سبزار احمد بٹ
کشمیری زبان کے آج تک جتنے بھی شاعر، ادیب، قلمکار، ترجمہ نگار اور محقق پیدا ہوئے ۔ان میں پروفیسر رحمان راہی کا نام سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے ۔رحمان راہی 1925 میں سرینگر کے شہر خاص جسے آج ڈاون ٹاون کہتے ہیں میں پیدا ہوئے ۔رحمان راہی کشمیری زبان کے ایک مستند اور معتبر شاعر مانے جاتے ہیں جنہوں نے کشمیری شاعری کی دل و جان سے آبیاری کی ۔رحمان راہی نے ابتدا میں بطور کلرک اپنی ملازمت کا آغاز کیا اور بعد میں ایک نامہ نگار کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ رحمان راہی ’’کونگ پوش‘‘ اور’’ روزنامہ خدمت ‘‘ کے مدیر ہونے کے ساتھ ساتھ آجکل سے بھی منسلک رہ چکے ہیں ،اس کے علاوہ رحمان راہی کشمیر یونیورسٹی کے شعبۂ کشمیری کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں ۔یاد رہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں شعبۂ کشمیری کا قیام بھی راہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔راہی صاحب کی نگرانی میں سیکڑوں طلبا نے تعلیم کے مختلف منازل طے کئے ہیں۔ رحمان راہی کو 1953 میں بطورِ لیکچرر تعینات کیا گیا ۔راہی کی صلاحیتوں اور خدمات کے عوض انہیں کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے پروفیسر ایمپارٹس کا درجہ دیا گیا اور غالباً راہی ایسے پہلے کشمیری شاعر ہیں جنہیں یہ درجہ دیا گیا۔راہی کی اب تک درجنوں کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں جن میں نوروزِ صبا، کائشر شعر سمبرن، اپزچ کائشِر شائری ، کأشِر نغماتی شعری اور سیاہ رود جرن منز، کے علاوہ کلام رحمان راہی بھی شامل ہے۔ انہوں نے ’کہوٹ‘ نامی تصنیف بھی تخلیق کی جو ادبی تنقید پر مبنی ہے۔ ’شعر شناسی ‘بھی اُنہی کی کتاب ہے جس میں کشمیری گانوں پر تبصرہ کیاگیا ہے ۔جناب راہیؔ نے بابا فرید کی پنجابی صوفی شاعری کا کشمیری ترجمہ کرنے کے علاوہ متعدد کتابوں پر تبصرے بھی لکھے ہیں۔ پروفیسر رحمان راہی ایک ترقی پسند شاعر تھے اور ترقی پسند مصنفین ایسوسیشن سے بھی وابستہ رہے اور اس کے سیکرٹری بھی رہے۔اُنہیں، ان کے کام اور کشمیری زبان کی خدمت کے سلسلے میں مختلف انعامات سے بھی نوازا گیا۔ ان کے شعری مجموعے ” نوروزِ صبا” پر انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جبکہ انہیں پدم شری اور ملک کے سب سے بڑے ادبی انعام گیان پیٹھ ایوارڈ سے بھی 2007 میں نوازا گیا۔مرحوم کو یہ ایوارڈ ان کے شعری مجموعے ” سیاہ رود جرن منز” نامی تصنیف پر دیا گیا۔
پروفیسر رحمان راہی کو عالمی ادب اور شاعری پر گہری نظر تھی ۔پروفیسر مجروح رشید جناب رحمان راہی کی شاعرانہ عظمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” راہی نے کشمیری شاعری کو نیا فکروفن عطا کیا۔راہی کی شاعری کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ ان کی شاعری کو سمجھنے کے لیے یورپی شاعری کو مدِ نظر رکھنا از حد ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ کشمیری زبان کی خوش نصیبی ہے کہ اسے رحمان راہی جیسا شاعر نصیب ہوا ،جبکہ پروفیسر شاد رمضان رحمان راہی کی غزل گوئی پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” راہی غالباً شیخ العالم کے بعد پہلے ایسے شاعر ہیں، جنہوں نے اپنی شاعری میں حیات و کائنات کے مسائل کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کے داخلی اور خارجی مسائل و حادثات کے عیاں اور پنہاں گوشوں کو شعوری طور پر اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔رحمان راہی کی شاعرانہ صلاحیتوں کو اعتراف محمد یوسف ٹینگ نے کچھ اس طرح سے کیا ہے ۔لکھتے ہیں کہ ” راہی پہلے کشمیری شاعر ہیں جس نے مشرقی اور مغربی ادبیات کو ملانے کے لیے کشمیری زبان کو ایسے کھودا جیسے نہر سوئز”۔ ان تمام باتوں سے پتہ چلتا ہے راہی کشمیری زبان کے ایک معتبر بلکہ ایک عظیم شاعر تھے۔افسوس کشمیری زبان کا یہ ستارہ 9 جنوری 2023 کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیااور کشمیری زبان میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا جسے پُر کرنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔اللہ انہیں کروٹ کورٹ جنت نصیب فرمائے ۔
[email protected]