یوٹی کے 1742 میگاواٹ پروجیکٹوں کی پیداواری صلاحیت صرف 400 میگاواٹ رہ گئی
اشفاق سعید
سرینگر //جموں و کشمیر میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔جموں کشمیر میںمقامی پلانٹس سے ہائیڈل پاور کی پیداوار میں تقریباً 70 فیصد کمی آئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے تمام پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار میں تقریباً 800-900 میگاواٹ کی کمی واقع ہوئی ہے۔انہوںنے یہ بھی کہا، “مقامی پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار فی الحال 330 میگاواٹ سے 400 میگاواٹ تک ہے۔”حکام کا کہنا ہے “بگلیہار کے ایک پلانٹ سے، 250-380 میگاواٹ تک بجلی کی پیداوار ہے، اور بگلیہار، کشن پور، اور نیو ونپوہ میں ایک اور پاور پلانٹ کے معاملے میں، ہم زیادہ سے زیادہ ایک میگاواٹ پیدا کر رہے ہیں۔”انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ کشمیر میں قائم پاور پلانٹس سے صرف 71 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہے۔حکام نے کہا کہ کشمیر میں 1750 میگاواٹ کی کھپت ہورہی ہے اور 40میگاواٹ کی کٹوتی کی جارہی تھی جو اب 50میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ صبح کے وقت کشمیر ڈویژن میں بالترتیب 1742 میگاواٹ اور جموں ڈویژن میں 1036 میگاواٹ کا بجلی کا لوڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اکتوبر کے آخری ہفتے میں مرکز سے اضافی 800 میگاواٹ مختص کیے گئے ۔ اس سال سنٹرل پول سے 1300 میگاواٹ بجلی ملے گی اور اسکے لئے دوسری ریاستوں کے ساتھ بینکنگ شروع کر دی ہے۔”محکمہ پی ڈی ڈی کے حکام نے دعوی کیا تھا کہ مقامی پاور پلانٹس سے مقامی ہائیڈل پاور جنریشن میں تقریبا 90 فیصد کمی آئی ہے۔ یوٹی میں موجود 13پن بجلی منصوبوں کی مجموعی صلاحیت 1197.4 میگاواٹ ہے، تاہم موسمِ سرما میں یہ پیداوار گھٹ کر محض 400میگاواٹ رہ جاتی ہے، جو کہ مجموعی صلاحیت کا صرف 33 فیصد بنتا ہے۔ اس طرح سردیوں میں تقریباً 66 فیصد بجلی کی پیداوار ختم ہو جاتی ہے اور مجموعی شارٹ فال ایک ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ جاتا ہے۔محکمہ پی ڈی ڈی کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی سالانہ توانائی 5318.1 ملین یونٹس ہے، لیکن خشک موسم، شدید سردی، دریائوں میں پانی کے بہا ئومیں کمی اور برف جمنے کے باعث پن بجلی کی پیداوار عملی طور پر متاثر ہو جاتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ بجلی ہر سال سردیوں میں عوام کے لیے ایک مستقل پریشانی بن جاتی ہے۔جموں و کشمیر میں قائم بڑے منصوبوں کی صلاحیت یہ ہے کہ یہ پن بجلی منصوبے، جو گرمیوں میں نمایاں مقدار میں بجلی فراہم کرتے ہیں، سردیوں میں بری طرح سکڑ جاتے ہیں۔