پلوامہ//پلوامہ قصبے میں پولیس کی طرف سے مبینہ طورتنگ طلب کئے جانے کے خلاف بدھوار کو آٹوڈرائیوروں نے اپنی سروس بطوراحتجاج بند کی جس کی وجہ سے ضلع کے مختلف علاقوں سے آنے والے لوگوں کو مشکلات کاسامنا کرناپڑا۔ کے این ایس کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کئی دیہات کو چلنے والی آٹو سروس بدھ کے روزبند رہنے کے سبب پانچ سے زائد دیہات کے لوگوں کو پلوامہ قصبے تک سفر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مقامی لوگوں کے مطابق پنگلنہ ،گانگوہ ،اٹھورہ اور مندینہ دیہات کے روٹوں پر چلنے والی آٹو سروس کوڈرائیوروں نے بطور ہڑتال معطل رکھا، جس کے باعث مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ہڑتال پر جانے والے ڈرائیور وںنے الزام لگایا کہ انہیںآئے روز پولیس کی طرف سے بلاجواز تنگ کیا جارہا ہے اور انہیں قصبے (مورن چوک) میں سواری اٹھانے اور چھوڑنے پر جرمانے عائد کئے جانے کے ساتھ ساتھ ہراساں کیا جاتا ہے جس کے باعث آٹوڈرائیور تنگ آ چکے ہیں ۔انہوں نے بتایا اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور آج تنگ آکر بطور ہڑتال اپنی سروس بند کی ۔واضح رہے ضلع انتظامیہ کی طرف سے بس اسٹینڈ کی منتقلی کے بعد مذکورہ دیہات کے عوام کو پلوامہ تک سفر کرنے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مذکورہ دیہات سے آنے والی سواریوں کو پرچھو میں اتر کر ڈی سی آفس ،ہسپتال اور مین بازار تک پیدل سفر کرنا پڑرہا ہے۔لوگوں نے الزام لگایا کہ بس اسٹینڈ کی منتقلی کے وقت عوام کی سہولیت کو خاطر میں نہیں لایا گیا بلکہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹروں کی سہولیت کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ کو میں بازار سے چلنے کی اجازت نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بارش اور برف باری کے دوران عام مسافروں کو پرچھو سے مین بازار (پرانے اڈے) اور ڈی سی آفس تک پیدل چلنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔خیال رہے کہ ہسپتال اور پرچھو پلوامہ سے مین بازار تک کسی بھی مسافر گاڑی بشمول آٹو سروس کو چلنے کی اجازت نہیں ہے جسے مذکورہ جگہوں تک پہنچنے کیلئے عوام کو فل بکنگ گاڑی کرایہ پر لینی پڑتی ہے جس سے غریب عوام کے جیب پر سیدھے اثر پڑتا ہے۔ڈرائیور وں نے اس سلسلے میں ڈی سی پلوامہ اور اے آر ٹی او سے مداخلت کی اپیل کی ہے جبکہ مسافروں نے ضلع انتظامیہ اوراے آر ٹی او پلوامہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال اور پرچھو سے پرانے اور نئے اڈے تک آٹو سروس باقاعدہ چالو کی جائے تاکہ عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔