یوٹی سرکار چلہ کلاں کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح سے تیار تھی ۔سونم لوٹس برف باری کی پیشگوئی کرتے تھے تو یوٹی کے حاکم اور افسر فوراً یہ اعلانات دہرا رہے تھے کہ تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔ عوام مطمئن رہیں ۔بے خوف اور پرسکون رہیں ۔لیکن یوٹی انتظامیہ کو معلوم نہیں تھا کہ پچھلے بیس سال سے چلہ کلاں نے اپنی فطرت کے خلاف شرافت کا جو جامہ پہن لیا تھا وہ اسے اتار پھینک بھی سکتا ہے ۔اس کی عزت اور غیرت کو چیلنج ہوا تو اس نے اپنے جا ہ و جلال کا تھوڑا سا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ ساڑھے تین روز کی برف باری ہوئی تو سب کچھ تہس نہس ہوکر رہ گیا ۔ برف ہٹانے کی مشینیں ناکافی ثابت ہوئیں ۔ بجلی کے ترسیلی نظام کا بھانڈا چوراہے پر پھوٹ گیا ۔وادی کا زمینی اور فضائی رابطہ ملک اوردنیا سے منقطع ہوکر رہ گیا ۔دیہات بھی ایک دوسرے سے کٹ گئے ۔ در د زہ میں مبتلا خواتین کو چار پائیوں پر اٹھاکر ہسپتال لے جانا پڑا ۔ لالچوک سے بھی بر وقت برف نہیں ہٹائی جاسکی ۔جنوبی کشمیر میں ابھی بھی بجلی بحال نہیں ہوسکی ہے ۔ گرمائی دارالحکومت سرینگر کے کئی علاقوں میںبھی یہی حال ہے ۔شمالی کشمیر کے بیشتر علاقے بھی اندھیرے میں ہیں ۔ اندرونی علاقوں سے برف ہٹانے میں ابھی نہ جانے کتنا وقت درکار ہوگا ۔انتظامی مشینری لگتا ہے کہ اپنے آپ کو بے دست و پا محسوس کررہی ہے اور عوام بے چارگی اور بے بسی کے عالم میں کسی معجزے کا انتظار کررہے ہیں ۔ یہ اکیسویں صدی کا وہ زمانہ ہے کہ جس میں انسان کو بے پناہ تکنیکی وسائل کا سہارا حاصل ہے۔برف کب پڑے گی کتنی پڑے گی اس کی صحیح صحیح معلومات پہلے سے ہی حاصل ہوتی ہیں ۔ ایسی مشینیں ہیں کہ جو پلک جھپکتے ہی برف کے پہاڑوں کو صاف کرتی ہیں ۔بجلی کے ترسیلی نظام کے جدید طریقے دنیا میں اپنائے جارہے ہیں جو کسی بھی قدرتی آفت سے اثر انداز نہیں ہوتے ،اس کے باوجود کشمیر کے جن علاقوں میں دوفٹ سے بھی زیادہ برف نہیں وہاں بھی نہ لوگ گھروں سے باہر آسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اڑتالیس گھنٹے کے بعد بھی بجلی دستیاب ہوسکی ہے ۔ جہاں چار فٹ سے زیادہ برف ہے وہاں اس سے بھی بدتر صورتحال ہے ۔ یہ وہی کشمیر ہے جہاں کبھی دس فٹ سے بھی زیادہ برف گرا کرتی تھی ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب کوئی برف ہٹانے کی مشین نہیں تھی نہ موسم کی پیشن گوئی کے آلات تھے ۔ برف پڑتی تھی تو مزدور بیلچے لیکر نکلتے تھے اور چند روز کے اندر سڑکوں کو آمد و رفت کے قابل بناتے تھے ۔ بجلی کا نظام بھی کم سے کم وقت میں درست ہوجاتا تھا ۔ اب سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ بھی درست نہیں ہوتا ۔ یہاں تک کہ ائر پورٹ روڑکے آمد و رفت کے قابل بن جانے میں بھی کئی روز درکار ہوتے ہیں ۔
انسان کے پاس جب جدید آلات اور سائنس کا علم نہیں ہوتا تھا تو اس کا اپنا ذہن ان آلات اوراس علم سے زیادہ بہتر اور موثر طریقے پر کام کرکے اپنے مسائل کا حل تلاش کرتا تھا ۔اس کا ثبوت کشمیر کا موسمی کلینڈ ر ہے جو نہ جانے کب سے ایک مکمل ترین نظام کی صورت میں موجود ہے ۔چلہ کلاں کوئی ہستی نہیں جو کشمیر آتی ہے اور سردی کا قہر برپا کرتی ہے ۔ نہ ’’چلہ خورد ‘‘کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی ’’چلہ بچہ ‘‘۔ یہ کشمیریوں کے موسمی کلینڈر کی تین موسمی رتوں کے نام ہیں۔یہ کلینڈر اتنا درست اور مکمل ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی اس کے حساب میں ایک لمحے کا بھی فرق نہیں آیا ہے ۔چلہ کلاں کے پہلے دن سے ہر چیز جم جاتی ہے اور چلہ خورد کے پہلے دن سے ہر ایک جمی ہوئی چیز پگھلنا شروع ہوجاتی ہے ۔کبھی ایک دن ایک گھنٹے ایک سکینڈ کا فرق بھی نہیں ہوتا ۔کہتے ہیں کہ چلہ کلاں کے چالیس دن گزرنے کے بعد پانی پر ’’ جمبر ‘‘ پڑ جاتا ہے ۔ جس کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ پانی میں گرمی آنی شروع ہوجاتی ہے اس کے بعد چلہ خورد کے بیس دن گزرنے پر زمین پر ’’ جمبر ‘‘ پڑجاتا ہے یعنی زمین میں گرمی آنا شروع ہوجاتی ہے ۔ پھر چلہ خورد کے دس دن گزرنے کے بعد ہوا میں ’’ جمبر ‘‘ پڑ جاتا ہے یعنی ہوا میں گرمی آنی شروع ہوتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی زمین میں بوئے ہوئے بیجوں میں زندگی آجاتی اور درختوں کی سوکھی ٹہنیوں پر سبزے کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں ۔موسموں کے اس مکمل حساب نے ایک تہذیب کو جنم دیا تھا ۔لوگ روزمرہ ضروریات کی تمام چیزیں گھروں میں جمع کرکے رکھتے تھے اور چلہ کلاں کے پہلے دن سے گھروں سے باہر نکلنا بند کردیتے تھے ۔گھروں میں محفلیں سجاتے تھے ۔ شعر و شاعری اور گانے بجانے کی ان محفلوں میں ہر طرح کے علمی مباحث بھی ہوتے تھے ۔اور ایسے پکوان تیار ہوتے تھے جو اب نایاب ہیں ۔ان میں ’’ شب دیگ ‘‘ سب سے زیادہ شہرت رکھتی تھی ۔ طرح طرح کی کھچڑیاں تیار ہوتی تھیں اور ہریسہ بھی تیار کیا جاتا تھا ۔اس طرح اس دشوار موسم کو بھی تفریح کے طور پر استعمال کیا جاتا تھالیکن اس کے ساتھ ساتھ اسی موسم میں پشمینہ کے ان شالوں پر بیل بوٹے کھلائے جاتے تھے جو سکندر اعظم کے دربار میں فخر کے ساتھ بیگمات اور امراء کی زینت بن جاتے تھے ۔چادریں تیار ہوتی تھیں ۔ نمدے اور قالین تیار ہوتے تھے جن کی شہرت چہار دانگ عالم میں ہوتی تھی ۔ یوں چلہ کلاں میں ہر گھر بیک وقت ایک صنعتی یونٹ بھی بن جاتا تھا اور ایک علمی بیٹھک بھی ۔ صنعتی یونٹ میں گھر کا ہر فرد کام کرتا تھا ۔عورتیں خام مال تیار کرتی تھیں اور مردانہیں شاہکار بنادیتے تھے ۔اور جب تینوںچلے ختم ہوجاتے تھے تو لوگ کھیتوں اور باغوں کا رخ کرتے تھے ۔یوں ایک ایسی تہذیب بنتی تھی جس میں مل جل کر ہی ہر کام ہوتا تھا ۔یہی تہذیب کشمیر کو ایران صغیر بناتی تھی اسی تہذیب نے کشمیریوں کو خود اپنے ہر مسئلے کا حل تلاش کرنے کی تعلیم اور ترغیب دی ۔جانے کون لوگ تھے وہ جنہوں نے موسموں کا حساب تیار کیا تھا ۔ آج سونم لوٹس ہم سے وہی کہتے ہیں جو مشینوں کے آلات اسے دکھاتے ہیں ان کے اپنے اندر کچھ نہیں ہے لیکن اُن لوگوں کے اندر فطرت کے پورے نظام کی سمجھ تھی اس لئے ان کے حساب میں کبھی ذرا بھی فرق نہیں آیا ۔کشمیریوں کے پاس سال کا اپنا کلینڈر بھی تھا جو اونتی ورمن کے دور میں بھی موجود تھا لیکن چلوں کے نام چونکہ فارسی میں ہیں اس لئے موسمی کلینڈر شہمیری دور کے آس پاس تیار ہوا ہوگا جب سرکاری زبان فارسی تھی ۔چونکہ پہلا چلہ چالیس روز کا ہوتا ہے اس لئے اس کا نام ’’ چلہ کلاں ‘‘ یعنی بڑا چلہ رکھا گیا ۔دوسرا اس سے چوٹا یعنی بیس دن کا ہے اس لئے اس کانام ’’ کلاں ‘‘ یعنی چھوٹا ہے اور تیسرا دس دن کا ہے اس لئے اس کا نام بچہ رکھا گیا ہے ۔دنیا کے کسی بھی خطے میں موسموں کا ایسا مکمل کلینڈر نہیں ۔یہ صرف کشمیر ی ذہن اور فکر کی ہی دین ہوسکتا ہے ۔اس نے کبھی موسم کی سختیوں کے ساتھ لڑا نہیں بلکہ ان کا فیض اٹھایا ۔ انہیں اپنے لئے استعمال کیا ۔اس نے ایسے گھر بنائے جو ہر موسم میں اس کا ساتھ دیتے تھے ۔لیکن ایک دن اس نے اپنی انفرادی عظمت کا احساس کھودیا۔فلک بوس پہاڑوں کے اُس پار سے نئی ہوائیں آئیں اور پھر اس کے فکر و عمل کا وطیرہ بدل گیا ۔ اس کا دل بھی بدلا ، قدریں بھی بدل گئیں اور پھر اس کے زوال کا دور شروع ہوا ۔اب وہ کوئی منفرد تشخص نہیں ۔ حالانکہ اسے آج بھی اصرار ہے کہ وہ ایک منفرد تشخص ہے ۔اب اس کی اپنی زبان بھی مررہی ہے ۔ اس کی تہذیب بھی باقی نہیں رہی ہے ۔ اس کی قدریں بھی مررہی ہیں اور اس کی فطرت بھی تبدیل ہوگئی ہے ۔ وہ جو کسی جانور کی موت پر بھی روتا تھا اب انسانوں کی لاشیں دیکھ کر بھی اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔بہت سے لوگ اس کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ کشمیر اور کشمیری کو حالات کی بلا خیزیوں نے بدل کر رکھ دیا لیکن یہ اس لئے درست نہیں ہے کہ حالات صرف کمزور اور نااہل قوموں کو بدل دیتے ہیں اگر حالات کشمیر ی کو بدل سکتے تو افغان دور میں بدل دیتے ۔ سکھ اور ڈوگرہ دور میں بدل دیتے ۔ان ادوار میں جب کشمیری سے بیگار بھی لیا جاتا تھا اس پر اتنا ہی فرق پڑا کہ وہ غلامی کی زندگی جینے پر مجبور ہوا مگر ان ادوار میں بھی اس کے فکری ، تہذیبی اور ثقافتی ارتقاء کا عمل کہیں بھی نہیں رکا ۔افلاس اور بے بسی نے اس کی خودداری کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے اور زیادہ مضبوط اور مستحکم کیا ۔
جب اقتدار و اختیار خود اس کے ہاتھ میں آیا تو اس کی اپنی بلندیاں اسے پستیاں نظر آئیں اوروہ نیچے اتر آیا ۔ اتنا نیچے کہ اب اس کا اپنا کوئی نشان نہیں ۔اب تین دن برف گرتی ہے تو اس کے جینے کے لالے پڑجاتے ہیں ۔ قومی شاہراہ بند ہوجاتی ہے تو اس کے بھوکوں مرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے کیونکہ اب وہ اپنے لئے سبزی بھی پیدا نہیں کرتا ۔اس نے جو اپنے لئے بویا اب وہ وہی کاٹ رہا ہے ۔ اپنے بوئے ہوئے کانٹے اسے زخمی کررہے ہیں اور وہ رورہا ہے ۔