مینڈھر//سرحدی ضلع پونچھ کے بلاک سرنکوٹ کی پنچائت اپر سانگلہ کے گورنمنٹ پرائمری سکول چشمہ ناڑ کی حالت نہایت ہی خستہ ہے اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ آفیسران سکو لوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں سرپنچ اپر سانگلہ خادم حسین راٹھور نے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکولوں کے معاملہ کو لیکر ہم نے کئی بار ضلع انتظامیہ و محکمہ تعلیم کے اعلی اُفیسران سے بات بھی کی لیکن سکولوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہاہے۔ان کا کہناتھا کہ سرکار بڑے بڑے وعدے کرتی ہے کہ سرکاری سکولوں میں بچوں کو بہتر سہولیات دی جائیں گی لیکن بچوں کو سکول میں نہ بیٹھنے کی جگہ، نہ کھیل کود کی، نہ بچوں کیلئے باتھ روم اور نہ ہی کچن دستیاب ہیں۔ انہوں نے متعلقہ محکمہ کے آفیسران کو تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سکول تین کمروں پر مشتمل ہے جو تمام غیر معیاری ہیں اور بارشوں کے دنوں میں سکول کے اندر پانی ہی پانی ہوجاتاہے جبکہ سکول کے اردگرد بھی کوئی جگہ نہیں ہے سکول کی دیوار کے ساتھ لوگوں کے مکان بنے ہوئے ہیں اور کسی بھی وقت یہ سکول گرسکتاہے اور جس سے کوئی بڑا حادثہ پیش آسکتاہے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر سرکار کی طرف سے ہر سکول میں باتھ روم اور رسوئی بچوں کیلئے دئے ہیں تو اس سکول کے اندر کیوں نہیں بنے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکول میں 25سے زائد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ سرکار نے دواساتذہ بھی لگائے ہوئے ہیں لیکن سکول میں کوئی سہولیا ت نہیں ہیں اور بچوں کے بیٹھنے کیلئے بالکل کوئی جگہ نہیں ہے جبکہ ایک ہفتہ کے بعد سکول بھی کھلنے والے ہیں تو اس ٹوٹے پھوٹے سکول میں بچے کیا تعلیم حاصل کریں گے۔ انہوں نے سرکار اور ضلع انتظامیہ سے اپیل کی کہ فوری طور اس سکول کو کسی دوسری جگہ تبدیل کیا جائے تاکہ بچے آرام سے تعلیم حاصل کر سکیں اور فوری طور نئی عمارت بھی بنائی جائے ۔