چھاتا ہے جب نُورِ مہر ہر سمت نگر میں
آتی نہیں ہے کہکشاں مطلق پھر نظر میں
سیراب زمیں ہوجائے جب موجِ ضیاء سے
رنگِ نکھار آتا ہے پھر برگ و ثمر میں
ملحوظِ نظر ہوتی ہے جب کائیناتِ کُل
عرفانِ فضا ہوتی ہے پھر دشت و نگر میں
آتی ہے یادِ سحر میں پھر مُشکِ ناف سی
احساسِ طلب ہوتا ہے پھر قلب وجگر میں
سوتے نہیں پھر دیر تک زندہ ضمیر لوگ
سامانِ سفر ہوتا ہے پھر اُن کی کمر میں
ہر سمت پھر ہوتے ہیں جلوے فروغ پر
کرتی حیات رقص ہے کیا گائوں و نگر میں
سفرِ حیات طے ہوتا ہے پھر مرحلات میں
آتی ہے عُود نازگی پھر فکرو نظر میں
پھر زایوں پہ زاویئے بدلتا ہے دن تمام
آتا ہے شفق لوٹ کر پھر اِس کے سفر میں
کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو رفعت نصیب کی
پڑجائے بشر کیا پتہ کب زیرو ربز میں
ہوتی اِسی دوران ہے عظمیٰ ؔکی اشاعت
ذکرِ عُشاقؔ ہوتا ہے پھر اِس کی خبر میں
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ
موبائل نمبر؛9697524469