نئی دہلی//پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے حکومت نے اتوار کو ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی شرکت متوقع ہے۔پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 29 نومبر سے شروع ہوکر 23 دسمبر تک چلے گا۔ ایک دن پہلے 28 نومبر یعنی اتوار کو کل جماعتی میٹنگ ہوگی۔اتوار کی شام راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے فلور لیڈروں کی میٹنگ بلائی ہے۔اسی طرح لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا سے توقع ہے کہ وہ 27 نومبر کو ایوان زیریں کے فلور لیڈروں کی میٹنگ بلائیں گے۔مانا جارہا ہے کہ اس میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہوسکتے ہیں۔اس کے علاوہ سینئر مرکزی وزراء راجناتھ سنگھ اور امت شاہ، پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی کے ساتھ میٹنگ میں حکومت کی نمائندگی کریں گے۔ میٹنگ میں سرمائی اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کو ٹھیک طرح سے چلانے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ بات ہوسکتی ہے۔پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کی اہمیت ہے کیونکہ حکومت تین متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے ایک بل پیش کرے گی، جس پر دونوں ایوانوں میں گرما گرم بحث ہونے کی امید ہے۔بدھ کو کابینہ کے اجلاس میں بل کی منظوری متوقع ہے۔ اجلاس میں ایک مرتبہ پھر سے شورو ہنگامہ کا امکان ہے۔ اپوزیشن پارٹی سرکار کے تین زرعی قوانین کو واپس لینے کے معاملہ کو بھی اس سیشن میں اٹھا اسکتی ہیں۔ جہاں ایک طرف اپوزیشن پارٹیاں سرکار کو پارلیمنٹ کے اندر گھیرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں تو کسان بھی حکمت عملی بناکر پارلیمنٹ کے باہر سرکار کو گھیرنے کیلئے کسان تنظیموں نے 29 نومبر کو پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کا بھی اعلان کیا ہے۔