عظمیٰ مانیٹرنگ ڈیسک
بیجنگ// چین میں موسلادھاربارش سے اب تک 11 لوگوں کی موت چکی ہے جبکہ 27 دیگر افراد لاپتہ ہیں۔مقامی حکام نے منگل کو کہا کہ اموات کی زیادہ سے زیادہ تعداد، مینٹوگو میں چار اور فانگشن میں دو کی اطلاع ملی ہے ۔ اس کے علاوہ چا لاپتہ ہونے والے 27 افراد میں مینٹوگو میں 13، چانگپنگ میں 10 اور فانگشان میں چار افراد شامل ہیں۔
شہر میں طوفان ڈوکسوری کے زیر اثر 29 جولائی سے خاص طور پر مغربی، جنوب مغربی اور جنوبی حصوں میں مسلسل شدید بارش ہو رہی ہے ۔بارش کی وجہ سے شہر بھر میں تقریباً 127,000 افرادکو دوسری جگہ ٹھہرایا گیا ہے ۔ادھر پاکستان میںبلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ ہفتے کے دوران موسلادھار بارش اور سیلاب کے باعث 11 افراد جاں بحق اور 400 سے زائد مکانات منہدم ہوگئے ۔ صوبے کا ملک کے دیگر علاقوں سے رابطہ بھی منقطع رہا جب کہ شدید بارش اور سیلاب کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، پلوں کو نقصان پہنچا اور شاہراہیں بند ہوگئیں۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پ ڈی ایم اے ) بلوچستان کے حکام نے بتایا کہ پنجگور، خاران اور واشک کے اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ، ان علاقوں میں زیادہ تر مکانات شدید بارش سے تباہ ہو گئے جب کہ ان علاقوں میں چار روز سے بارش کا سلسلہ جاری ہے ، بڑی تعداد میں دیہات کا ضلعی ہیڈ کوارٹر سے رابطہ منقطع ہے اور سیکڑوں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ بارش کے باعث پنجگور، واشک، خاران، قلعہ سیف اللہ، پشین، لسبیلہ، حب، ڈیرہ بگٹی، کوہلو، بارکھان، سبی اور بولان میں ڈیمز بھر گئے ہیں، اضافی پانی چھوڑنے کے لیے میرانی، حب اور دیگر ڈیم کے اسپل ویز کھول دیے گئے جس سے نشیبی علاقوں میں واقع کئی دیہات زیر آب آگئے ۔پی ڈی ایم اے حکام کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارش اور سیلاب کے باعث ضلع واشک کے علاقے بسیمہ میں واقع ڈیم ٹوٹ گیا۔