لوگوں کا محکمہ جل شکتی کے خلاف احتجاج
مشتاق الاسلام
پلوامہ//سرنو پلوامہ میں کئی کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی واٹر سپلائی سکیموں کے ناکام ہونے کے بعد علاقہ شدید پانی کے بحران کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ متعدد آبادیوں کے پینے کے صاف پانی سے محروم ہونے پر مقامی لوگوں نے محکمہ جل شکتی کے خلاف شدید احتجاج کیا اور محکمے پر لاپرواہی، بدانتظامی اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ مظاہرین نے ضلع انتظامیہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی بحال کی جاسکے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس سے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ سرنو واٹر سپلائی سکیم جس پر 3.47 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ،کے ساتھ بابا گنڈ کی دو کروڑ روپے مالیت کی ایک اور سکیم اور 25 لاکھ روپے کی ایک ٹیوب ویل بھی ناکارہ ہوچکی ہے، جس سے محکمہ کی منصوبہ بندی اور نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ محمد اشرف ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ سرنو سکیم 2014 میں اس وعدے کے ساتھ شروع کی گئی تھی کہ پلوامہ ٹاؤن اور اس سے ملحقہ کئی دیہات کو صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔ ‘‘ انہوں نے کہا،’’کروڑوں روپے خرچ کیے گئے مگر سکیم مکمل ہونے سے پہلے ہی ناکارہ ہوگئی۔ 2019 میں اچانک کام روک دیا گیا، اور آج تک محکمے کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی‘‘۔لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حال ہی میں نصب کی گئی ٹیوب ویل، جو فوری راحت فراہم کرنے کیلئے لگائی گیا تھا، بھی محکمے کی ‘‘غفلت’’ کی وجہ سے شروع سے ہی غیر فعال ہے۔بابا گنڈ میں 2011 میں شروع کی گئی ایک اور واٹر سپلائی اسکیم پر سرکاری کوارٹرز، باؤنڈری وال اور دیگر تعمیراتی کاموں پر خطیر رقم خرچ کی گئی۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے اخراجات کے باوجود یہ سکیم کبھی فعال ہی نہیں ہوئی۔ سماجی کارکن غلام محمد ڈار نے کہا کہ کروڑوں روپے عوامی خزانے سے خرچ کیے گئے مگر آج تک کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ نے مرمت کے لیے اضافی فنڈز بھی منظور کیے، مگر محکمے اور ٹھیکیداروں کی مبینہ غفلت کی وجہ سے اسکیمیں اب بھی غیر فعال ہیں۔ مقامی لوگوں نے ڈی سی پلوامہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ناکام منصوبوں کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دیں اور علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو فوری طور پر بحال کریں۔