ویب دیسک
اس جدید دور میں ماہرین جدت سے بھر پور ایسی چیزیں تیار کررہے ہیں جن کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جائے ۔اس ضمن میں سائنس دانوں نے گھر کی اندرونی ہوا کوصاف رکھنے کے لیے برقی لیمپ پر لگائی جانے والی شیڈ تیار کی ہے جو کمرے میں ہوا کو آلودگی سے صاف کرتی ہے۔ اس شیڈ کو جنوبی کوریا کی یونسیائی یونیورسٹی نےتیار کیاہے۔
ٹٹانئیم ڈائی آکسائیڈ اور پلاٹینم سے بنی لیمپ شیڈ کوٹنگ گھر کے اندر مضر کیمیائی بخارات تلف کرسکتی ہے۔ اگرچہ اس میں پلاٹینم کی مقدار کم ہے لیکن جیسے ہی گھر میں موجود کیمیائی اجزا اس سے ٹکراتے ہیں وہ تیزی سے ختم ہوتے رہتے ہیں یا غیرمضر اجزا میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
اس عمل میں بلب کی حرارت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ابتدائی تجربات میں معلوم ہوا کہ بلب کی گرمی جب 100 درجے سینٹی گریڈ سے بڑھی تو ایسی ٹیل ڈی ہائیڈ گیس (ایک عام گھریلو آلودہ کیمیکل) کو ایسٹک ایسڈ میں بدل دیا اور اس عمل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی معمولی مقدار پیدا ہوئی۔ لیکن اب گھروں میں ایل ای ڈی بلب استعمال ہوتے ہیں۔
اسی لیے ماہرین اگلے مرحلے میں ایل ای ڈی والے لیمپ پر تجربات کریں گے، مگر یہاں حرارت کی بجائے روشنی سے کام لیا جائے گا، تاہم قیمتی پلاٹینم کو بھی تانبے اور فولاد سے بدلا جاسکتا ہے ،کیوں کہ تانبہ بھی زبردست جراثیم کش اثرات رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایجاد سے اتنا ضرور ثابت ہوا ہے کہ روایتی لیمپس سے گھر کے اندر کی آلودگی ختم کی جاسکتی ہے۔
ادھرسوئٹرز لینڈ کے شہر لوزان میں قائم فیڈرل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے مردار ای کولی بیکٹیریا سے بجلی بنانے کا کام یاب تجربہ کیا ہے۔
سائنس دانوں کی ٹیم نے ایکسٹرا سیلولر الیکٹرون ٹرانسفر (ای ای ٹی) نامی طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے بیکٹیریا میں رد و بدل کی، تاکہ ان کو انتہائی مؤثر برقی مائیکروب بنایا جاسکے۔ یہ عمل روایتی طریقہ کار کی نسبت برقی کرنٹ کی پیداوار میں تین گنا اضافہ کر تا ہے۔
انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر آرڈیمِس بوغوسین کا کہنا ہے کہ محققین نے ای کولی بیکٹیریا میں رد و بدل کر کے بجلی پیدا کی۔ اگرچہ قدرتی طور پر بجلی پیدا کرنے والے یہ غیر معمولی مائیکروب ایسا صرف مخصوص کیمیا کی موجودگی میں کر سکتے ہیں۔ ای کولی متعدد جگہوں پر بڑھ سکتے ہیں ،جس کا مطلب ہے کہ مختلف ماحول بشمول گندے پانی میں بجلی بنائی جاسکتی ہے۔
�������������?����