سرنکوٹ// دھندک کے کانی ہوڑی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کے محتاج ہیں اور مقامی چشمہ سوکھ جانے کے بعد وہ دریا کا مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں ۔یہ علاقہ پچاس نفوس پر مشتمل ہے جہاں آج تک محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے پانی سپلائی کاکوئی انتظام نہیں کیاگیا ۔ اس سے قبل لوگ مقامی سطح پر ہی ایک چشمہ سے پانی لاتے اور استعمال کرتے تھے لیکن وہ بھی اب سوکھ گیاہے ۔مقامی شہریوں محمد ناصر، محمد آمین ،محمد یوسف ،مطلوب حسین، محمد شبیراورمحمد زبیر کاکہناہے کہ انہوںنے محکمہ پی ایچ ای کو اس بات سے باخبر کیاکہ چشمہ سوکھ جانے سے پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے لہٰذا کوئی متبادل انتظام کیاجائے لیکن محکمہ انتہائی درجہ کی لاپرواہی کا مظاہرہ کررہاہے ۔انہوںنے کہاکہ علاقہ کو پانی سپلائی کرنے کیلئے کوئی بندوبست نہیں کیاگیا اور لوگ اب دریا کا پانی پینے پر مجبور ہیں جو صحت کیلئے مضر ہوسکتاہے ۔انہوںنے بتایاکہ مقامی عورتیں اور بچے دن بھر دریا سے پانی کا انتظام کرنے کے کام پر مامور رہتے ہیں اور اس چکر میںکئی طلباء سکول بھی نہیں جاپاتے ۔انہوںنے کہاکہ دریا کا پانی پی کر لوگ بیمار ہورہے ہیں کیونکہ اس پانی میں ریت اور مرے ہوئے جانوروں کے اعضا بھی ملتے ہیں ۔ جب اس سلسلے میں محکمہ پی ایچ ای کے اے ای ای سرنکوٹ اخلاق قریشی سے بات کی گئی تو انہوںنے کہاکہ انہوں نے ایک پروجیکٹ تیار کیاہے اور مارچ سے قبل کانی ہوٹی میں پائپیں بچھادی جائیںگی ۔