محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ کے سرکردہ سماجی کارکنوں اور مذہبی انجمنوں نے ضلع ہسپتال پونچھ میں ڈاکٹروں کی شدید قلت اور ضروری ماہرین کی خالی اسامیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ جموں و کشمیر حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔یہ اپیل ایک تحریری مراسلے کی صورت میں وزیرِ اعلیٰ کو ارسال کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال میں مختلف شعبوں خصوصاً آئی اسپیشلسٹ (ماہر امراضِ چشم) کی اسامی گزشتہ دس برسوں سے خالی ہے، اور عوام کی متعدد درخواستوں کے باوجود یہ تقرری تاحال عمل میں نہیں لائی گئی۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ہسپتال میں اسکن اسپیشلسٹ (ماہر امراضِ جلد) کی بھی کمی ہے، جس کے باعث مریضوں کو معمولی علاج کے لئے بھی دوسرے اضلاع کا رخ کرنا پڑتا ہے۔مراسلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ہسپتال کے رہائشی کوارٹرز خستہ حالی کا شکار ہیں اور کئی عمارتیں اس حد تک بوسیدہ ہو چکی ہیں کہ کسی بھی وقت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے لئے مناسب رہائش اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے نہ صرف اسٹاف کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے بلکہ عوامی صحت کی خدمات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔سماجی کارکن شفیق حسین بابا پبلسٹی سیکرٹری، انجمنِ جعفریہ پونچھ کی جانب سے تحریر کردہ اس خط پر متعددشخصیات کے دستخط موجود ہیں جن میں زیڈای ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی پونچھ اور سری ساناتن دھرم سبھا پونچھ سمیت مختلف سماجی و مذہبی انجمنوں کے نمائندے شامل ہیں۔مراسلے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ضلع ہسپتال پونچھ کی خالی اسامیاں فوری طور پر پر کی جائیں، ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی کی جائے، اور اسپتال کے خستہ حال رہائشی کوارٹرز کی مرمت و بحالی کو ترجیح دی جائے۔عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت عوامی مفاد کے پیشِ نظر اس جائز مطالبے پر فوری کارروائی کرے گی تاکہ پونچھ کے شہریوں کو بنیادی طبی سہولتوں سے محروم نہ رہنا پڑے۔