ڈاک او رڈاک خانہ کی اہمیت ہر دور میںمُسلّم رہی ہے ۔زمانہ کبھی بھی ایک ہی ڈگر او ریکسان نہیں رہتا ہے ۔یہ دُور کی بات نہیں ہے بلکہ دو تین دہائیوں کی قبل کی طرف جب ہم چشم تصور سے جھانکتے ہیں تو صاف طور پر یہ نظر آتاہے کہ آج کی جدید ترین سہولیات کی نسبت بہت کچھ ڈاک پر ہی منحصر ہوتاتھا۔متوسطہ درجے کے لوگ عمومی طور پر بینکوں سے زیادہ اپنی چھوٹی چھوٹی رقمیں بچا کر ڈاک خانہ میںکھاتہ کھول کر ان رقوم کو محفوظ رکھتے تھے۔Small Saving Scheme کے تحت اکثر غریب او رنادار لوگ اپنی بچت شدہ رقم کو ڈاک خانہ میں کھولے گئے کھاتوں میں ڈال کر بوقتِ ضرورت ایک بڑی رقم سے استفادہ کرتے تھے ۔اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں او رلاکھوں کی رقوم سے بھی کھاتہ کھول کر یہ معیاد بند سرٹفکیٹ کی صورت میں لوگ روپیہ جمع کرتے تھے ۔بچت بنک کے علاوہ ڈاک خانوں میں کثیر المقاصد خدمات میسر رہتی تھیں۔ جوکہ آج بھی بہت حد تک جاری و ساری ہیں۔ مثلاً منی آرڈر بکنگ او راس کی ادائیگی‘ ڈاک ٹکٹوں کی فروخت پوسٹل آرڈر‘لائف انشورنس اور کچھ دیگر خدمات۔
مگر اس سب کے باوجود محکمہ ٔ ڈاک کی چٹھیوں کی ترسیل اور تقسیم کاری کی وجہ سے ہی اس کی اپنی ایک الگ پہچان رہی ہے ۔ ڈاک کی شمولیات میںعام چٹھیوں کے ساتھ رجسٹرڈ خطوط سپیڈ پوسٹ خطوط‘ پوسٹ کارڈ‘ درمیانی اور چھوٹے سائز کے رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ پیکٹز او رپارسل بھی آتے ہیں۔ماضی قریب میں اس مقصد کی انجام دہی میں نہ کوئی پرائیویٹ ایجنسی ہوتی تھی او رنہ کسی قسم کی کورییرCorrierسروس ہوتی تھی بلکہ یہ خدمات محکمۂ ڈاک میں کام کرنے والے اہلکار انجام دیتے تھے۔
ایسے پُر رونق دنوں کو یاد کرتے ہوئے یہی لگ رہا ہے کہ گویا سب کچھ کھوگیا ہے۔کاروباری حضرات اور تجارت پیشہ لوگوں کی نظریں اکثر ڈاکیوں کی طرف لگی رہتی تھیں۔ اس زمانہ کے ڈاکیے بھی بڑے حساس اور ذمہ دارہوتے تھے۔ڈاکیوں کا محکمہ کی وردی میں ملبوس رہنا ایک معمول ہوا کرتا تھا۔ڈاکیہ اپنی ڈیوٹی کے ددران خاکی رنگ کی وردی میں نظر آتا تھا۔ اس کے سر پر خاکی رنگ کا دستار ہوتا تھا یا اسی رنگ کی ٹوپی ہوتی تھی جس پر محکمے کا برنگ سرخ نشان ہوتا تھا۔محکمہ کی طر ف سے اس کو چمڑے کا سیاہ رنگ کا مضبوط جوتا بھی فراہم کیاجاتا تھا۔اس کے ساتھ ڈاک وغیرہ رکھنے کے لیے ایک بیگ بھی دیا جاتا تھا۔ سردی کے موسم او رگرمی کے موسم میں الگ سے وردیاں فراہم کی جاتی تھیں۔بارش میں کام آنے والے لمبے سائز کی برساتی بھی ڈاکیوں کو اپنے محکمے کی طرف سے فراہم کی جاتی تھی۔ سرکاری دفاتر‘دکانوں اور بازاروں میں ڈاکیہ حضرات کی ایک الگ پہچان ہوتی تھی۔کاروبار سے وابستہ اور دیگر متعلقین ڈاکیوں کے ساتھ احترام او رحُسنِ سلوک سے پیش آتے تھے اور نذرانے یا دیگر تحائف دے کر ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرتے تھے ۔ایسے لوگوں کو یہ خدشہ رہتا تھا کہ ناراضگی کی صورت میں کہیں ان کی متوقع چٹھی یاضروری دستاویز وغیرہ چھوٹ نہ جائے۔
محکمہ ٔ ڈاک کے افسران بالا بھی با اختیار ہوتے تھے او راپنے فرائض منصبی کے ساتھ پورا پورا انصاف کرتے تھے۔وہ بھی ہمہ وقت ڈاک کی نگرانی کرتے تھے اور اپنے ماتحت عملہ کو چاک و چوبند رکھتے تھے۔ بابو لوگوں کے ذمہ یہ ہوتا تھا کہ عام یا رجسٹرڈ ڈاک دفتر میں پہنچنے پر اس کو تاریخ رسید کی مہر لگاکر چھاپتے تھے ۔تاکہ چٹھی اور خطوط وغیرہ کی رسیدگی کی تاریخ بطور ثبوت موجودرہے۔ روزانہ بنیادوں پر اپنی اپنی مہر کی تاریخ بدل دی جاتی تھی اور ان کاBook of Post Marks پر ایک عکس لے کر دستخطوں کے ساتھ رکارڈ پر رکھا جاتاتھا۔رجسٹرڈ خطوط کو گِن کر ساتھ والی لسٹ کے ساتھ نمبروں کے ساتھ ایک ایک کرکے ٹِک کیا جاتا تھا اور یہ ایک کٹھن کام ہوتا تھا۔ پھر باضابطہ ان خطوط کو درج کرکے رسید کے تحت ڈاکیہ کے سپرد کیا جاتا تھا۔
ایسے خطوط کے لیے بہت سارے لوگ ڈاک خانوں پر بذاتِ خود آتے رہتے تھے۔ کیونکہ بہت سارے خطوط میں گراہکوں کے آڈر‘ سامان کی بلٹی یا ڈرافٹ ہوتے تھے ۔ یہ رجسٹرڈ خطوط ان سے دستخط لے کر تقسیم کیے جاتے تھے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور سپیڈ پوسٹ کا Volumeبہت حد تک بڑھ گیا ہے۔ سپیڈ پوسٹ خطوط‘ پارسل‘ پیکٹ وغیرہ بھاری تعداد میں ڈاک خانوں میںموصول آج بھی ہوجاتے ہیں۔
عام قسم کی ڈاک گذشتہ وقتوں میں بھی بھاری تعداد میں آتی تھی اور بروقت تقسیم کی جاتی تھی۔ نام او رپتہ نا مکمل ہونے کی صورت میں یہ ڈاک ایسے ہی ہفتوں پڑی رہتی تھی کہ کہیں کوئی ڈھونڈنے والا آجائے۔ بصورت دیگر ایسی ڈاک کوD.L.O (Dead Letter Office) یا R.L.O (Returned Letter Office) بھیجا جاتا تھا او ر اس طرح اس کو ٹھکانے لگایا جاتا تھا۔ وہ زمانہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ جب یہاں سے حاجی حضرات سعودی عربیہ بغرضِ ادائیگی حج روانہ ہوجاتے تھے۔ وہا ں پہنچ کر وہ بذریعۂ خط اپنے گھروالوں اور عزیز و اقارب کو اپنی خیریت سے آگاہ کرتے تھے۔ اس دوران ڈاک خانہ جات میں لوگوں کی آمدو رفت ہوتی تھی اور وہ حاجی صاحبان کے خطوط کی تلاش میں ہوتے تھے۔ خط ملنے پر وہ بہت ہی خوش ہوجاتے تھے او رگھر پہنچ کر وہ احباب او رہمسایوں کو یہ پیارے پیارے خطوط پڑھ کر سناتے تھے۔والدین یا بہنیں او ردوسرے عزیز ان خطوط کو چومتے تھے اور کبھی کبھی خط کی عبارت سن کر وہ اشکبار بھی ہوتے تھے۔ جوابی خطوط میں سبھی لوگ رشتہ دار‘ ہمسائے وغیرہ سلام لکھنے کو کہتے تھے اور دعاؤں کی درخواست کرتے تھے۔ اسی طرح تاریخ میں انسانوں کے درمیان محبتوں او رعشق کا رشتہ بھی بر قرار رہا ہے ۔آپسی محبتوں کے مارے او رایک دوسرے کے عشق میں گرفتار لوگ بھی خطوط کا سہارا لے کر ایک دوسرے سے پیار و محبت کرتے تھے ۔ خطوط کی صورت میں وہ ایک دوسرے کو اپنی صورت حال او ران پر گذرے شب وروز کی کیفیات سے باخبر رکھتے تھے ۔ایسے خطوط کے لیے وہ باہمی طور پر تڑپتے تھے ۔کبھی وہ اپنے ہاتھ میں سوئی چبھو کر خون کے ایک قطرے سے ایک سطر یا دوسطریں تحریر کرکے محبتوں کا نذرانہ بھیجتے تھے۔کبھی گلاب کی پنکھڑیوں کے ساتھ خط اندر ڈال کر اپنے محبتوں کی جوت جگاتے تھے۔ ان کی نظریں ڈاکیوں پر لگی رہتی تھیں۔ یہ زمانہ خطوط نویسی او رخطوط رسانی کاایک انقلابی اور عجیب زمانہ تھا۔مگر زمانے کا یہ سلسلہ کبھی ساکت و صامت نہیں رہتا ہے۔
سلسلہ روز و شب نقش گر حیات
سلسلہ روزو شب اصل ممات وحیات
موجودہ زمانے نے اپنی کروٹ بدل کر یہ سب کچھ بدل کے رکھ دیا ہے۔آج نہ وہ خطوط آتے ہیں او رنہ لوگوں کا وہ شدید انتظار‘آج دنیا انسان کے ہاتھ میں سمٹ کے آئی ہے۔انٹرنیٹ او ردیگر ذرائع نے یہ سب کچھ ماضی کی داستانوں میں رکھا ہے۔خطوط نویسی پھر جوابی خطوط‘ انتظار‘کشمکش‘ڈاکیوں اور ہرکاروں کی وہ پھُرتی احساس ذمہ داری‘ ربط و ضبط۔ یہ ایک قصۂ پارینہ نظر آتاہے۔ڈاک خانے عام قسم کی ڈاک سے بہت حد تک سبکدوش ہوگئے ہیں۔ ڈاک ڈبے(Letter Boxes) ایسے ہی خالی اور رنگ و روغن سے عاری نظر آتے ہیں۔ بہت سارے ڈاک ڈبے تالوں اور Time Platesکے بغیردکھائی دیتے ہیں۔ ڈاک خانوں میں وہ گرماہٹ کھوئی کھوئی سی لگتی ہے ۔کیا ماتحت اور کیا افسران بالا یہ سب کمپیوٹر پر مصروف نظر آتے ہیں ؎
سمٹ گئے ہیں سبھی علم انگلیوں میںمیری
اس آگہی نے تو جاہل بنادیا ہے مجھے
(شمس کمال انجمؔ)
خطوط‘ پوسٹ کارڈ‘ اخبارات اور رسالہ جات کو الگ الگ چھانٹے ہوئے بے رنگ چٹھیوں(بغیر ٹکٹ لگے ہوئے)کو الگ سے نکال کر ڈاکیہ حضرات کو درج کرکے دیا جاتا تھا اور ان کے علاقہ جات سے واپس لوٹنے پر ایسے چٹھیوں پر وصول شدہ رقم کو دفتر کے روزانہ اکونٹ میں باضابطہ درج کیا جاتا تھا گوکہ اس سسٹم میں بعد میں کچھ تبدیلیاں بھی لائی گئی تھیں۔
ڈاک رسانی او راس کی تقسیم کا ری کا ایک مضبوط اور قابل مواخذہ طریقہ کار تھا۔ کسی بھی عام چٹھی یا رجسٹرڈ چٹھی وغیرہ کی تقسیم نہ ہونے کے اس کی پشت پر ڈاکیہ کی طرف سے وجوہات لکھے جاتے تھے اگرچہ یہ طرزِ عمل آج بھی قانونی طور پر موجودہے مگر بہت حد تک یہاں کے رواں نا مساعد سیاسی حالات سے ذمہ داریوں کا احساس بہت کم ہوگیا ہے ۔اکثر و بیشتر ملازمین او رافسرانِ بالا بس دن بھر کمپیوٹر کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔ راقم الحروف کی نظر میں پرانا سسٹم کمزور نظر آرہا ہے۔ راقم کے نام ایک رجسٹرڈ خط زیر نمبرRE899108197مورخہ14-10-2020کوٹھی باغ سے میر گھر تک(15 کلومیٹر کا سفر) پہنچنے میں 9دن لگ گئے۔ جب کہ زمانہ قدیم میںاگر آج لاہور یا راولپنڈی سے چٹھی روانہ کردی جاتی تھی تو یہ چٹھی زیادہ سے زیادہ دوسرے یا تیسرے دن سرینگر میں تقسیم کردی جاتی تھی۔ ایسے ہی دہلی سے ارسال کردہ ایک رجسٹرڈ پیکٹ مورخۂ16-6-2020مجھے آج تک یعنی5 مہینے گذرنے پر بھی نہیں ملا ہے اور ناہی یہ فریسندہ کو واپس پہنچ گیا ہے ۔ضرورت ہے کہ موجودہ جدید ذرائع کے ساتھ ساتھ ایسے دور دراز دیہات او ر پس ماندہ علاقہ جات کی طرف بھی ڈاک سہولیات میسر کرنے کی طرف توجہ دی جائے جہاں جدید قسم کی آسانیاں مثلاً کمپیوٹر‘ انٹر نیٹ او رای میل جیسی خدمات کا فقدان ہے۔
رابطہ ۔نوشہر ہ سرینگر
فون نمبر۔9419674210