عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// دہلی ہائی کورٹ نے 21 جون کو منعقد ہونے والے نیٹ یو جی 2026 ری-ایگزام سے قبل ٹیلیگرام میسجنگ ایپ پر عائد عارضی پابندی کو برقرار رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کے فیصلے کو جائز قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کی جانب سے اٹھایا گیا قدم “غیر متناسب نہیں” بلکہ امتحانی نظام کے تحفظ کے لیے ایک ضروری اقدام ہے۔جسٹس تیجس کریا پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے جمعہ کو سماعت کے دوران کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ٹیلیگرام تک رسائی محدود کرنے کا فیصلہ “کم سے کم پابندی والا” اقدام ہے اور حکومت کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 69A کے تحت ایسا کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی سفارش پر 16 جون کو ایک حکم جاری کرتے ہوئے ٹیلیگرام پر 22 جون تک عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔ اس مدت میں 21 جون کو ہونے والا نیٹ ری-ایگزام اور اس کے بعد کا وقت بھی شامل ہے۔مرکزی حکومت نے ٹیلیگرام کو یہ ہدایت بھی دی تھی کہ 30 جون تک بھارت میں پہلے سے پوسٹ کیے گئے پیغامات میں ترمیم کی سہولت بھی معطل رکھی جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض گروہ اسی فیچر کا استعمال کرتے ہوئے بعد میں جعلی سوالیہ پرچے یا فرضی “پیپر لیک” کے ثبوت تیار کرکے طلبا کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب ٹیلیگرام کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس فیصلے سے ملک کے 15 کروڑ سے زائد صارفین متاثر ہوں گے اور یہ پابندی غیر ضروری ہے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح کے حساس امتحانات کی شفافیت برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔واضح رہے کہ 3 مئی کو منعقدہ نیٹ-یو جی امتحان کو سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات مرکزی تفتیشی ادارہ (سی بی آئی) کر رہا ہے جبکہ دوبارہ امتحان 21 جون کو منعقد ہوگا۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے طلبا سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں اور گمراہ کن خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ این ٹی اے کے مطابق امتحان کے شفاف انعقاد کے لیے کئی سطحوں پر حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور نقل یا بدعنوانی کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔