عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//بھارت کے کنزیومر انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں جہاں بانیوں کی شیئر ہولڈنگ مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے، وہیں پی ٹی ایم (Paytm)ایک نمایاں استثنا کے طور پر ابھرا ہے۔ عوامی طور پر دستیاب اعداد و شمار اور حالیہ ڈرافٹ فائلنگز کے مطابق، پی ٹی ایم کے بانی وجے شیکھر شرما بھارت کی بڑی اور لسٹڈ ٹیک کمپنیوں میں سب سے زیادہ ایکویٹی رکھنے والے بانیوں میں شامل ہیں۔ ان کی کل حصص داری تقریبا 19.3 فیصد ہے، جس میں ریزیلینٹ ایسیٹ مینجمنٹ کے ذریعے رکھی گئی شیئر ہولڈنگ بھی شامل ہے۔یہ شرح بھارت کے دیگر بڑے ای کامرس، فوڈ ڈیلیوری، فِن ٹیک اور کنزیومر انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کے بانیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جہاں عموما بانیوں کی ملکیت کم سنگل ڈیجٹ فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں متعدد فنڈنگ رانڈز، شیئر فروخت، اور ای ایس او پیز کا اجرا شامل ہیں۔موازنہ کے طور پر، فون پے (PhonePe) کے بانی سمیر نگم اور راہول چاری کے پاس مجموعی طور پر تقریبا 5فیصد حصص ہیں۔ فرسٹ کرائے (FirstCry)کے بانی سپم مہیشوری کے پاس تقریبا 5.19 فیصد، جبکہ زوماٹو کی پیرنٹ کمپنی ایٹرنل (Eternal) کے بانی دیپندر گوئل کے پاس تقریبا 3.83 فیصد حصص موجود ہیں۔اسی طرح سوئگی (Swiggy) کے بانی سری ہریشہ ماجیٹی کے پاس تقریبا 4.92 فیصد، ڈیلہوری (Delhivery) کے بانیوں کے پاس تقریبا 3.14 فیصد، لینزکارٹ (Lenskart) میں بانی کی حصص داری 8.78 فیصد، جبکہ پالیسی بازار (Policybazaar) کے بانیوں کے پاس تقریبا 4.61فیصد شیئر ہولڈنگ ہے۔اس پس منظر میں پی ٹی ایم کے بانی کی تقریبا 19.3 فیصد حصص داری کمپنی کو بھارت کی بڑی، لسٹڈ اور اسکیلڈ ٹیک کمپنیوں میں ایک منفرد مقام دیتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ تیز رفتار ترقی کے لیے شیئر ڈائیلیوشن ایک فطری عمل ہے، تاہم عوامی سطح پر درج بھارتی ٹیک کمپنیوں میں اتنی زیادہ بانی ملکیت اب شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کی ملکیتی ساخت بانی اور عوامی شیئر ہولڈرز کے درمیان طویل المدتی مفادات کے ہم آہنگ ہونے کا واضح اشارہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کمپنی منافع، آپریٹنگ لیوریج اور مستحکم کیش فلو پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔پی ٹی ایم کو دیگر کمپنیوں سے ممتاز کرنے والا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وجے شیکھر شرما نے ماضی میں رضاکارانہ طور پر اپنے کچھ ای ایس او پیز ملازمین کے لیے مختص کیے، تاکہ وسیع پیمانے پر ملازم دولت سازی کو فروغ دیا جا سکے۔ ماہرین اس اقدام کو کارپوریٹ گورننس کے لحاظ سے مثبت اور غیر معمولی قرار دیتے ہیں۔سرمایہ کاروں کے نزدیک بانی کی ملکیت اب ایک اہم پیمانہ بن چکی ہے، خاص طور پر بھارت کے بالغ ہوتے ہوئے ٹیک سیکٹر میں۔ ایسے ماحول میں جہاں گورننس، شفافیت اور طویل المدتی نظم و ضبط پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، پی ٹی ایم کا ملکیتی ماڈل اسے بھارتی کنزیومر انٹرنیٹ کمپنیوں میں ایک نمایاں اور منفرد مقام فراہم کرتا ہے۔