بلا شبہ یہ اللہ کا حکم ہے کہ روزہ ہر بالغ مسلمان مرد عورت پر فرض ہے اور اس کی اطاعت ہر صاحبِ ایمان پرلازم ہے۔ روزے کے فضل و احسان تو بے شمار ہیں مگر اس کی ایک بنیادی فضیلت یہی ہے کہ ہرمسلمان پرہیزگار بن جائے اور اُس کے اندر تقوے کی صفت پیدا ہو جائے ۔کیونکہ تقوےکی صفت انسان کو دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کا حقدار بنا دیتی ہے جبکہ پرہیز گاری کے بغیر نہ تو انسان ہدایت کے نور سے منور ہو سکتا ہے، نہ صراطِ مستقیم پر چل سکتا ہے اور نہ ہی مغضوبین کی چالوں سے بچ سکتا ہے ۔رمضان المقدس کے روزے تقویٰ اور پرہیز گاری کی صفت پیدا کرنے کے لئے نازل کئے گئےہیں تاکہ ا عمال سے کمزورانسان بھی اس ماہِ مبارک میں نماز، تلاوتِ قرآن، تراویح اور ذکر واَذکار کی طرف لوٹ آئے اور ایسی بصیرت و بصارت حاصل کرلے،جس سے وہ حق اور ناحق،جائز اور ناجائز ،سچ اور جھوٹ،ایمان داری اور بے ایمانی کی پہچان کرسکے۔اس اعتبار سے جب ہم اپنے کشمیری معاشرےپر نظر ڈالتے ہیں تو ہم ر مضان کے ان ایامِ متبرکہ کا اہتمام زور وشور سے کرتے ہیں۔روزہ رکھتے ہیں،نمازیںادا کرتے ہیں،فلاح و بھَلا کی باتیںکرتے ہیں،خیرات و مروت کے کام کرتے ہیںاور زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔لیکن اس سب کے باوجود ہمارے معاشرے کا انسان نہ مکمل مسلمان بنتاہےاور نہ ہی انسانیت کے وہ کام کرتاہے ،جس پر اُسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے۔جہاں ہم دین کی پاسداری کے روادار بنتے ہیں،وہیں دین داری پرعملاً قائم نہیں رہتے ہیں۔
ہر شعبے سے وابستہ زیادہ تر افراددیانت داری اور فرض شناسی کی فضیلت اور اہمیت کو بھُلا کے ، دنیاوی معاملات میںخود کو آزاد سمجھ کر وہی کچھ کر بیٹھتے ہیں،جس سے نہ اُن کی دنیا بنتی ہے اور نہ آخرت۔ کسی نہ کسی بہانے کی آڑ میںخود غرضی اور لالچ کا کھلم کھلا مظاہرہ کرتے ہوئےبلا کسی جواز کے روز مرہ استعمال کی جانے والی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیںاور مقدس ایام میں بھی عام لوگوں کو لوٹتےمیں کوئی کسر نہیں چھوڑتے،خصوصاً موجودہ حالات میں جبکہ بیشتر لوگ پہلے ہی مختلف مسائل سے دوچار ہیں اور اُن کی مالی حالت بھی کافی کمزور ہے۔یہی طرزِ عمل سرکاری شعبوں میںکام کرنے والے اُن ملازمین کا ہے جو اِس مقدس مہینہ میں بھی کام چوری،بد عنوانی،رشوت خوری اور سینہ زوری سے گریز نہیں کرتے ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ اس ماہِ مبارک میں تین عشرے ہیں ، پہلا عشرہ رحمتوں و برکتوں والا ، دوسرا مغفرت کا اور تیسرا جہنم سے رہائی کا ہے،جبکہ اسی مہینے کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ایک رات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو لوح محفوظ سے آسمانی دنیا پہ نازل کیا ہے۔بے شک قرآن مجید وہ کتاب ہے جو حق اور باطل کو چھانٹ کر الگ کر دیتی ہے ۔چنانچہ روزے کی حالت میں آدمی ترغیبات نفس سے خود کو بچاتا ہے تاکہ اس کا روزہ ضائع نہ ہو جائے اور ترغیبات نفس ہی وہ شیطانی حربہ ہے ،جس سے انسان ہر بُرائی کی جانب راغب ہوتا ہے ۔حالت ِروزہ میں ایک مسلمان شدید پیاس کی حالت میں وضو کے دوران منہ میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں جانے دیتا، اس لئے کہ اُسے ڈر رہتا ہے کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، اللہ تو دیکھ رہا ہے ۔ روزے براہ راست یہ کیفیت پیدا کر دیتے ہیںاور اللہ کو یہی مطلوب ہے کہ اس کا بندہ پوری زندگی اِسی اطاعت اور بندگی کے ساتھ زندگی گزارے۔گویا پرہیز گاری پوری زندگی کا عمل ہے جس کی تربیت ایک مسلمان کو روزوں سے حاصل ہوتی ہے ۔ روزہ سے یہ صفت اُس وقت حاصل ہو جاتی ہے جب ایک مسلمان اس کے تمام تقاضوں کو پورا کرتا ہے ۔رمضان المبارک کے روزے جسمانی مشقت اور نفسانی فطری خواہشات کے جبر کے خلاف صبر سے مقابلہ کرنے کا نام ہے اور نفس لوامہ کو طاقتور بنانے سے تقویٰ کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے لئے یہ لازم ہے کہ ہماری فکر ِ آخرت زیادہ سے زیادہ مضبوط ہو اور قبر اور حشر کے مراحل کی پُرشِش کے بارے میں زیادہ فکرمند ہو۔جبکہ آج کے اس دجالی اور مادیت پرستی کے دور میں نیکی کے راستے پر چلنے کا اَجر پہلے سے زیادہ اس لئے ہے کہ بہک جانے کا ماحول اور مواقع زیادہ ہیں۔چنانچہ رمضان تمام نیکیوں کے کرنے کا ماحول میسر ہوتا ہے،لہٰذا ہمیں حق و ناحق،جائز و ناجائز اور سچ اور جھوٹ کی پہچان ہی پرہیز گاری کے راستے پر گامزن کر سکتی ہے۔