’پس نوآبادیات‘ ایک نہایت جامع اور پیچیدہ تصور اورتنقیدی طریقہ کار کی حیثیت سے پس ساختیات اورمابعد جدیدیت کی تھیوریز میں تقریباً ۱۹۹۰ء کے آس پاس شامل ہوگیا ۔ اس کی رُو سے اُس مغربی فکر وتہذیب کابطلان کرنا تھا،جس کی تشکیل میںارسطوؔ،ڈیکارٹ، کانٹؔ ، ہیگلؔ،مارکسؔ یا پھر ہیومرؔ ، دانتےؔ،کولرجؔ اور ٹی ۔ایس ۔ایلیٹؔ کی تحریروں کانمایاں حصّہ تھا اورجوایک وحدانی تصور کی حیثیت سے ایک آفاقی اور عالمگیر شکل اختیار کرچکا تھا۔ پس نوآبادیاتی ادب اورتہذیب کسی بھی وحدانی فکرکے بالکل خلاف ہے کیونکہ اس سے ادب اور دوسری سرگرمیوں میںجنس،تہذیبی تشخص اوردوسرے چھوٹے چھوٹے مسائل دب جاتے ہیں اور اس کی جگہ Imperialismکا ڈسکورس حاوی ہوجاتاہے۔
پس نوآبادیات کی ترویج واشاعت میںسعیدؔ،ہومی بھابھاؔ اور گائتری نے اہم رول اداکیا۔ سعیدؔ کے مطابق’ پس نوآبادیات ومابعدجدیدیت‘ ایک دوسرے سے متعلق ہیں،وہ لکھتے ہیں:
"Both post-colonialism and post modernism emerged as related topics and investigation during the 1980's and in many instances, seemed to take account of such works as Orientalism as antecedents…" (ORIENTALISM Pg.350)
۱۹۸۴ء میں Sociology of Literatureپرایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میںسعید ؔ،بھابھاؔ اورگائتری نے بھی شرکت کی ۔بھابھاؔ نے جومقالہ پیش کیاوہ نفسیات سے لے کر ردِ تشکیل اورمابعد جدیدیت کی تھیوری پرمحیط تھا۔بھابھاؔ نے سیاہ اورسفید کی بحث اٹھائی اورسیاہ پرسفید کی بالادستی کے سارے عناصر کو زیربحث لایاجبکہ گائتری چودھریؔ نے تانیثیت اورثقافتی مطالعے کے ذریعے مابعدجدیدساختیات ردتشکیل ،مارکسی نقطہ نظر اورنفسیاتی گرہ کشائی پر کھل کر بحث کی۔دوسرے شرکاء نے بھی بڑھ چڑھ کر سیمینار میںحصّہ لیا اورنوآبادیات وپس نوآبادیات کے مسائل اوراس کے اثرات کی کھل کر نشاندہی کی تب سے ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے اوراردو اد ب میںبھی اس جہت سے بحث چل رہی ہے۔
ایڈورڈسعید’ مابعد ساختیات‘ کے علمبرداروں کے سائے میں اپنے ذہن ودماغ کی آرائش کرتارہاہے ،خصوصاً اس پر دریداؔاورفوکوؔ کے اثراتؔ تلاش کیے جاتے ہیں۔اگر کہیںبھی سیکولر تنقید کی گفتگو ہوگی تو اس باب میںسعیدؔ کانام ناگزیرہوگا۔اس نے مشرق ومغرب کے ایسے مباحث سامنے لائے جن سے مغرب کی بالادستی اورتشدد کے کتنے ہی پہلوسامنے آتے ہیں۔سعیدؔکاخیال درست ہے کہ یورپی اورامریکی فنکاروں کے مشرقی مطالعات دراصل مشرق کے استحصال پرمبنی ہیںاورمغربی افکاروآراہی مشرقی فکر کوسمجھنے اوردیکھنے کی عقبی زمین ہے۔ یعنی سعیدؔ کے ذہن میں یہ بات بہت صاف ہے کہ کس طرح مغربی طاقتیں مشرقی قدروں کوکمتر باورکرکے اپنااحساس برتری قائم رکھنے کی کوشش میںمشغول نظرآتی ہے۔مغربیوں کے یہاں مشرقیوں کے لیے جو کچھ بھی ہے وہ اس خیال پرمبنی ہے کہ ہرحال میںمشرق،مغرب کے مقابلے میں ایک ایسی صورت ہے جسے ترقی پذیر ہوناباقی ہے اوریہ ترقی پذیری دراصل مغربی راستے ہی سے ممکن ہے ۔ذہن کی یہ بالادستی مشرق کے مطالعات پرحدودقائم کردیتی ہے اورنتیجے میںمشرق کی ایک ایسی شکل ابھرتی ہے جوکسی حال میں بھی مغرب کے سامنے کوئی چلینج پیش نہیںکرسکتی۔
واضح ہوا کہ پس نوآبادیاتی مطالعہ اس امرپردال ہے کہ بیرونی حکومتیں نہ صرف یہ کہ دورحکمرانی میںذہن ودماغ کومتاثرکرتی ہیںبلکہ حکمرانی کے خاتمے کے بعدبہت سارے ایسے دیرپااثرات چھوڑجاتی ہیںجن سے نکلنا مشکل ہوتاہے، پھرنسلی امتیازات کی جولکیریںواضح طورنظرآتی ہیں اُس کی بھی وجہ یہ ہے کہ ذہن ودماغ آج تک اس فرق کومٹانے کے لئے تیار نہیںہے کہ جوسفید ہیںوہ سیاہ کے مقابلے میںاہم ترہیں۔ پروفیسر وہاب اشرفیؔ لکھتے ہیں کہ : ’’ہندوستان کے تناظر میںانگریزوں کی خدمات پرنگاہ ڈالی جائے توبالائی سطح پر یہی کہاجائے گا کہ اگر انگریزوںنے بہت سارے معاملات میںہماری آنکھیں کھول دیں،نئے علوم کے دروازے واکئے، نئی زندگی کے اسباق سکھائے ، نئے ولولے سے ہمکنار کیا۔ممکن ہے یہ بات جزوی طورپر درست ہولیکن کیااس امرسے انکار کیاجاسکتاہے کہ آزادی کے اتنے عرصے بعدذہنی غلامی کاطوق ہم اپنی گردن سے نکال کر پھینک نہ سکے اوراحساس کمتری کاجوانداز رہاوہ آج بھی اسی طرح قائم ہے بلکہ ایسے رجحانات کو تقویت مل رہی ہے‘‘۔( مابعدجدیدیت مضمرات وممکنات ۔ص ۱۱۵)
لیکن اب پس نوآبادیات کی پوری بحث مابعد جدیدیت کے حوالے سے ہی ممکن ہے ۔آنیالونباؔ نے اپنی کتاب میںلکھاہے کہ :
’’Arif Drilik نے نوآبادیات کومابعد جدیدیت سے ہم رشتہ کیاہے، نہ صرف یہ کہ مابعد جدیدیت کاتاریخ اورثقافت کے نئے احسانات کے تحت جنم ہواہے بلکہ یہ تیسری دنیاکی ثقافتی صورت کی وجہ سے وجودپذیرہوئی ہے….’تین دنیا کی تھیوری‘ایک مابعدجدید نقطہ نظر رکھتی ہے اوریہ ریڈیکل مارکسّزم سے ٹکراتی ہے۔ ‘‘(COLONIALISM,POST-COLONIALISM-Pg.246 by Ania Loomba)
عالمی سطح پردیکھا جائے توتیسری دنیا یا پچھڑے ہوئے ایشیائی ،افریقی ،لاطینی امریکی ،یاوسط ایشائی ممالک جن میںہندوستان بھی ہے، ان سب کی حیثیت موجودہ دورسے پہلے انسانی سماج کے ’دوسرے‘یعنی Otherکی تھی، ان کی ثقافت ،ان کے ادبی ڈسکورس اوران کے تشخص پرتوجہ مابعدجدیدیت دورکاکارنامہ ہے۔
دیوندراسرؔلکھتے ہیں :
’’ …..مابعد جدیدیت جوجرمنی میںنطشے ؔ،ہسرلؔ اورہائیڈگرؔ سے شروع ہوئی ،فرانس میںلیوتارؔ،مشل فوکوؔ ،رولاںبارتھؔ ،ژاںبودریلاؔ اور دریداؔ سے ہوتے ہوئے پال دیمانؔ کے ساتھ سفر کرتی امریکی جامعات میںداخل ہوگئی اور پھر ….مشرق کے ممالک میںبھی بحث کاموضوع بن گئی….تیسری دنیا کے ممالک میںمابعدجدیدیت نے گیٹ کریش کرناشروع کردیا توان ممالک کے دانشوروں میںایک فکری انتشار کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ کسی نے اس کا پرجوش استقبال کیا،دوسرے نے اس کی مزمت کی …..بعض نے اسے نیافیشن یافیڈکہہ کر نظر اندازکرنے کی کوشش کی توبعض نے اسے نئی فکر کارتبہ دے کرسنجیدگی سے اس کامطالعہ اورمحاسبہ کیا۔کچھ نے اس کی ترمیم شدہ ورشن پیش کی،توکچھ نے اسے ہندوستانی حیثیت عطاکرنے کی کوشش کی اورپھرتمام الفاظ اورمحاورات کبھی پرانے اورکبھی نئے ،اورکبھی بدلی ہوئی شکل میں استعمال میںلائے جانے لگے ۔مغرب ،مشرق ،جدیدیت ، روایت ،گلوبلائزیشن ،قومیت ،نواستعماریت ،پس نوآبادیت ،نوسرمایہ پرستی….اپنی پوری شدّت سے اوروسعت سے مابعد جدیدیت کے حوالے سے ادب، فن اورعلم کے دوسرے شعبوں میںظاہر ہونے لگے‘‘۔(مابعدجدیدیت :مغرب اور مشرق میںمکالمہ (مشمولہ) اردومابعد جدیدیت پرمکالمہ (مرتبہ)گوپی چندنارنگ ۔ ص۱۱۰۔۱۱۱(ناشر)اردواکادمی دھلی ۱۹۹۸ء)
اکیسویں صدی میں اس مسٔلے پرگفتگو ہونے لگی ہے۔ 1990ء یا 2000ء کے بعد کی شاعری یافکشن میںپس نوآبادیات دکھائی دینے لگاہے۔ لوگ اپنے وطن ،اپنی ثقافت اوراپنی تہذیب کوپھرسے یادکرنے لگے ہیں مثلاً اردو کے ایک مشہور شاعرمنورراناؔ کے خیالات ملاحظہ ہوں:
’’ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی شاعری میںبُش کے امریکہ کی جگہ ملی جلی آبادی والے اس گاؤں کاتذکرہ کریں ،جہاںآج بھی ایک بیٹی کی رُخصتی کے درد کوپورا گاؤں محسوس کرتاہے۔گاؤں کے کسی بزرگ کے انتقال پربیشتر گھروں کے چولھے سارادن آگ کاانتظار کرتے رہتے ہیں۔‘‘( جنگلی کبوتر(شعری مجموعہ) ص ۹۔۱۰ از منورراناؔ)
اس کے علاوہ موجودہ دورکے تنقیدنگار وںکو بھی اس بات کااعتراف کرناپڑا ہے کہ اردو ادب اپنے پرانے ورثے کواہمیت دینے سے گریز کررہاتھا۔ مغربی تصورات اورمغربی ادب سے واقفیت رکھنا اچھی بات ہے،ایک دوسرے سے استفادہ کرنا ہر ادب کی روایت رہی ہے۔ ادب، ادب ہوتا ہے، اسے کسی زبان،ملک یاقوم کے دائرے میںقید نہیں کیاجاسکتا۔ لیکن مغربی افکارکااثرقبول کرنے کے ساتھ ساتھ کلاسیکی شعریات کوبھی اپنی تنقید میںشامل کرناضروری ہے ۔شمس الرحمان فاروقی ؔرقمطرازہیں:
’’یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ کیا مغربی شعریات ہمارے کلاسیکی ادب کوسمجھنے اورسمجھانے کے لئے کافی نہیں؟اس کامختصر ساجواب یہ ہے کہ مغربی شعریات ہمارے کلام میںمعاون ضرور ہوسکتی ہے بلکہ یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ مغربی شعریات سے تعاون حاصل کرناہمارے لئے ناگزیر ہے لیکن یہ شعریات اکیلی ہمارے مقصد کے لئے کافی نہیں۔اگرصرف اس شعریات کواستعمال کیاجائے توہم اپنی کلاسیکی ادبی میراث کاپوراحق ادانہ کرسکیںگے اوراگر ہم ذرا بدقسمت ہوئے،یا عدم توازن کا شکارہوئے تو مغربی شعریات کی روشنی میںجونتائج ہم نکالیں گے وہ غلط ،گمراہ اوربے انصافی پرمبنی ہوںگے۔‘‘(شعر شور انگیز،جلد ۳۔ص ۲۰ از شمس الرحمٰن فاروقی)
اب ہمیں احساس ہوناچاہیے کہ ہم نے اپنی داستانوں اورمثنویوں کوغلط تناظر میںدیکھنے کی سعی کی ہے ۔ انھیں سطحی اوررومانیت سے تعبیر کرکے اپنی ثقافتی جڑوں سے لاعلمی کااظہار کیا ہے ۔لوگ قصّے ،کہانیاں ،لوک گیت یہ سب ہماراثقافتی ورثہ ہے ۔ہرزبان وادب کی اپنی تہذیب وثقافت ہوتی ہے جس میں وہ سانس لیتاہے ۔اگراسے اسی نظام کازائیدہ تصور کریں تواس کی اہمیت ازخود واضح ہوجاتی ہے اور اس کی ساری خصوصیات نمایاںہوکر نظرآنے لگتی ہیں۔ وہاب اشرفی ؔلکھتے ہیں :
’’تب ہمیں اپنی غزل نیم وحشی ہرگزنہیں معلوم ہوگی،ہمارامحبوب،زندگی سے عاری نظرنہیں آئے گا ،فراق ووصل کی کیفیت بے معنی نہیںٹھہرے گی۔ہماری تشبیہیں ،استعارے اورہماری دوسرے بلاغت اورعروضی نظام بیکار محض ہیں ،نہ معلوم ہوں گے اوریہ بھی احساس ہوگا کہ سنسکرت بھی تو ہماری وراثت تھی، تواس سے فائدہ ہم نے کیوں نہیںاُٹھایا ،اس کے رسوںکے نظام پرہماری توجہ کیوں نہیںگئی،یعنی ہم نے اپنی مٹی ہی کی خبر نہیںرکھی اورظاہر ہے اسی مٹی نے ہماراخمیر مرتب کیاہے۔‘‘(مابعدجدیدیت مضمرات وممکنات ۔ص ۴۳۷ از پروفیسر وھاب اشرفی (
متذکرہ بالا مضمرات وممکنات کی روشنی میںمجموعی جائزہ لیاجائے تو محسوس ہوتاہے کہ آزادی کے بعدبھی ہندذہنی طورپرانگریزوں کے غلام ہیں۔وہ ہندوستان کوذہنی،سیاسی ،سماجی،نظریاتی ،ادبی ،ثقافتی اورمذہبی طور پر کھوکھلا کرگئے ہیں۔ اب انہیں ان کی غلامی سے باہر نکل کرہندوستان کی ملی جلی ،گنگا جمنی تہذیب کی بات کرنی چاہے۔
پتہ۔ بارہمولہ