عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جے ڈی یو پارٹی کے صدر جی ایم شاہین کے دفتر کی جانب سے حکومت کو مطالبہ پیش کیا گیا ہے کہ مالی سال کے اختتام، یعنی 31 مارچ 2026 سے پہلے تمام بقایا ٹھیکیدار ادائیگیاں فوری طور پر کلیئر کی جائیں۔جائز طور پر واجب الادا رقوم کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر نہ صرف انتظامی غفلت بلکہ مالیاتی غیر ذمہ داری کی سنگین مثال ہے۔
وہ ٹھیکیدار جنہوں نے عوامی انفراسٹرکچر منصوبوں کو دیانتداری اور معاہداتی اصولوں کے مطابق مکمل کیا، انہیں بلا جواز مالی دبا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ادائیگیوں میں اس غیر ضروری تاخیر کے باعث ٹھیکیدار برادری شدید مالی بحران کا شکار ہو چکی ہے، جس سے نہ صرف ان کے روزگار متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ترقیاتی منصوبے بھی تعطل کا شکار ہیں اور ادارہ جاتی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ صورتحال حکومتی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کی عکاسی کرتی ہے۔جے ڈی یو نے واضح کیا ہے کہ تصدیق شدہ بقایاجات کی ادائیگی کوئی احسان نہیں بلکہ ریاست کی قانونی ذمہ داری ہے۔ مزید تاخیر کو دانستہ غفلت اور انتظامی ناکامی تصور کیا جائے گا۔حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری اقدامات کرتے ہوئے تمام زیر التوا بلوں کی مکمل ادائیگی 31 مارچ 2026 سے پہلے یقینی بنائی جائے۔ بصورت دیگر، پارٹی اس معاملے کو آئینی، قانونی اور جمہوری طریقوں سے مزید آگے بڑھائے گی۔