آج سے نصف صدی قبل ہی مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ نے اپنی نگاہ بصیرت سے اس کی پیشین گوئی کی تھی کہ ہمارے ملک کی سرزمین پر اندلس کی تاریخ دہرانے کی پوری تیاری ہوچکی ہے،اگر مسلمان بالخصوص علماء اپنی فراست کا ثبوت دیتے ہوئے اس آنے والے طوفان بلاخیز پر بند باندھنے کی کوشش نہیں کریں گے اور امتِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے بیدار نہیں کریں گے تو انھیں اپنی آنکھوں سے اس ملک میں اندلس میں اسلامی حکومت کے خاتمہ کے بعد رونما ہونے والے دلخراش مناظر کو دیکھنے میں دیر نہیں لگے گی۔
ملک کے موجودہ ناگفتہ بہ حالات جس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی اس پر جب ہم مفکر اسلامؒ کی مؤمنانہ پیشین گوئی کے تناظر میں نظر دوڑاتے ہیں تو ایک عام مسلمان اور مؤمن کی طرح ہم پر بھی افسردگی اور مایوسی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے لیکن جب ہم عالم اسلام بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کی ماضی قریب کی تاریخ خاص کر۱۸۵۷ءاورملک کی تقسیم و آزادی کے موقع پر مسلمانوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کے دل دہلادینے والے جو واقعات پیش آئے اس کا تجزیہ ملک کی موجودہ صورتِ حال سے کرتے ہیں تو یک گونہ اطمینان ہوجاتاہے کہ اس ملک میں ان شاء اللہ اندلس کی تاریخ دہرانا آسان نہیں ہے، جب مسلمانانِ ہند اس سے بدتر حالات میں بھی اپنی ایمانی طاقت کے ساتھ الحمدللہ اس کا کامیاب مقابلہ کرکے دنیا کے سامنے اپنی مؤمنانہ زندگی کا ثبوت دے چکے ہیں تو ان موجودہ تشویش ناک حالات میں بھی اپنی توحیدی شان کے ساتھ پھر ایک بار اُبھر کردنیاکے سامنے آنے میں کامیاب ہوں گے اور اس ملک میں اپنے دینی تشخص کے ساتھ اپنے وجود کو ثابت کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے۔
ماضی اور حال میں فرق
لیکن ہمیں یہ بات بھی سمجھنا چاہیے کہ ہمارے ملک کے مسلمانوں کو ماضی میں درپیش حالات اور موجودہ صورتِ حال میں بنیادی فرق ہے،ماضی میں نشانہ مسلمان تھے اور اب اسلام ہے۔سابق میں مسلمانوں ہی کو عملاً ختم کرنے اور ان کو پوری طرح جانی ومالی نقصانات سے دو چار کرنے کی منصوبہ بندکوشش کی گئی تھی اور اس میں ان کو تھوڑی بہت کامیابی بھی ملی تھی لیکن اب وہ اس سرزمین سے مسلمانوں کے بجائے اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ۱۸۵۷ءسے ۱۹۴۷ءتک نوے سال کے وقفہ میں اور اس کے بعد بابری مسجد کی شہادت تک مسلمانوں کی جان ومال کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجہ میں اس دوران وقفہ وقفہ سے رونماہونے والے فسادات میں جان بحق ہونے والوں کی تعداد مجموعی طور پر دس لاکھ کے آس پاس پہنچ گئی جو پوری اسلامی تاریخ میں بغیرجنگ کے کسی بھی ایک ملک میں یک طرفہ جان بحق ہونے والوں کی بہت بڑی تعداد تھی، جس کی مثال ہمیں بغداد میں تاتاریوں کے حملہ کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتی، اب صورت حال اس کے برخلاف ہے۔ عالم اسلام میں اب اسلام دشمن طاقتوں کو اندازہ ہوگیاہے کہ وہ قیامت تک اس سرزمین سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے تواس وقت یہ فیصلہ کیا گیاہے کہ ان کو عملاً نام کے مسلمان رکھتے ہوئے اندورن سے ان کی ایمانی قوت کو ختم کیاجائے یاپھرایمانی جذبہ کو کم ازکم سرد کرتے ہوئے انھیں صرف جسمانی اعتبار سے باقی رہنے دیاجائے ۔
ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ایک حدتک اس میں ان کو کامیابی بھی ملی ہے چنانچہ عالمی سطح پر نظامِ تعلیم میں ایسی تبدیلی کی گئی ہے کہ ایک طرف اس سے اخلاقی انارکی بھی آئے اور دوسری طرف اس سے استفادہ کرنے والے طلبہ وفارغین یا تو اپنے مذہب سے دور ہوجائیں یا کم از کم اپنے گھر کی چہاردیواری تک اپنے دین کو محدود رکھیں اور مغربی تہذیب وثقافت کو اپناتے ہوئے خود ساختہ روشن خیالی اور ترقی کے نام سے وہ ایک دن خود اپنے دین کے باغی اور معترض بن کر سامنے آئیں ،چنانچہ آج عالم اسلام بالخصوص عالم عرب میں جو نئی تعلیم یافتہ نسل حکمرانی کے فرائض انجام دے رہی ہے، ان کے نظریات وافکار،اسلام پر ان کے اعتماد کی کمی، یہودو نصاریٰ سے ان کی قربت اوردین پسند تحریکات و اداروں اور اسلامی شخصیات سے ان کی دوری بلکہ نفرت اورالرجی ان ہی مذموم عزائم میں ان کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
عالم اسلام اور عالم عرب کی طرح ان یہود نواز تنظیموں اور صہیونی ومشنری اداروں کو تہذیبی یلغار اور فکری ارتداد کے حوالہ سے خود ہمارے ملک میں بھی غیر متوقع کامیابی مل رہی ہے۔چنانچہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آج سے بیس سال قبل تک وقفہ وقفہ سے ملک کے کسی بھی صوبہ یا خطہ سے فرقہ وارانہ فسادات کی خبریں آتی تھیں لیکن دس پندرہ سال سے یہ سلسلہ تقریباًرک گیا ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اعلیٰ سطح پر موجود پالیسی ساز شخصیات اور یہودیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے والے برہمن واداداروں کو عالمی سطح پر ہونے والے اس کامیاب منصوبہ و تجربہ کو ہمارے ملک میں بھی درآمد کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ اس ملک سے مسلمانوں کو ختم کرنے کی ناکام کوششوں کے بعد مسلمانان ہند وبرصغیرپر بھی اب اس آخری حربہ کو آزمایاگیا ہے جس کے مطابق مسلمان نام کے مسلمان رہ جائیں اور چاہے تو نماز،روزے اور حج وزکاۃ کے بھی پابندرہیں لیکن زندگی کے مختلف شعبوں اور انفرادی و اجتماعی زندگی میں اپنے ملّی تشخصات کو چھوڑکراپنے دین کے زیراثر رہنے کے ارادوں اورخیالات سے دستبردار ہوجائیں اور ایک ایسے متحدہ کلچر میں ضم ہوجائیں، جس میں ایمان تو دور کی بات اخلاق اورحیاکا بھی دوردور تک نام ونشان نہ رہے۔
اسلام دشمن طاقتوں کو اس معاملہ میں مجموعی طور پر ماضی قریب میں اتنی کامیابی نہیں ملی ہے جتنی ان کو پچھلے دس سالوں میں عالم اسلام بالخصوص برِصغیر میں ملی ہے،جس کے نتیجہ میں ادھر چندسالوں میں فکری ارتداد والحاد کے جوواقعات مسلم معاشرہ میں پیش آئے ہیں وہ پچھلے پچاس سالوں میں پیش نہیں آئے ہیں ، اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ۲۰۰۵ء تک اسلام کے عائلی قوانین کے خلاف عدالتوں میں رٹ داخل کرنے والے اکثر غیر مسلم ہوا کرتے تھے اور اس میں اکاّدکاّہی کوئی مسلمان ہوتا تھا لیکن اب حال یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا بو رڈ کروڑوں کے صرفہ سے جن عائلی قوانین کے سلسلہ میں عدالتوں میں مقدمات کا سامناکررہا ہے وہ اکثر خود ہمارے مسلمان بھائی بہنوں کی طرف سے داخل کردہ ہیں۔ اسی طرح اسلام پر اعتراضات کرنے والے ٹی وی چینلوں کے ڈیبیٹ میں اس وقت غیرمسلموں سے زیادہ ہمیں خود عصری تعلیم یافتہ مسلم مرد وخواتین نظر آرہے ہیں ۔
ہمارے ملک میں اسپین کی تاریخ دہرانا ناممکن نہیں مشکل ضرور ہے۔اس احساس کے باوجود کہ ہمارے ملک کو دوسرا اسپین بنانے کی بڑی حکمت عملی کے ساتھ منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز بھی ہوچکاہے لیکن تاریخ کے جن طالب علموں کی اسپین میں مسلمانوں کے انخلا کے وقت اس وقت کے وہاں کے دینی واخلاقی حالات اور ہمارے ملک کی موجودہ صورتِ حال پر نظر ہے ان کا کہنا ہے کہ دونوں جگہ کے حالات میں بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہندوستان میں اس تاریخ کو دہرانے کاقوی امکان تو ہے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ، مسلمانوں کو اسپین سے ہجرت کرانے اور اپنے دین سے دستبردار کرانے میں کامیابی ان کواس لیے ملی تھی کہ وہاں اس وقت علما اور عوام کا آپسی ربط نہ ہونے کے برابر تھا،مذہبی قائدین خودآپس میں دست وگریباں تھے اور فقہی مسالک کو دین کا درجہ دیے ہوئے تھے، آپسی انتشاروافتراق اور گروہ بندی آخری حد تک پہنچ گئی تھی جس کی وجہ سے عوام دینی قیادت سے بدظن تھے،شریعت کے تحفظ میں اہم رول ادا کرنے والے دینی مدارس کا وجودوہاں اُس وقت نہ ہونے کے برابر تھا، نئی نسل کے ایمان پر باقی رکھنے کی کوششیں بھی جو دینی مکاتب کی شکل میں ممکن تھیں، نہ ہونے کے برابر تھی۔ دوسری طرف غیراسلامی تہذیب جس طرح خاموشی سے مسلمانوں کے اندرون سے ایمان وتوحید کو کھوکھلاکررہی تھی اس کا احساس عوام تو عوام خواص کوبھی نہیں تھا اور نہ اس کے سدّ باب کے لیے اجتماعی کوششیں ہورہی تھیں ، برادرانِ وطن تک دین کے پیغام کو پہنچانے اور ان میں اسلام کا تعارف کرانے کا دعوتی کام بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔
لیکن اس کے برخلاف الحمدللہ ہمارے ملک کوہزاروں کمیوں اور کوتاہیوں کے باوجودجس کا ہمیں خود احساس بھی ہے اور اعتراف بھی، اب تک اس ناگفتہ بہ صورتِ حال سے مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے محفوظ رکھا ہے۔ اسپین میں ان کوکامیابی اس لیے بھی ملی تھی کہ ایک طرف خارج میں دشمنوں کی حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی تھی تو دوسری طرف اندرون میں اس کے لیے میدان بھی ہموار تھااور زمین بھی نرم تھی، ہمارے یہاں اگرچہ اس کے لیے نہ صرف کوششیں ہورہی ہیںبلکہ اسپین سے زیادہ بڑے پیمانے پر اور بڑی چالاکی اور مکاّری سے اس کو عملی جامہ پہنانے پر توجہ بھی مبذول کرائی جارہی ہے لیکن ہزار کوششوں کے باوجود ان کو اس میں کامیابی کا ملنا ناممکن نہیں تو بہت دشوارضرورہے۔ اس لیے کہ ہمارے ملک کے طول وعرض میں دینی مدارس کا جال مضبوط اسلامی قلعوں کی شکل میں آج بھی موجود ہے جس کی مثالیں پورے عالم اسلام میں اس وقت نہیں ملتیں ۔ دین وشریعت سے عوام وخواص کو مربوط رکھنے میں اہم رول ادا کرنے والی سدّسکندری کی طرح قائم یہ ایمانی چہاردیواریں اور تحفظِ شریعت کے مراکز جس کی اہمیت کا اندازہ ہم سے زیادہ ہمارے دشمنوں کو ہے۔ اپنا دعوتی فریضہ کسی نہ کسی صورت میں انجام دے رہے ہیں ،اسی کے ساتھ دین اسلام کو انحرافی نظریات سے محفوظ رکھنے اور نت نئے فتنوں کے تعاقب کا فریضہ بھی ہمارے یہی دینی مدارس کے فارغین ہی انجام دے رہے ہیں ، الحمدللہ علماء پر عوام ہی نہیں خواص کا بھی اعتماد ابھی کسی قدر باقی ہے، ان کی ایک آواز پر لاکھوں کا جو مجمع آج بھی اپنے دین کے تحفظ کے لیے میدان میں آکر اپنی زندگی کا ثبوت دیتا ہے، اس کا تصور اس وقت آپ کسی اسلامی ملک میں بھی نہیں کرسکتے۔ اپنے ہزار مسلکی اختلافات کے باوجود دینی حلقوں اور مذہبی قیادت میں آج بھی ملت کے مشترکہ مسائل میں تال میل کسی نہ کسی صورت میں پایاجاتا ہے۔ علماء اوردینی قیادت پر امت کا یہی اعتماد، ان دینی مدارس اوراسلامی قلعوں کی برکت سے مسلمانوں کا توحیدِ خالص کے ساتھ اپنی شریعت پر زندہ رہنے کا یہی پختہ عزم اور شریعت سے ان کی وابستگی ووارفتگی کی یہی عظیم نعمت دشمنوں کی نظر میں اس وقت کھٹک رہی ہے۔ ان کو اب یقین ہوگیا ہے کہ ہم اس ملک میں اسلام کو زندہ رکھنے والے ان مدارس کے پھیلتے اس وسیع جال کو نہ ختم کرسکتے ہیں اور نہ علما ء سے عوام کے اس مستحکم ربط کو ختم کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں، اس لیے اب ان کی کوششیں یہی ہیں کہ کم از کم دینی قیادت پرعوام وخواص کے اعتماد میں خاموشی سے کمی لانے کی کوشش کی جائے اور دینی مدارس سے عوامی ربط کو کمزور کیا جائے اور خود ان مدارس کو خالص دینی تعلیم کے بنیادی مقصد سے ہٹا کر عصری تعلیم کی آمیزش کے ساتھ اس کی حقیقی روح سے اس کو دور کرکے برائے نام مدرسہ یا جامعہ رہنے دیاجائے۔
اس پورے پس منظر میں اب برصغیر کے مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اگر اپنے اس ملک میں اسپین کی تاریخ کو دہرانے سے اس کو بچاناچاہتے ہیں تو اپنے ان مدارس ومکاتب اور دینی قلعوں کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اس کو پہلے سے زیادہ مستحکم ومضبوط کریں اور اغیار کی چالوں کو سمجھتے ہوئے مدارس کی روح کو باقی رکھتے ہوئے اس کو اپنے حقیقی وبنیادی مقاصد سے ہٹنے نہ دیں ۔
ہمیں اپنی دعوتی کوتاہیوں کا بھی جائزہ لینا ہے:
عالم اسلام کے ان تشویشناک حالات اور خود اپنے ملک کی ناگفتہ بہ صورت حال میں اسپین کی تاریخ کے مطالعہ کی روشنی میں ہمیں اب ان کو تاہیوں اور غفلتوں سے بھی بچ کر رہنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے الحاد وارتداد کی شکل میں وہاں اللہ کا عذاب نازل ہواتھا،تاریخ بتاتی ہے کہ دعوتی فرائض سے غفلت اوربرادرانِ وطن تک اسلام کا پیغام نہ پہنچانا ان کا سب سے بڑا اور بنیادی جرم تھا۔ آج ہم سے بھی اس ملک میں پھر وہی غلطی سرزد ہورہی ہے چنانچہ ہمیں شکوہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی طرف سے ظلم پر ظلم کے باو جود ان کی پکڑ کیوں نہیں ہورہی ہے اور ہم مظلوموں کے لیے آسمان سے اللہ کی مدد کیوں نہیں آرہی ہے، دراصل قرآن وحدیث کی روشنی میں ظالم وہ نہیں ، ہم ہیں اور مظلوم ہم نہیں ، وہ ہیں ۔عادۃاللہ یہ رہی ہے کہ جب بندگانِ خدا تک دعوت کاپیغام پہنچ جاتاہے اور وہ مسلسل انکار کر کے پھراہلِ ایمان پر ظلم کرتے ہیں توان کی پکڑ ہوتی ہے۔ اپنے ملک کے اسّی فیصد برادرانِ وطن کے تعلق سے اس وقت ہم اہلِ ایمان کیایہ کہنے کی پوزیشن میں ہیں کہ ہم نے توحید ورسالت کی عظیم امانت کو ان تک پہنچادیاہے یا کم از کم ان کی نظروں سے گزار دیاہے؟ یقینا ہم سب کا جواب نفی میں ہے،کتنے ہمارے مسلم سرمایہ دار، صنعت کار اور تجاّر ہیں جن کی ماتحتی میں سیکڑوں نہیں ہزاروں غیر مسلم برادرانِ وطن سالوں سے ان کی کمپنیوں میں خدمت انجام دے رہے ہیں یا ان کے تعلیمی وسماجی اداروں میں ملازمت کررہے ہیں لیکن اس دوران کبھی ہم نے بھول کر بھی زندگی میں ایک دفعہ ہی سہی خود ان کی خیر خواہی کرتے ہوئے ان کوآخرت کے ہمیشہ ہمیش کے عذاب سے ڈرا کر شرک وکفر سے باز آنے کی ترغیب دی ہے؟ ہم فخرسے کہتے ہیں کہ ہماری دکانوں ، آفسوں اور کمپنیوں میں ہمارے سامانِ تجارت کے خریدار مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم ہیں ، ان کی گھریلو تقریبات میں ہم شریک ہوتے ہیں اور خوشی کی ہماری محفلوں میں وہ بھی آتے ہیں لیکن کل قیامت میں جب انھیں شرک کی وجہ سے ہمیشہ ہمیش کی جہنم کی سزاملے گی اور اس موقع پر ہماراحوالہ دے کروہ اللہ تعالیٰ سے انصاف طلب کریں گے کہ اے اللہ! اگر ہمارے ان کے بھائیوں نے ایک بار ہی سہی آپ کے اس پیغام کو ہم تک پہنچایا ہوتا تو شاید آج ہمارے لیے یہ نوبت نہیں آتی،تواس وقت ہمارا کیا جواب ہوگا؟ یہ سوچ کر ہی ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔
بعض خوش کن تجربات
ہمیں ڈر لگارہتاہے کہ اگر ہم ان کو براہ ِ راست اسلام کی دعوت دیں گے تو اس کا منفی ردِ عمل ہوگا اور مسائل کھڑے ہوں گے لیکن پوری اسلامی اور دعوتی تاریخ بتاتی ہے کہ خوش اسلوبی اور خلوص نیت سے جب اس فریضہ کو انجام دیا گیا تو اس کے نتائج حیرت انگیز طورپرخلاف توقع ہی سامنے آئے، سخت سے سخت دل انسان کے سامنے بھی جب حکمت کے ساتھ اسلام کا تعارف کرایا گیا تو ان کے دل پسیج گئے اوروہ یا توحلقہ بگوش اسلام ہوئے یا پھر ان کی اسلام کے تعلق سے غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا،خود ہمارے ملک کے بعض واقعات سے جس کا راقم الحروف خود عینی شاہد ہے ان مثبت دعوتی نتائج کی مزید وضاحت ہوسکتی ہے۔
(جاری)