کٹھوعہ//جموں و کشمیر اور لداخ کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس علی محمد ماگرے نے جمعرات کو ہیرا نگر میں کورٹ کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھا اور اس کے علاوہ قانونی امداد دفاعی کونسل کے دفتر کی عمارت اور ای فائلنگ کے ہیلپ ڈیسک کا افتتاح کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہیرا نگر میں کورٹ کمپلیکس کی عمارت 9.42 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت کے ساتھ بن رہی ہے اور اس کی تعمیر پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) کٹھوعہ کرے گی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس ماگرے نے کہا کہ عدلیہ اور انصاف کی فراہمی کے نظام پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں بنچ اور بار کا بہت بڑا کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ “لوگ بڑی امیدوں کے ساتھ عدالتوں کو ‘انصاف کا مندر’ سمجھتے ہوئے آتے ہیں جہاں انہیں انصاف ملے گا اور یہ عدالت کا فرض ہے کہ وہ تمام فریقین کو آسان اور قابل رسائی انصاف فراہم کرے”۔
ہندوستان کے آئین میں درج آئینی ضمانتوں کا حوالہ دیتے ہوئے، چیف جسٹس نے کہا، “تکنیکی مداخلت کے ساتھ سب کو رعائیت اور تیز انصاف فراہم کرنے کے مقصد کو پورا کیا جا رہا ہے جو بالآخر عدلیہ کے بوجھ کو کم کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے کٹھوعہ کے ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس میں ’لیگل ایڈ ڈیفنس کونسل آفس‘ اور ’ای فائلنگ کے لیے ہیلپ ڈیسک‘ کا افتتاح کیا۔ یہ سہولت نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (NALSA) کے تحت ان مدعیان کی سہولت کے لیے قائم کی گئی ہے جنہیں دوسری صورت میں درخواستیں دائر کرنے کے لیے ہائی کورٹ جانا پڑتا تھا۔سول اور پولیس انتظامیہ کے افسران کے علاوہ بار اور بنچ کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ اور ایگزیکٹو پہیے میں ڈنڈے کی طرح ہیں جنہیں تیز رفتار اور معیاری انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے”۔ انہوں نے کہا کہ آئینی فریم ورک کے تحت تمام اداروں یعنی عدلیہ، سول اور پولیس انتظامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف فراہم کریں کیونکہ یہ آئینی امانت کا ذخیرہ ہیں۔چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس کٹھوعہ اور کورٹ کمپلیکس ہیرا نگر کے مختلف حصوں کا بھی معائنہ کیا اور موقع پر ہی کچھ ہدایات دیں۔