یو این آئی
نئی دہلی/ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ محض کھلاڑیوں کی مہارت تک محدود نہیں، بلکہ اس کھیل کا سب سے اہم جزو یعنی ’فٹ بال‘ بھی وقت کے ساتھ ساتھ انقلابی تبدیلیوں سے گزرا ہے ۔ 1930 کی وزنی اور ہاتھ سے سلے چمڑے کی گیندوں سے لے کر 2026 کی ’اسمارٹ بال‘ تک کا سفر انسانی تجسس اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کی ایک بہترین مثال ہے ۔ورلڈ کپ کے ابتدائی دور میں فٹ بال چمڑے سے تیار کیے جاتے تھے ۔ 1930 کے ‘T-Model’ جیسے بالز میں چمڑے کی تہوں کو روئی کے فیتے سے جوڑا جاتا تھا۔بارش کے دنوں میں یہ چمڑا پانی جذب کر کے دگنا وزنی ہو جاتا تھا، جس سے کھلاڑیوں کے سر پر چوٹ لگنے یا کنسیشن کا خطرہ رہتا تھا۔1962 میں مسٹرکریک پہلی گیند تھی جس میں قدرتی ربڑ کا والو استعمال کیا گیا، جس سے گیند کی شکل برقرار رکھنے میں مدد ملی۔1970 کا ورلڈ کپ ایک موڑ ثابت ہوا جب ‘ایڈیڈاس’ باقاعدہ سپلائر بن گیا۔
اس دور میں پہلی بار سیاہ اور سفید خانوں والی مشہورِ زمانہ ٹیل اسٹار گیند متعارف کرائی گئی۔اس کا نام ” ٹیلی ویزن اسٹار رکھا گیا کیونکہ اسے خاص طور پر بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی اسکرینز پر واضح طور پر دیکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ 1974 میں ڈور لاسٹ کوٹنگ کے ذریعے گیندوں کو پہلی بار واٹر ریزسٹنٹ (پانی سے محفوظ) بنایا گیا۔1986 کی ‘ ایز ٹیکا پہلی مکمل مصنوعی (سینتھیٹیک) گیند تھی جس نے چمڑے کی جگہ لے لی۔ اس سے فٹ بال ہلکے ، تیز رفتار اور مکمل واٹر پروف ہو گئے ۔ 1998 کی ‘ٹرائی کلر’ پہلی رنگین گیند تھی، جبکہ 2002 کی فیور نووا نے روایتی ڈیزائن کو مکمل طور پر بدل کر ایشیائی ثقافت کے رنگ بکھیرے ۔جدید دور میں سلائی کی جگہ ‘تھرمل بانڈنگ نے لے لی ہے ، جس سے گیند کی سطح بالکل ہموار ہو جاتی ہے ۔ 2022 کی الریحلہ اور اب 2026 کی ٹرائی اونڈا میں ایک خاص سینسر (آئی ایم یو) نصب ہے جو ہر سیکنڈ میں 500 بار ڈیٹا بھیجتا ہے ۔یہ ٹیکنالوجی ویڈیو اسسٹنٹ ریفریز (وی اے آر) کو آف سائیڈ جیسے پیچیدہ فیصلوں میں لمحوں میں درست معلومات فراہم کرتی ہے ۔2006 کی “ٹیم گائسٹ” میں پہلی بار تھرمل بانڈنگ ٹیکنالوجی استعمال ہوئی، جس سے گیند ہموار اور زیادہ مستحکم ہو گئی۔ جدید گیندوں جیسے “برازوکا”، “ٹیلسٹار 18” اور “الرِحلہ” میں کم پینلز اور بہتر ایروڈائنامکس شامل کیے گئے ۔ خاص طور پر 2022 کی “الرِحلہ” اور 2026 کی “ٹرائنڈا” میں نصب سینسر ہر لمحے گیند کی حرکت کو ریکارڈ کرتے ہیں، جس سے ریفریز کو فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ورلڈ کپ کی گیند کا سفر صرف کھیل کا حصہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور جدت کی ایک شاندار کہانی ہے ۔ آج کی اسمارٹ بال نہ صرف کھیل کو تیز اور دلچسپ بناتی ہے بلکہ اسے زیادہ منصفانہ بھی بناتی ہے ۔