مینڈھر //مینڈھر کے لوگوںنے حکومت سے مانگ کی ہے کہ خطہ پیر پنچال میں پاسپورٹ دفتر کا قیام عمل میں لایاجائے جہاں کے لوگوں کو اپنے پاسپورٹ بنوانے کیلئے کئی دن ضائع کرکے جموں کے کئی چکر کاٹنے پڑتے ہیں ۔مقامی لوگوںنے کہاکہ ریاست میں نئے تین پاسپورٹ دفاتر کھولنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ ایسے ہی ایک مرکز کی سب سے زیادہ ضرورت خطہ پیر پنچال کے لوگوں کو تھی تاہم حکام نے اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا جو یہاں کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے ۔ اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے حاجی خورشید میر نے کہاکہ خطہ پیر پنچال کے لوگوں کو پاسپورٹ بنوانے کیلئے کئی طرح کی مشکلات سے گزرناپڑتاہے اور انہیں ایک تو جموں آنے جانے کے کئی چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور دوسرا انہیں وقت پر پاسپورٹ ملتابھی نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پونچھ سے جموں کا سفر 235کلو میٹر ہے اور پاسپورٹ کی خاطر ہر ایک شخص کو ایک دن پہلے جموں جاناپڑتاہے اور پھر دوسرے دن کاغذات کی جانچ کرانے کے بعد تیسرے روز واپس آناپڑتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ بیشتر لوگوں کے ساتھ ایسا بھی ہوتاہے کہ ذراسی کمی رہ جانے پر انہیں گھر واپس بھیج دیتاہے اور اس طرح سے ان کو دوبارہ سے جموں کا چکر کاٹنے پر مجبور کیاجاتاہے ۔اسی بارے میں بات کرتے ہوئے ماسٹر عنایت اللہ خان نے کہاکہ ریاستی حکومت خود بھی یہ جانتی ہے کہ اس دفتر کی سب سے زیادہ ضرورت خطہ پیر پنچال کے لوگوں کو تھی لیکن نہ جانے حکومت نے ان مراکز کے قیام کے وقت کون سا پیمانہ مقرر کیاہے جو اس خطے کو نظرانداز کردیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ خطہ پیر پنچال کو ہر معاملے میں نظر انداز کیاجاتاہے اور یہ پہلا موقعہ نہیں کہ خطے کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہو ۔ان کاکہناہے کہ ریاستی حکومت کو مرکز کے ساتھ یہ معاملہ اٹھاکر خطے میں ایک پاسپورٹ دفاتر کے قیام کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ دفتر کسی مرکزی مقام پر کھولاجائے ۔ محمد اعظم فانی کاکہناہے کہ آئے روز لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ جموں پاسپورٹ دفتر سے انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج دیاگیا ،اگر خطہ میں ہی کوئی پاسپورٹ دفتر قائم ہوگا تو پھر ایسی نوبت نہیں آئے گی اور نہ ہی لوگ پریشان ہوںگے ۔ انہوںنے کہاکہ خطہ پیر پنچال کا حق بنتاہے کہ یہاں پاسپورٹ دفتر کھولاجائے لیکن نہ جانے حکومت نے کیوں کر ایسا نہیں کیا اور خطے کے عوام سے ناانصافی کی گئی ہے ۔ انہوںنے مانگ کی کہ پاسپورٹ حکام سے بات کرکے پونچھ ضلع میں کسی جگہ یہ دفتر قائم کیاجائے جو راجوری ضلع کے لوگوںکیلئے بھی قریب رہے گا۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ شوکت چوہدری نے کہاکہ یہ خطہ کے سیاسی لیڈران کی ناکامی ہے کہ وہ یہاں پاسپورٹ دفترقائم نہیں کرواپائے نہیں تو کوئی ایسا جواز باقی نہیں رہتاجو حکومت دے سکتی ۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعلیٰ کو اس سلسلے میں ذاتی مداخلت کرکے پونچھ میں پاسپورٹ دفتر قائم کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں اور یہاں کے لوگوں کو جموں جانے پر مجبور نہ کیاجائے ۔