کشتواڑ+راجوری //چناب اور پیرپنچال کے بالائی و میدانی علاقوں میں بارشوں اور ہلکی برف باری کی وجہ سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے جبکہ سنتھن و مرگن ٹاپ اور مغل روڈ پر برف ہٹانے کا کام متاثرہوا ۔ کشتواڑ،ڈوڈہ اور رام بن کے بالائی و میدانی علاقوں میں سوموار کو بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ جہاں بالائی علاقوں میں صبح سے ہی بارشیں ہورہی تھی وہی میدانی علاقوں میں بعد دوپہر بارشوں کا سلسلہ شروع جو آخری اطلاع ملنے تک جاری تھا۔موسم میں تبدیلی سے درجہ حرارت مزید گرگیا اور سردی کی شدت میں اضافہ ہوا۔وہیں سنتھن و مرگن ٹاپ پر برف ہٹانے کا کام بارشوں کے سبب متاثر رہا جہاں صبح سے ہی تیز بارش ہورہی تھی جبکہ ہلکی برفباری بھی درج کی گئی۔برف ہٹانے کے کام پر مامور لوگوں نے بتایا کہ موسم صاف ہوتے ہی دوبارہ برف ہٹانے کا کام شروع کردیاجائے گا۔ادھر پیر کی صبح سے ہی جواہر ٹنل، پیر پنجال اور بانہال کے مہو منگت اور دیگر اوپری پہاڑی علاقوں میں تازہ برفباری ہوئی جبکہ مہو اور منگت کی بستیوں کے علاؤہ جواہر ٹنل پر بھی ہلکی برفباری ہوئی تاہم زمیں پر برف جمع نہیں ہو پائی۔ رام بن اور بانہال کے سیکٹر میں بارشوں کا سلسلہ پیر شام تک وقفے وقفے سے جاری تھا۔ پہاڑوں پر ہلکی ہلکی برفباری اور میدانی علاقوں میں وقفے وقفے کی بارشیں پیر کی شام تک جاری تھیں۔دریں اثناء پیر کے روز کئی گھنٹوں تک ہلکی سے موسلا دھار بارش نے پیر پنچال میں معمولات زندگی کو متاثر کیا اور متعددرابطہ سڑکوں پر پھسلن پیدا ہوئی جس سے ڈرائیوروں کو اپنی گاڑیاں چلانے میں مشکل پیش آئی۔پیر کی صبح آٹھ بجے صبح بارش کا آغاز ہوا اورپیرپنچال کے راجوری اور پونچھ اضلاع کے تمام علاقوں میں دن بھر جاری رہی۔راجوری کے گاؤں ٹھنڈی کسی کے کسان کامل کشور نے بتایا "ہم اس بارش سے خوش ہیں کیونکہ گندم کی فصل نمو کے مراحل میں ہے اور بارش سے نمو کی شرح میں اضافہ ہوگا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارش کی وجہ سے درجہ حرارت میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔دوسری طرف ، بارش کی وجہ سے بہت ساری رابطہ سڑکوں پر پھسلن پیدا ہوئی جس کے باعث گاڑی چلانے میں دشواری پیش آ ئی جبکہ مغل شاہراہ پر برف باری کی وجہ سے برف ہٹانے کا عمل متاثر ہوا ہے۔
ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رہے گی