ڈاکٹر پروین شرما
یقیناً آپ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے رات کے کھانے کے بعد اپنے دانت برش کرنے والے ہوں گے۔ کیا آپ بھی لوگوں کے قریب جانے سے اس لیے گریز کرتے ہیں کیونکہ آپ اپنے منھ سے آنے والی بدبو کی وجہ سے پریشان ہیں؟تو پریشان ہونا چھوڑ دیں کیونکہ یہ عام مسئلہ ہے اور اس کے لیے حل بھی موجود ہیں۔دانتوں کو صاف ستھرا رکھنا بیکٹیریا کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والی جنگ جیسا ہے۔ یہ ہمارے دانتوں کے بیچ میں موجود جگہ اور ہمارے مسوڑھوں اور ہماری زبان پر موجود ہوتے ہیں۔اگر آپ ان بیکٹیریا کو نکالیں گے نہیں تو یہ تعداد میں کئی گنا تک بڑھ سکتے ہیں اور ہمارے مسوڑھوں کو شدید نوعیت کی بیماری لگ سکتی ہے۔
سانس سے بدبو آنے کی وجہ کیا ہے؟دنیا بھر میں، سانس کی بدبو کی اہم وجوہات میں سے ایک پیریڈونٹائٹس ہے جس میں مسوڑھوں کے ٹشوز خراب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف برمنگھم میں دانتوں کے شعبے سے منسلک ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر پراوین شرما کے بقول اکثر نوجوان مسوڑھوں کی کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔
جبکہ سانس سے آنے والی بو کا 90 فیصد ذمہ دار ہمارا منھ ہوتا ہے جبکہ 10 فیصد کی اور وجوہات ہوتی ہیں۔‘ڈاکٹر شرما کا کہنا ہے کہ اگر ذیابیطس کو کنٹرول نہ کیا جائے تو مریض کے منھ سے ایک خاص قسم کی بدبو آتی ہے۔اگر کوئی شخص معدے کے مسائل کا شکار ہے یا اسے تیزابیت کا مسئلہ ہے تو ایسے میں سانس سے بدبو آ سکتی ہے۔اگر آپ اپنے دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان موجود بیکٹیریا کو صاف نہیں کرتے تو اس سے انتہائی چھوٹے زخم بنتے ہیں اور بعد میں مسوڑھوں سے خون بہہ سکتا ہے۔یہ دراصل مسوڑھوں کی بیماری کا ابتدائی مرحلہ ہے،جو ٹھیک ہو سکتا ہے۔گنگیوائٹس مسوڑھوں کی سوزش ہے اور جب آپ برش کر رہے ہوتے ہیں تو آپ کے مسوڑھے سرخ، سوجے ہوئے ہوتے ہیں اور ان سے خون بہہ رہا ہوتا ہے۔یہ صورتحال آگے چل کر پیروڈونٹائٹس کی شکل اختیار کرے گا جو کہ مسوڑھوں کے انفیکشن کی بیماری ہے۔ اگر یہ برقرار رہے تو وہ ہڈی دانت کو چھوڑ دیتی ہے جس کی مدد سے دانت کھڑا رہتا ہے۔اس لئےبرش کرتے وقت اپنے مسوڑھوں کو چیک کریں کہ کیا یہ سرخ ہیں، ان میں سوجن ہوئی ہے یا ان سے خون بہہ رہا ہے ، کیونکہ ابھی بھی آپ کے پاس کچھ کرنے کے لیے وقت ہے۔ایک چیز جو مریض کرتے ہیں وہ یہ کہ وہ خراب مسوڑھوں کو برش کرنے سے گریز کرتے ہیں، کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ ہم انھیں اور نقصان پہنچا رہے ہیں، ہم کچھ غلط کر رہے ہیں اس لیے ان سے خون بہہ رہا ہے۔لیکن درحقیقت اس کے برعکس بات ہے، آپ کو خون بہتے مسوڑھوں کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ مجھے اور اچھے طریقے سے صاف کرنا چاہیے۔بہترین تو یہ ہے کہ آپ شیشے کے سامنے کھڑے ہوں اور ٹھیک طور سے توجہ کے ساتھ اپنے دانت برش کریں۔ بہت سے لوگ جو دائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں وہ اپنے بائیں جانب والے دانتوں کو زیادہ دیر برش کرتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ جو بائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں وہ انپی دائیں جانب کے دانتوں کو زیادہ دیر تک برش کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے جس جانب کم توجہ دی جاتی ہے اس جانب سوزش زیادہ ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر شرما مشورہ دیتے ہیں کہ پہلے دانتوں کے اندر کی صفائی ضروری ہے۔ اچھے انٹرڈینٹل برش کا استعمال کریں۔ اپنے ٹوتھ برش کو منھ میں ہلاتے ہوئے ایک ربط رکھنا چاہیے اور جلد بازی نہیں کرنی چاہیےاور اپنے دانتوں کو برش کرنے کا کم از کم وقت دو منٹ ہے۔بہت سے لوگ اپنے ٹوتھ برش کو دانت کے 90 ڈگری زاویے سے پکڑ کر برش کرتے ہیں اور آگے پیچھے زور سے ہلاتے ہیں، لیکن یہ طریقہ مسوڑھوں میں خرابی کی وجہ بن سکتا ہے۔ٹوتھ برش کو دانت کے تقریباً 45 ڈگری کے زاویے پر پکڑیں اور آہستہ آہستہ برش کریں۔ برش کے بالوں کو نچلے دانتوں پر مسوڑھوں کی لکیر کی طرف اور اوپری دانتوں پر مسوڑھوں کی لائن کی طرف اوپر کی جانب موڑ کر برش کریں۔ ڈاکٹر شرما کا کہنا ہے کہ ’آپ کو ناشتے سے پہلے اپنے دانت صاف کرنے چاہئیں اور کچھ ایسا کھانا جس میں ایسڈ ہو کھانے کے بعد دانت برش نہیں کرنے چاہئیں۔ اس کی وجہ سے آپ کے دانتوں میں موجودو معدنی مواد اینامل اور ڈینٹائن نرم پڑ سکتے ہیں۔جب آپ سو جاتے ہیں تو آپ کا لعاب دہن کم ہو جاتا ہے اور اس سے ہوتا یہ ہے کہ رات کے وقت بیکٹیریا آپ کے دانتوں کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ تو پھر اگر آپ اپنے دانت دن میں ایک ہی بار صاف کرتے ہیں تو بہترین وقت رات کا وقت ہے۔برش کرنے کے بعد تھوکیں ضرور لیکن منھ نہ دھوئیں تاکہ ٹوتھ پیسٹ اور فلورائڈ منھ میں رہ سکے تاکہ دانتوں کی خرابی کو روکنے میں مدد مل سکے۔اگر آپ کو مسوڑھوں کی بیماری کی ابتدائی علامات کا سامنا ہے تو ماؤتھ واش بھی استعمال کرنے کے قابل ہے، کیونکہ یہ پلاک (دانت صاف نہ کرنے کی وجہ سے دانتوں پر بننے والی ایک تہہ) اور بیکٹیریا کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔تاہم برش کرنے کے بعد اسے استعمال نہ کریں کیونکہ یہ ٹوتھ پیسٹ میں موجود فلورائڈ کو بھی واش کر سکتا ہے۔اگر مسوڑھوں کی سوزش بڑھتی ہے تو آپ دیکھیں گے کہ دانتوں کے درمیان خالی جگہیں بننا شروع ہو جاتی ہیں اور جوں جوں دانتوں کو پکڑنے والی ہڈی ختم ہوتی جاتی ہے، دانت ڈھیلے ہو سکتے ہیں یعنی ہلنے لگتے ہیں۔اگر صورتحال کنٹرول نہیں ہوتی، ہڈیوں کا دانتوں کی سپورٹ چھوڑ دینا اس لیول کا ہو سکتا ہے کہ شاید آپ کے دانت گر جائیں۔ آپ شاید مسلسل منھ کی ناگوار بُو کو محسوس کریں۔ اگر آپ ان علامات کو دیکھیں تو فوری طور پر اپنے دانتوں کے ماہر سے رابطہ کریں۔آخر میں یہاں ہم آپ کچھ ٹپس دیتے ہیں جس سے آپ اپنی سانس کو مہکا سکتے ہیں۔ بہت زیادہ پانی پیئیں کیونکہ بیکٹیریا تب زیادہ ہو جاتے ہیں جب آپ کا منھ خشک ہوتا ہے۔(بی بی سی)
�����������������