پونچھ//راجہ سکھ دیو سنگھ کلچرر اینڈ ہیرٹیج کمیٹی پونچھ کا ایک اجلاس زیر قیادت صدر کملجیت سنگھ منعقد ہوا۔اس موقعہ پر پونچھ میں آثار قدیمہ کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ مقررین نے پونچھ قصبہ میں واقع دو تاریخی عمارتوں کی طرف سرکار کی عدم توجہی پر تشویس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ تاریخی قلعہ پونچھ کی اکیس کنال نو مرلے اراضی کو تحفظ دے۔انہوں نے محکمہ مال اور ریاستی آثار قدیمہ اور عجائب گھر کے محکمہ کو اس حوالے سے کارروائی کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ قلعہ مبارک پونچھ کے ارد گرد جو ناجائز تجاوزات کئے گئے ہیں جن کو سختی سے ہٹایاجائے تاکہ اس تاریخی قلعہ کی صور حال بحال ہو ۔انہوں نے کہا کہ قلعہ پونچھ کوقصبہ پونچھ کی ایک ایسی جگہ پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں سے اُسے ہر ایک دیکھنے کے لئے آسانی سے آ سکتا ہے لیکن اس قلعہ کے ارد گرد ناجائز تجاوزات کر کے اس کو بالکل چھپا دیا گیا ہے۔کمل جیت سنگھ نے کہا کہ پونچھ کا یہ تاریخی قلعہ لگ بھگ پونے دو سو سال قبل راجہ رستم خان راٹھور نے تعمیر کروایاتھا جس کے بعد دوسرے راجائوں نے بھی اپنے اپنے دور کے دوران اس قلعہ کی مزید تعمیر کروائی ۔انہوں نے قلعہ کے ایک اہم حصہ جسے باغ ڈیوڈی کے نام سے سب واقف ہیںجسے ڈوگرہ راجہ موتی سنگھ نے اپنے دور کے دوران اپنے محل اور قلعے کا صدر دروازہ بنایاتھا اور یہ عمارت بھی عدم توجہی کاشکا ر بنی ہوئی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ اپیل کرچکے ہیں کہ آثار قدیمہ کو تحفظ دیاجائے مگر اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیاجارہا ۔انہوں نے کہا کہ آثار قدیمہ کے تحفظ کی خاطر بنائے گئے قوانین کے تحت تاریخی عمارتوں کے ایک سو میٹر تک کوئی تعمیر نہیں کر سکتا ہے لیکن پونچھ میں دھڑلے سے تعمیرات کی جا رہی ہیں اور انتظامیہ تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ پونچھ کی ان دو تاریخی عمارتوں کو تحفظ اور ان کی دیکھ ریکھ نہیں کر سکتی تو ریاستی چیف سکریٹری ان عمارتوں کو اپنی دیکھ رکھ میں لیں تاکہ یہ اثاثے آنے والی نسلوں تک صحیح اور سالم حالت میں باقی رہ سکیں ۔اجلاس میں مولانا بشارت احمد، پریتم سنگھ جموال،کوشل کمار، یوگل کشور، شوکت خان وغیرہ بھی موجودتھے ۔