موجودہ دنیاکے کارپوریٹ ماحول میں کوئی بھی تنظیم جس کسی مقصد کے لیے اٹھ رہی ہے، اُس کا ایک بنیادی اصول Professionalism کہلاتاہے۔ اُردو میں اسے ’پیشہ ورانہ مہارت ‘کے معنی میں لیا جا سکتا ہے۔ پیشہ ورانہ کردار انسان کا سوٹ بوٹ اور ٹپ ٹاپ رہنا نہیں ہے، بلکہ انسان کا اپنے کام سے کام رکھنا ہے۔ آپ کس طریقے سے اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، تنظیم نے آپ کو جس کام کے لیے تفویض کیا ہے، آپ وہ کام تنظیم کے اصول و ضوابط کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کریں، تنظیم میں کام کرنے کے دوران آپ اپنی ذاتی زندگی کو تنظیم کی زندگی میں ضم کردیں اور تنظیم کے اہداف و مقاصدکو حاصل کرنے میں دلچسپی دکھائیں، یہ آپ کے پیشہ ورانہ ہونے کا بین ثبوت ہے۔
Professionalism کے اس مفہوم کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم ایک مثالی مسلمان کی بات کریں، تو اُسے بدرجہ اُتم اپنے اندر پیشہ ورانہ کردار(Professional Character) اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس سے بڑھ کر اگر کوئی تنظیم مسلمانوںکے اندر کام کر رہی ہو اُسے سب سے زیادہ زور اِسی چیز پر دینا چاہیے کہ کیسے اُس کے کارکنا ن کے اندر ایسی خصوصیات پیدا ہوجائیں کہ وہ تنظیم کے اصول و ضوابط کے مطابق اپنا رول پیش کریں ۔ قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرشتوں کے ساتھ مکالمہ کرنے کے دوران انسانوں کو یہ کہہ کر خطاب فرمایا ہے : ’’تم لوگوں کو میں نے بحیثیت اپنا نائب اس دنیا میں مقرر کیا ہوا ہے۔‘‘(البقرہ، ۲:۳۰)
نائب ہونے کی خصوصیت یہ ہے کہ حکم میرا ہے اور عملانا تمہیں ، قوانین میرے ہیں اور علم بردار تم، پالیسی میری اور اپنانے والے تم۔ المختصر، نیابت یہ ہے کہ کلام میرا ہے اور زبان تمہیں استعمال کرنی ہے۔ نیابت یہ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ میں خود ہوںاور(ایک مخصوص ماحول میں ) اختیارات تمہیں دئے گئے ہیں، نیابت کا مطلب یہ ہے کہ اختیار تمہیں بخشا گیا ہے لیکن لوازم میرے ہیں۔ ایک اور جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کی خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم لوگ’کہو کہ میری عبادت، میرے مراسم قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اُس مالک کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے‘(الانعام، ۶:۱۶۲)۔ مطلب یہ کہ میرا اس دنیا میںکچھ بھی نہیں ہے۔ میری جان ، میرا مال، میرے اولاد ، میرا حسب، میرا نسب، میری عزت، میری عفت، میرا اسٹیٹس، غرض سب کچھ، ایک تو اللہ کا دیا ہوا ہے،د وسرا اللہ ہی کے لیے ہے۔ اب اگر سر تا پا ہمارا سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے اور ہمیں یہ سب کچھ اسی کے بتائے ہوئے راستے میں خرچ کر نا ہے، تو یہاں پر سب سے پہلے انسان کو اپنی نجی ذات کا کوئی تصور ہی نہیں ہونا چاہیے ۔ میں اس دنیا میں جو کچھ کر رہا ہوں ، وہ ایک تو اللہ کے لیے ہو، دوسرا ، اُسی کے بتائے ہوئے ضابطے کے مطابق ہو ۔ یہی Professionalism کہلاتا ہے۔ یہاں پر ایک تکنیکی نقطہ سمجھنے کے لائق ہے کہ اب اگر کسی انسان نے حاصل شدہ اختیارات کو مالک کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کے مطابق استعمال میں نہیںلائے یا اس کے بر خلاف استعمال کئے تو یہی معصیت کہلاتا ہے۔ بے شک انسان کو ارادہ و اختیار کی قوت بخشی گئی ہے، لیکن اپنے اختیارات کو مالک کے بتائے ہوئے manualکے مطابق استعمال کرنا ہی Professionalismکہلاتا ہے۔
ہم اکثر اپنی زندگیوں میں اس محاورے کا استعمال کرتے ہیں کہ ــ’’Don't take it personal‘‘۔ ایک مسلمان کے لیے یہ محاورہ لایعنی ہے۔ کیوں کہ جب اُس کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں ، تو personalلینے کی بات کہاں سے آگئی۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ انبیاء، صدیقین، شہداء، اور صالحین اپنے مالک کے مشن کی آبیاری کرنے کے دوران اپنی نجی ذات کو مالک کی ذات میں گم کر دیتے ہیں، حالاںکہ ایک مخصوص ماحول میں ارادے و اختیار کی طاقت انہیں بھی بخشی گئی ہے اور جسے وہ اپنی ذاتی مرضی کے مطابق استعمال میں بھی لاسکتے ہیں ۔ لیکن ذاتی زندگی کو گم کر دینا اور کسی اور ہستی کے لیے کام کرنا، اسی کے لیے گالیاں کھانا، اسی کے لیے لعن طعن سننا، اسی کے لیے اذیتیں برداشت کرنا، اسی کے لیے مصیبتیں جھیلنا، اسی کے لیے قتل ہونا اُن کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے ۔ ایسی تکالیف اور ایسی قوتِ برداشت اپنے اندر پیدا کرنے کے بعد ان برگزیدہ ہستیوں کا وطیرہ بلا کم و کاست وہی کچھ ہوتا ہے جس کا حکم انہیں اپنے مالک کی طرف سے ملتا ہے۔ یا اسی طرح سے عزت و شہرت حاصل کرنا یا مال و دولت کما لینا بھی پھر اللہ ہی کے لیے ہوتا ہے۔ یہی وطیرہ Professionalism کے اکمل درجے کی مثال ہے۔
مسلمان جب پیشہ ورانہ بن جاتا ہے، تو پھر وہ تمام چیزوں سے بے پرواہ ہوجاتا ہے۔ کمپنی کے اصول و ضوابط کو تسلیم کرنے کے بعد جب آپ کمپنی کے جملہ معاملات کو نپٹانے میں تن دہی سے کام کرتے ہیں، تو آپ کے اکائونٹ میں مہینے کے آخر میں آپ کی کمائی خود بخود پہنچائی جاتی ہے۔ آپ کو اپنا کام مخلصی سے انجام دینے کے بعد یہ پرواہ نہیں رہ جاتی ہے کہ کمپنی کا کیا ہوا؟ وہ جو دوسرا ملازم تھا کیا اس نے مطلوبہ کام کرنے کے بعد اپنی تنخواہ وصول کر لی؟ نہیں ، بالکل نہیں، بلکہ آپ نے اپنے کام سے کام رکھ کر اپنا کام انجام دیا ہوتا ہے۔ لیکن ہاں، کمپنی یہ ضرور دیکھتی ہے کہ آپ کے کام سے اُس کا کتنا منافع بڑھ گیا، آپ کو جن صلاحیتوں کی بنا پر کمپنی میں ملازمت ملی تھی، کیا آپ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہو، آپ کا اپنے ساتھیوں سے کیسا سلوک ہے، کیا آپ کمپنی کے مشمولات میں خود کو ضم کر رہے ہیں، وغیرہ ؟ اصطلاحی معنوں میں اسے Performance Appriasal کہتے ہیں۔ اگر ان سوالات کے جوابات مثبت طریقے سے اخذکئے گئے، تو آپ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، آپ کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، آپ کو کسی بڑی ذمہ واری پر فائز کیا جاتا ہے، آپ کو مبارک بادیاں مل جاتی ہیں، وغیرہ۔ لیکن اگر ان سولات کے جوابات منفی حاصل کئے گئے تو آپ کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کاروائی انجام دی جا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو کمپنی سے نکال باہر ہی کر دیا جائے گا یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے ۔
بعینہ یہی صورتحال اللہ کی اس کائنات میں کار فرما ہے۔ کمپنی میں آپ صرف ایک مخصوص وقت و عمل کے لیے جوابدہ ہوتے ہو، لیکن اللہ کی کائنات میں آپ کو ہر لمحہ اور ہرآن جواب دہ رہنا پڑتا ہے۔ آپ سے سب سے پہلے جو’ الست بربکم؟‘ کے سوال کا جواب جب ’قالو بلیٰ‘ میںحاصل کیا گیا ، تو پھر آپ کے متعلق یہ کہا گیا کہ ’انی جاعل فی الارض خلیفہ‘۔ ادھر سے جب آپ نے کہا کہ ’ان الصلاتی ونسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین‘ تو اب آپ نے اپنی تمام تر صلاحیتوں و حیثیتوں کو اُن اہداف و مقاصد کے لیے استعمال میں لانا ہے، جن کا آپ کو وقت وقت پر بولا جائے گا۔ پہلے کہا کہ اب اس دنیاوی زندگی میں بھی اپنے رب کا (قولی و فعلی)دعویٰ پیش کرو، مالک کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کو بھی سچ مانو، آپ کی دنیاوی زندگی کے انتظام و انتصرام کے لیے مالک نے جو مختلف دستاویزات بھیجی ہیں، اُن کے حق ہونے کا بھی اقرا ر کرو۔ اس کے بعد کہا گیا کہ اب نکلو اپنے گھر سے باہر اور دیکھو کہ آیا یہ سارا نظام مالک کے فرمودات کے مطابق چل رہا ہے یا نہیں۔ اگر چل رہا ہے تو ٹھیک ہے اور اگر کہیں ہیج ہے تو تمہیں اُسے میرے نائب کی حیثیت سے ٹھیک کر نا ہے۔ اگر وہ آپ کی کوششوں سے ٹھیک ہوجائے تو مرحبا، اور اگر ٹھیک نہ ہو جائے تو تمہیں کوئی چھٹی نہیں ہے، بلکہ اپنے تن من اور دھن سے اُسے ٹھیک کرتے کرتے دم لینا ہے۔ اس کے بعد جب آپ کو تنخواہ دینے کی باری آئے گی تو ہم تمہیں معاہدے کے مطابق انعام دیں گے اور آپ اپنی دائمی زندگی بڑے ہی شان و شوکت طریقے سے گذاریں گے۔ لیکن اگر آپ نے ہماری terms and conditions کوملحوظ نظر نہیں رکھا، تو اس کا بھی تمہیں سزا وار ٹھہرایا جائے گا۔
Professionalism کے اس قرآنی تصور کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ بات بھی بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ غصہ کرنا کیوں منع کر دیا گیا ہے؟ گالم گلوچ کو کیوں گناہ قرار دیا گیا ہے؟ حصد، ضد، کینہ اور بغض کو کیوں روحانی بیماریاں کے نام سے پکارا گیا ہے؟ جذبات پر قابو رکھنا کیوں مقصود ہے؟ صلح رحمی و حلیمی کو کیوں اعلیٰ پایہ کا کردار ٹھہرایا گیاہے؟ انسان کاجب انسانوں کے ساتھ تعلق بڑھ جاتا ہے تو اُسے ان تمام چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ تبھی جاکے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ’خلق عظیم ‘ کی صفت کا پرتَو کہلائے گا۔انسانی معاملات میں اور تنظیمی امورات میں بھی کھبی کھبار رساکشی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ نوبت پھر حذباتوں کے طوفان میں ایک دوسرے پر نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر پہنچ جاتی ہے۔ رساکشی کے اس ماحول میں تھوڑا سا رُک کر سوچنا چاہیے کہ اگر میں نے مالک کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کے مطابق جواب دیا ہے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ جس کے پس پردہ مجھے پھر جذبات کے ہیجان میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ غصہ کرنے اور ایک دوسرے پر کیچڑ اُٹھانے کی ضرورت نہیں۔ غصہ دراصل انسان اپنی ذاتی حیثیت کے مطابق کرتا ہے۔ غصہ کرتے وقت یا کوئی کج روی کرتے وقت مالک کی پالیسی کو پھلانگ دیا جاتا ہے۔ کہا اتنا ہی جا سکتا ہے کہ ’بھائی! میں اُس کمپنی کے اصول و ضوابط کے مطابق آپ سے بات کر رہا ہوں، جس کا مالک رب العالمین ہے۔ اسی نے مجھے آپ سے یہ کہنے اور اس طرح کہنے کو کہا ہے۔ آپ چاہیں مجھے کچھ بھی کہیں ، میرا کلام وہی ہوگا، جس کا مجھے حکم دیا گیاہے، اس پر آپ اگر میری ذاتی حیثیت کو کوئی بھی گزند پہنچائیں گے ، مجھے کوئی فرق نہیں ،بلکہ مجھے اس کا بھی اجر اپنے مالک کے ہاں الگ سے ملنے والا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ مالک کے لئے( کا)ہے اور اُسی کی طرف ہمیں بالآخر واپس لوٹنا ہے(البقرہ، ۲:۱۵۶) ‘۔
(کالم نگار جامعہ کشمیر کے شعبہ سماجی ورک کے محقق ہیں)
ای میل۔[email protected]