جموں//آل جموں و کشمیر پنچایت کانفرنس نے پیر کو پنچایتی راج اداروں کے منتخب ممبران پر مسلسل حملوں کے خلاف احتجاج کیا اور یو ٹی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ پی آر آئی ممبروں کے سیکورٹی آڈٹ کا فوری جائزہ لے۔ اے جے کے پی سی کے یو ٹی صدر انیل شرما کی قیادت میں کئی سرپنچوں اور پنچوں نے نچلی سطح کی جمہوریت کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش میں معصوم پنچایت ممبروں کو نشانہ بنانے پر پاکستان میں قائم آئی ایس آئی اور دیگر تنظیموں کے خلاف نعرے بلند کیے۔اے جے کے پی سی کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان میں قائم آئی ایس آئی اور سید صلاح الدین ،مسعور اظہر اور حفیظ سید کی سربراہی میں دیگر ملی ٹنٹ تنظیموں نے بظاہر جموں وکشمیر میں منتخب پی آر آئی اراکین کو نشانہ بنانے کے لیے مہم شروع کی ہے۔ان کا کہناتھا"ہم ان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ منتخب پنچایت ممبران ان کے دباؤ کے ہتھکنڈوں سے نہیں جھکیں گے اور اپنے لوگوں کی خدمت کے لیے ثابت قدم رہیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہم یو ٹی انتظامیہ سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ پی آر آئی کے ممبروں کو سکیورٹی خطرات کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ تمام کمزور علاقوں میں ان کی فول پروف حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے‘‘۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پی آر آئی کے منتخب اراکین پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور جموں و کشمیر کے دونوں ڈویژنوں میں پنچائیت ممبروں کے سیکورٹی آڈٹ کروانے کی فوری ضرورت ہے۔اے جے کے پی سی لیڈر نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر زور دیا کہ پرنسپل سکریٹری داخلہ ، شالین کبرا کو ہدایت کی جائے کہ وہ پنچایت ممبروں کی تمام زیر التوا فائلوں کو فوری طور پر کلیئرنس کریں جنہوں نے ملی ٹنٹوںکے خطرات کے پیش نظر سیکورٹی کور کا مطالبہ کیا ہے۔