جموں//عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ راجیہ سبھاسنجے سنگھ نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کی حالت زار پر لکھی گئی کتاب کو ریلیز کیا جو کہ حکومتوں کی سرکاری بے حسی کی زندہ مثال ہیں۔اس کتاب کی اجرا ئی تقریب کا اہتمام دہلی میں کیا گیا تھا جس میں کئی دیگر سرکردہ شخصیات کی موجودگی میںممبر پارلیمنٹ راجیہ سبھا سنجے سنگھ نے کتاب کو ریلیز کیا۔یہ کتاب جموں صوبے کی عام آدمی پارٹی کی خواتین ونگ کی نائب صدر ڈاکٹر پریتی بھگت نے لکھی ہے۔کتاب POJK کے بے گھر ہونے والے متاثرین خاندانوں کی حالت زار کو ظاہر کرتی ہے جو 1947 کے دوران اور اس کے بعد POJK میں اپنی آبائی زمین چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور تب سے یہ خاندان مشکلات سے بھری زندگی گزار رہے ہیں۔ڈاکٹر پریتی بھگت کی طرف سے لکھی گئی کتاب جموں اور جموں و کشمیر کے دیگر حصوں میں مختلف پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے POJK کے بے گھر لوگوں کی حالت زار کو ظاہر کرتی ہے۔اس کتاب میں مصنف نے ان لوگوں کی کہانیاں بیان کی ہیں جو 1947 میں لوگوں کی فرقہ وارانہ ذہنیت کا شکار ہوئے تھے۔وہ چودہ لاکھ سے زائد لوگ جنہیں زبردستی اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل کیا گیا تھا وہ اب بھی پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔کتاب کی مصنفہ ،جو پیشے سے ڈاکٹر تھیں اور جموں و کشمیر کے محکمہ صحت میں کام کر رہی تھیں، اپنی ملازمت سے مستعفی ہو کر فعال سیاست میں آگئیں اور عام آدمی پارٹی میں شامل ہوئی اور لوگوں سے بات چیت کے دوران انہیں بے گھر لوگوں کی حالت زار کے بارے میں معلوم ہوا اور قلم بند کرنے کا فیصلہ کیا۔عام آدمی پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ POJK کے بے گھر متاثرین جموں و کشمیر اور مرکز کی متواتر حکومتوں کی بے حسی کی زندہ مثال ہیں کیونکہ یہ متاثرین دہائیوں کے بعد بھی کئی بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔عام آدمی پارٹی نے مزید یقین دلایا کہ POJK کے بے گھر متاثرین کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کرنا عام آدمی پارٹی کی ترجیح ہے اور جموں و کشمیر میں پارٹی کی حکومت سازی میں کامیابی کے بعد جلد ہی اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔