سمت بھارگو
راجوری//بی آر او کی جانب سے جاری برف ہٹانے کی مہم میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے شوپیاں اور پونچھ کی سمت سے کام کرنے والی ٹیمیں بالآخر پیر کی گلی کے مقام پر آپس میں مل گئیں، جو جموں صوبہ اور وادی کشمیر کو جوڑنے والی اس اہم بین الاضلاعی شاہراہ کا مرکزی نقطہ تصور کیا جاتا ہے۔حکام کے مطابق شدید برفباری کے باعث کئی ماہ سے بند اس اہم رابطہ سڑک کو بحال کرنے کے لئے بی آر او نے دونوں اطراف سے بیک وقت برف صاف کرنے کا کام شروع کیا تھا۔ ایک ٹیم شوپیاں کی جانب سے جبکہ دوسری پونچھ کی سمت سے مسلسل پیش قدمی کرتے ہوئے پیر کی گلی کی جانب بڑھ رہی تھی۔ طویل اور دشوار مرحلے کے بعد دونوں ٹیموں کا آپس میں مل جانا ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔بی آر او حکام نے بتایا کہ فی الحال سنگل لین تک برف ہٹانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد اب سڑک کو مزید کشادہ بنانے کا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر تنگ مقامات اور خطرناک موڑوں کو وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ گاڑیوں کی دو طرفہ آمد و رفت کو محفوظ بنایا جا سکے۔حکام کے مطابق سڑک کی کشادگی اور ضروری بحالی کے کام آئندہ دو سے تین دن تک جاری رہیں گے۔ اس کے بعد سڑک کو ٹریفک کے لئے بحال کرنے کا امکان ہے، تاہم حتمی فیصلہ مکمل تکنیکی معائنے اور حفاظتی جائزے کے بعد ہی لیا جائے گا تاکہ مسافروں کی جان و مال کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہو۔یہ اہم شاہراہ، جو گزشتہ برس بی آر او کے دائرہ اختیار میں لائی گئی تھی، پیر پنجال پہاڑی سلسلے میں شدید برفباری کے باعث عموماً پانچ سے چھ ماہ تک بند رہتی ہے۔ موسم سرما کے دوران بھاری برف جمع ہونے سے نہ صرف ٹریفک متاثر ہوتی ہے بلکہ جموں اور کشمیر کے درمیان زمینی رابطہ بھی محدود ہو جاتا ہے۔اس سال پہلی مرتبہ بی آر او نے موسم سرما کے دوران ہی برف ہٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے، جسے خطے میں سال بھر رابطہ بحال رکھنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور تاجروں نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سڑک کی جلد بحالی سے نہ صرف سفر آسان ہوگا بلکہ تجارتی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پیر کی گلی روڈ کی بروقت بحالی سے پونچھ، راجوری اور شوپیاں اضلاع کے درمیان رابطہ مضبوط ہوگا اور موسم سرما میں پیش آنے والی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی طرز پر بروقت اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ یہ اہم شاہراہ سال بھر قابلِ استعمال رہ سکے۔