سرحد پار سازش، مقامی سہولت کاری اور جدید شواہد پر مقدمہ چلانے کو منظوری
یو این ایس
سرینگر//پہلگام کے بیسرن علاقے میں گزشتہ سال پیش آئے حملے کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاںاین آئی اے کی خصوصی عدالت نے لشکر طیبہ/دی ریزسٹنس فرنٹ سے وابستہ ایک مبینہ پاکستانی ہینڈلر اور دو مقامی افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے کافی ابتدائی مواد موجود ہے۔یہ حکم خصوصی جج پریم ساگرنے این آئی اے بنام ساجد جٹ و دیگر کیس میں سنایا، جو 22 اپریل 2025 کو پہلگام کے سیاحتی مقام بیسرن میں ہوئے حملے سے متعلق ہے۔ استغاثہ کے مطابق یہ حملہ ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی تھی، جسے سرحد پار سے ہدایات کے تحت انجام دیا گیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مرکزی ملزم السیف اللہ جٹ عرف ساجد جٹ، جسے “لنگڑا” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک پاکستانی کمانڈر ہے جو مبینہ طور پر پورے آپریشن کی منصوبہ بندی، رہنمائی اور رابطہ کاری میں ملوث رہا۔ این آئی اے کے مطابق اس نے خفیہ مواصلاتی ذرائع کے ذریعے حملہ آروں کو جغرافیائی کوآرڈینیٹس، راستوں کی معلومات اور لاجسٹک ہدایات فراہم کیں۔مقامی سطح پر بشیر احمد، جو کہ ایک مرکبان بتایا گیا ہے، اور پرویز احمد پر الزام ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر مسلح ملی ٹنٹوں کو پناہ فراہم کی۔ استغاثہ کے مطابق 21 اپریل 2025 کو بشیر احمد نے تین مسلح افراد کو دیکھنے کے باوجود سکیورٹی فورسز کو اطلاع دینے کے بجائے انہیں اپنے بھتیجے پرویز احمد کے جھونپڑے تک پہنچایا۔ وہاں کھانا فراہم کیا گیا اور کئی گھنٹوں تک انہیں چھپایا گیا۔مزید انکشاف ہوا کہ ملی ٹنٹوںنے اپنے قیام کے دوران امرناتھ یاترا، سکیورٹی کیمپوں اور فورسز کی نقل و حرکت سے متعلق گفتگو کی، جبکہ اپنے ہینڈلر کو “علی بھائی” کے نام سے مخاطب کیا۔ روانگی سے قبل انہیں راشن، پکا ہوا کھانا، مصالحہ جات اور دیگر سامان بھی فراہم کیا گیا، جبکہ ایک ملی ٹنٹ نے مبینہ طور پر 3000 روپے بھی ادا کئے۔
این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ 22 اپریل کو یہی ملی ٹینٹ بیسرن پہنچے اور حملہ انجام دیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کارروائی مقامی سہولت کاری اور پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ مزید یہ کہ 20 اکتوبر 2024 کو گگن گیرمیں ہونے والے حملے میں استعمال ہونے والا ایم-4 ہتھیار بھی اسی کارروائی میں استعمال کیا گیا، جس سے دونوں حملوں کے درمیان تعلق کا شبہ مضبوط ہوتا ہے۔تحقیقات کے دوران ڈیجیٹل اور فرانزک شواہد کو بھی اہمیت دی گئی، جن میں موبائل فون ڈیٹا، اسکرین شاٹس، جیو اسپیشل لوکیشنز، کال ڈیٹیل ریکارڈ اور ڈی این اے تجزیہ شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ایک آپریشن کے دوران برآمد ہونے والے موبائل فونز میں نقشوں اور راستوں کی تفصیلات موجود تھیں، جبکہ ڈی این اے شواہد نے ملزمان کوملی ٹینٹوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اگرچہ مقامی ملزمان کو حملے کی براہ راست منصوبہ بندی میں شامل نہیں دکھایا گیا، تاہم حملہ آروں کو پناہ دینے اور اطلاع نہ دینے کے الزامات کے تحت ان کے خلاف مقدمہ چلانے کیلئے کافی شواہد موجود ہیں۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔مرکزی ملزم السیف اللہ جٹ کو عدالت نے اشتہاری مجرم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ اس کے خلاف مقدمہ عدم موجودگی میں چلایا جائے۔