آئی جی کشمیراعلیٰ سطحی اجلاس میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ
سرینگر//انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر زون، وی کے بردی نے جمعہ کے روز یہاں ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں وادی بھر میں ہونے والی آئندہ کی تقریبات کے لیے کیے گئے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی۔اس اجلاس میں پولیس، سی آر پی ایف ، بی ایس ایف، ایس ایس بی، آئی ٹی بی پی ، سی آئی ڈی اور فوج کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اگرچہ پولیس نے مخصوص تقریبات کا ذکر نہیں کیا، تاہم یہ جائزہ میٹنگ گزشتہ سال پہلگام حملے کی پہلی برسی، مئی کے اوائل میں سرکاری دفاتر کی جموں سے سرینگر منتقلی۔
عازمینِ حج کی روانگی کے حوالے سے سیکیورٹی اور سہولیات کے پس منظر میں انتہائی اہم ہے۔آئی جی پی کشمیر نے افسران کو حساس معاملات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی۔ انہون نے کہا کہ حساس مقامات اور اہم تنصیبات بشمول مشہور سیاحتی مقامات پر نگرانی مزید سخت کی جائے۔ساتھ ہی تمام اضلاع میں فورسز کے گشت میں اضافہ کیا جائے اور بین الاضلاع سرحدوں پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ مشتبہ نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ضلعی سربراہان کو ہدایت دی گئی کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کریں تاکہ امن و امان کو متاثر کرنے والی کسی بھی قسم کی غلط معلومات یا افواہوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔سرینگر شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور عوام کی سہولت کے لیے ایک جامع ٹریفک پلان نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ نیشنل ہائی ویز اور وادی کے حساس علاقوں میں ‘کارڈن اینڈ سرچ’ (محاصرہ اور تلاشی) کی کارروائیوں کو تیز کرنے کا حکم دیا گیا۔ بات چیت میں موجودہ سیکورٹی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے اور اہم اور حساس مقامات پر اہلکاروں کی تعیناتی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔آئی جی پی کشمیر نے مزید کہا کہ کسی بھی مشکوک نقل و حرکت کو روکنے کے لیے بین الاضلاعی حدود کے ساتھ کڑی نگرانی کی جائے۔ آئی جی پی کشمیر نے خاص طور پر وادی بھر کے حساس علاقوں اور قومی شاہراہوں پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کو تیز کرنے پر زور دیا۔میٹنگ کا اختتام تیاری، کوآرڈینیشن اور ردعمل کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھنے کے پختہ عزم کے ساتھ کیا گیا تاکہ آنے والے تمام واقعات کے ہموار اور کامیاب انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔