے زبان دیکر کبھی کالم کی شکل میں اور کبھی افسانوں کی شکل میں ہم تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔بقول ش م احمد کہ"ڈاکٹرصاحب کے اندر کا کہانی کار پریم چند کی طرح سماجی اصلاح کار اور ڈپٹی نذیر احمد کی طرح تبدیلئ افکار کا مبلغ ہے"گویا کہ ان کے افکار بہت ہی اعلیٰ وبلند پایہ کے ہیں۔ان کی کہانیاں نصیحت آموز اور اللہ تعالیٰ کی طرف لیجانے والی ہوتی ہیں،اکثر افسانے ہمیں اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتے ہیں ۔
اس افسانوی مجموعہ" چُبھن "کا نام اس میں شامل ایک افسانے کے طور پر رکھا گیا۔ اگر دیکھا جائے تو اس میں شامل سبھی افسانے درد وکرب سے بھرے پڑے ہیں اور یہ سبھی افسانے بیشک انسان کو چُبھتے ہیں اور دل کو کریدتے ہیں کیونکہ آجکل ایسے ہی حالات وواقعات ہر جگہ پیش آتے ہیں اور رسومات بد نے ہمیں اپنی گرفت میں کرلیا ہے مگر ڈاکٹر صاحب ہمیں ان رسومات بد سے باخبر رہنے کی بھی تلقین کرتے ہیں، وہ خاموشی سے قارئین کو ان پوشیدہ و مخفی باتوں کو ملحوظ نظر رکھ کرباخبر کرتے ہیں جن کی طرف عام لوگوں کا دھیان نہیں جاتا ہے۔ آپ کا ایک اور افسانہ اس معاشرے کےلئے ایک تھپڑ ہے جس معاشرے میں لوگ مسجدوں، مندروں اور گرودواروں کی تعمیر کےلئے چندہ جمع تو کرتے ہیں مگر اسی معاشرے میں رہ رہے غریب خاندانوں کی بالغ بیٹیوں کی شادیوں کےلئے کوئی چندہ جمع کرنے والے نہیں، اور نہ ہی ان غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی بالغ بیٹیوں سے کوئی شادی کرنے والا ہوتا ہے۔ افسانہ"تعمیر مسجد کےلئے" میں ڈاکٹر صاحب نے اچھی طرح سے ایک غریب گھرانے کی عکس بندی کی ہے اور یوں کی ہے۔
"کافی سوچ وچارکے بعد اس نے فیصلہ کیا کیوں نہ وہ بھی مسجد شریف کے نام لوگوں کے سامنے دامن پھیلائے اور چندہ جمع کرے،چنانچہ وہ تعمیر مسجد تعمیر مسجد……. کی صدا دیتا گیا, کسی نے پانچ تو کسی نے دس اور کسی نے پچاس روپے دئیے۔ دن میں جتنے روپے جمع ہوئے اس نے اُن سے دلہن کےلئے ایک سوٹ سلوایا"
یہ کہانی اسی طرح سے آگے بڑھتی جارہی ہے اور آخر کار انہی روپے جو انہوں نے تعمیر مسجدکےلئے جمع کئے تھے سے لڑکی کی شادی انجام دیتا ہے، کبھی کبھار غلام رسول کو یہ روپے جمع کرنے میں بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ،مگر اس کا راز اُس وقت کھلتا ہے جب رام داس اپنی دلہن بیٹی کو کہتا ہے کہ جاؤ اپنے چچا غلام رسول سے آشرواد لے لو تو ارد گرد لوگ آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے کہ غلام رسول کیسےرام داس کی بیٹی کا چچا ہے، تب پتہ چلا کہ غلام رسول نے وہ روپے اُسی کی شادی کےلئے جمع کئے تھے اور جو لوگ اس کی ایمانداری پر شک کررہے تھے، انہوں نے اپنی نادانی اور بےوقوفی پر ندامت ہورہی تھی اور سبھی اس کی تعریفیں کرنے لگے کہ کیسے اس نے وہ روپے ہریجن لڑکی کےلئے جمع کئے اورجس پر اس کی پزیرائی کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک اور افسانہ "مہنگائی بھتہ" میں ان مسلمانوں کے ذہن کی قلعی کھول دی ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بھی اپنا دھیان اللہ کی طرف نہیں دے رہے ہیں بلکہ دنیاوی امورات میں ہی اپنا دھیان مرکوز کررہے ہیں اور نماز میں اللہ تعالیٰ سے محو ہونے کے بجائے ریڈیو اعلان پر ہی اس کا دھیان ہوتا ہے کہ کب مہنگائی بھتہ کا اعلان کیا جائے، اس کے دل میں کیسے نئے نئے خیالات اور خرافات آرہے ہیں جس کی وجہ سے اس کی نماز بھی اچھی نہیں ہورہی ہے مگر آخر پر ریڈیو پر ہی ڈاکٹر اقبال علیہ رحمہ کا ایک شعر اس کے سوچ کوبدلتا ہے؎
جو میں سربسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کی ایسی ہی حالت ہےاور حالت نماز میں بھی وہ دنیاوی طلب میں محو رہتے ہیں اور اس طرح سے وہ اللہ تعالیٰ سے دوری اختیار کرتے ہیں ۔اس افسانے کو پڑھ کر واضع ہورہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی اپنے افسانوں میں تبلیغی عمل بھی انجام دے رہے ہیں اور ہمیں یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اصلی اور حقیقی رزق اللہ تعالیٰ ہی ہمیں فراہم کررہا ہے اور وہی ہمارا پالنے والا ہے۔ ڈاکٹر مجید بھدرواہی خود ایک صاف گو، صاف دل اور ہمدرد انسان تھے اس افسانوی مجموعے میں بھی آپ کی صاف گوئی نظر آرہی ہے۔ "شمع بُجھنے سے پہلے" میں والدین ایک پڑھے لکھے نوجوان انجینئرنگ محکمہ میں ملازم کی شادی کرنا چاہتے تھے مگر وہ ہر وقت ٹال مٹول کرتا تھا کیونکہ وہ اپنی مہلک بیماری کو چھپانا چاہتا تھا اور آخر پر جب ڈاکٹر ان سے کہتا ہے کہ آپ اگلے دس دن میں یہ دنیا چھوڑ کر چلے جائیں گے اور وہ گھر والوں کی تسلی کےلئے کہتا ہے کہ اب میری شادی کریں مگر انہی دس دنوں میں اس کی موت واقع ہورہی ہے۔ جب اس کی تجہیز وتکفین کی تیاری ہورہی تھی اس دوران اس کے جیب سے باپ کا دیا ہوا رقم اور ایک خط مل جاتا ہے جس میں لکھا تھا کہ وہ جان بوجھ کر منگنی کی رسم کی تاریخیں آگے کرتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ شمع بالآخر بجھنے ہی والی ہے۔ اس افسانے سے ہمیں یہ سبق مل رہا ہے کہ جس طرح سے اس نوجوان نے اس لڑکی کی زندگی سے کھلواڑ نہ کیا، اسی طرح سے کسی بھی شخص کو کسی بھی لڑکی سے کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے۔ اس مجموعے میں میاں بیوی کی آپسی رسہ کشی کی بھی جھلک مل رہی ہے افسانہ "نکاح ثانی، ایک حسین حکمت" میں انہوں نے ہمیں آئینہ دکھانے کی کوشش کی کہ کس طرح میاں بیوی کی آپسی رسہ کشی سے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے اور ان کی روز روز کی لڑائی جھگڑے سے کس طرح بچے کے ذہن پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے بچے یا تو گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں یا خودکشی جیسا قدم اٹھاتے ہیں۔ ڈاکٹر بھدرواہی نے اس میں لکھا ہے کہ بچے کے ماموں نے اس کو اپنے ساتھ دہلی لے لیا تاکہ اس کے ماں باپ کو یہ احساس ہوجائے کہ بچے کے بنا ان کا رہنا کتنا مشکل اور دشوار ہوگیا ہے اور آخر پر وہ آپس میں اسی بچے کی وجہ سے بغل گیر ہورہے ہیں اور ان کو نکاح ثانی پڑھی جارہی ہے غرض ڈاکٹر بھدرواہی نے اس مجموعے میں ہر کسی موضوع پر افسانے پیش کئے ہیں۔ میری نظر میں ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی کے افسانے شاہکار افسانے ہیں ہمیں فخر ہے کہ آپ ایک معالج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قلمکار بھی ہیں انہوں نے "چُبھن" کے علاوہ انتخاب نُور، مختصر طریقہ حج وعمرہ، درود وسلام، دیار حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم حصہ اول ودوم اور چہل احادیث بھی چھپ کر منظر عام پر آئی ہیں اور اردو زبان وادب کے شیدائی بھی ہیں۔ آپ اکثر اردو زبان میں ہی لکھتے ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو اردو زبان وادب سے بہت ہی محبت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس شاہکار کے علاوہ آپ کے اور شاہکار منظر عام پر آئیں گے۔
رابطہ۔7006259067