پونچھ// ہندوپاک کشیدگی کو کم کرنے اور برسوں سے بچھڑے رشتہ داروں کو آپس میں ملانے کے لئے چکاں دا باغ کے راستے بس سروس اور آر پار تجارتی سلسلہ شروع کیاگیاتھا اور اس کو اعتماد سازی کا ایک بہت بڑا اقدام کہاجاتاہے ۔تاہم جس شدت سے تجارتی سلسلہ شروع ہواتھا ،اس میں اب اس جذبے کی کمی دکھائی دے رہی ہے ۔ پہلے تو تجارت کی جانے والی اشیاء میں کمی کی گئی اور پھر اب رجسٹریشن کیلئے پانچ لاکھ روپے فکس ڈیپازٹ کرنے کا فیصلہ لیاگیاہے جس پر تاجر برادری برہم ہے ۔تاجروں کاکہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی سعید نے کہاتھاکہ وہ پونچھ کو ہندوستان کا صدر دروازہ بنائیںگے لیکن یہ کیسا دروازہ کہ تجارت کو وسعت دینے کے بجائے اس میں مسائل پیدا کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ تجارت جو پونچھ کے بے روزگار نوجوانوں کو روزاگار فراہم کرنے اور ان کے بہتر مستقبل کے لئے2007میں شروع کی گئی تھی ،سے کافی حد تک فائدہ بھی ملا مگر اب سابق وزیرِ اعلیٰ کی اس سوچ کو بالائے طاق رکھ کر موجودہ حکمرانوں نے نئی ٹریڈ رجسٹریشن کی ایف ڈی پانچ لاکھ روپے مقرر کر کے تاجروں کے دل کو زبر دست چوٹ پہنچائی ہے۔سماجی کارکن کملجیت سنگھ کاکہناہے کہ ایک تو عدالت سے حکم امتناعی کی وجہ سے نئے تاجروں کو تین سال تک تجارت سے محروم رکھا گیا اور اب پی ڈی پی او بی جے پی کے نئے فرمان سے پانچ لاکھ روپے کی ایف ڈی ٹھونسی گئی ہے جس سے نئے اور پرانے کاروباریوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ خاص طور پر تجارت سے جڑنے کی خواہش رکھنے والے مایوس ہوگئے ہیں اوران کی امیدوںپر جیسے پانی پھر گیا ہو۔انہوں نے ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پونچھ کے نئے تاجروں کی ترقی میں مسائل پیدا نہ ہونے دیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پانچ لاکھ روپے کی شرط کے فیصلے کو منسوخ کردیاجائے ۔دریں اثناء کملجیت سنگھ کی قیادت میں ایک وفد ایم ایل اے حویلی شاہ محمد تانترے سے بھی ملاقی ہوا اور انہیں تحریری طور پر یاداشت پیش کرکے مانگ کی کہ اس حکمنامے کو منسوخ کیاجائے ۔