بلا شبہ آج ٹیکنالوجی کا زمانہ ہےاور اس جدید زمانےکے بھی اپنے تقاضے ہیں، جس میں ڈیجیٹل شناخت بنانا اور اس شناخت کو استعمال کرنا بھی دو اہم باتیںبن چکی ہیں۔اگرچہ شناخت کے یہ نئے حوالے رائج ہوئے ہیں،لیکن اس شناخت کے بحران کا مسئلہ بھی زیربحث آچکاہے۔ یونیورسٹیوں میں انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں الیکٹرانکس کے شعبوں میں زیر تعلیم طلاب کے مطابق سوشل میڈیا کی آمد کے ساتھ کچھ نئے سوالات نے بھی سر اٹھایا ہے۔جن کے مثبت اور منفی دونوںاثرات نوجوانوں میں واضح طور پر نظر آرہے ہیں اور یہ عمل دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔
بَلاگز نے بے شک بہت سے نوجوانوں کو لکھنے پڑھنے کی طرف مائل کیا ہے اور بہت سے نوجوان اپنے سوچ سے کچھ نہ کچھ لکھنے یا تصنیف کرنےکے قابل بن چکے ہیں،تاہم اس کا یہ منفی اثر بھی سامنے آرہا ہے کہ وہ جو کچھ سوچتے ہیں، اُسے انٹرنیٹ کے ذریعے دُنیا کے سامنے پیش کردیتے ہیں ،جن سےعام لوگوں پر منفی اور مثبت اثرات دونوں مرتب ہوجاتے ہیں۔ آج انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ہر شخص ایک ذاتی شناخت رکھتا ہے اور ویب کی دنیا کی بہت سی شناختیں رکھ لیتا ہے۔ گویاشناخت خانے بڑھنے کے ساتھ ذہنی خلجان بھی بڑھ رہا ہے۔ ہر وقت اپنی ڈیجیٹل شناخت کی بہتر انتظام کاری ، فیس بک، ٹوئٹر، بلاگز اور گروپ کے صفحات بہتر بنانے، یوٹیوب چینل کو اَپ ڈیٹ رکھنے اور نہ جانے کیا کیا پریشانی لاحق رہتی ہے۔ نوجوان اس فکر میں رہتے ہیں کہ ان کی کوئی بھی سرگرمی ویب پر تحریر یا تصویر کی صورت میں آنے سے رہ نہ جائے۔ جس کے لئے بہت سے نوجوان غیر مفید سرگرمیوں میںاپنا زیادہ وقت صرف کرتے ہیںاور ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی تگ و دَومیںمشغول رہتےہیں۔
ان تمام سرگرمیوں کے دوران وہ عملی طورپر سماجی رابطوں سے دور ہو جاتے ہیں اور گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے یا سیل فون ہاتھ میں لئے مصروف رہتے ہیں۔ اس طرح ان کی جسمانی سرگرمیاں محدود ہوجانے سے صحت کے مسائل بھی پیدا ہوجاتےہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں ان مسائل پر شدومد کے ساتھ مباحثے تو جاری ہیں جو ذرایع ابلاغ کی زینت بھی بنتے رہتے ہیں۔ بہت سی جامعات میں ان مسائل پر تحقیقی کام ہورہا ہے، لیکن ہمارے یہاں لوگ انفرادی سطح پر ان مسائل پر گفتگو کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرتے ہیں۔سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے کئی اور مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ بہت سے نوجوان برسوں سے جھوٹی شناخت کے ساتھ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود ہیں،جس سے اُن کے ذہن متاثر ہو رہے ہیں،اوروہ جس شناختی تصادم کی کیفیت میں جی رہے ہیں وہ اُن کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی نےاُنہیںبہ یک وقت کئی کشتیوں کا سوار بنا دیاہے۔
ایک جانب اسلامی اور مشرقی شناخت، روایات، آداب اور سماجی تقاضے ہیں اور دوسری جانب مغرب کی شناخت، روایات، آداب اور ترقی کی چکا چوند ہے۔ ہمارے جوان جسمانی طور جہاں رہتے ہیںاور دوستیاں دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ کرتے ہیںاور اُنہی کی باتوں کے اثرات قبول کرلیتے ہیں۔ اس طرز عمل کا اثرات ،اُن کے قلب و ذہن پر تیزی سے مرتب ہو رہے ہیں،جس سے وہ مختلف اقسام کے مخمصوں کا شکار ہورہے ہیں۔ جب وہ اپنا مقابلہ ترقی یافتہ دنیا کے نوجوانوں سے کرتے ہیں تو اُن میں سے کچھ مثبت انداز میں اپنے آپ کو اور معاشرے کو بہتر بنانے کی فکر میںلگ جاتے ہیں۔
لیکن زیادہ تر نوجوان مایوسیوں اور پریشانیوں کےشکار ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ وہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور انٹرنیٹ کی دیگر سائٹس کی بدولت دنیا بھر میں سیکڑوں دوست بنا لیتے ہیں، لیکن اپنے معاشرے میں اپنے دوست و احباب کھوکر انٹرنیٹ کے ذریعے بھی تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی اور کاروباری میدان میں کچھ حاصل نہیں کرپاتے ہیں۔ درحقیقت کوئی بھی چیز تب تک بُری نہیں ہوتی جب تک وہ حد سے نہ بڑھے۔ کسی بھی معاملے میںبے جا زیادتی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا کا استعمال اس طرح کرنا چاہیے کہ اس سے ہماری سوچ کو مثبت پہلو ملے،ہماری اخلاقی اور مادّی ترقی کی راہیں کھلیں۔