دفعہ 370کے خاتمے کے بعد کشمیر میں ایک بڑی تبدیلی یہ آئی کہ تشدد کا گراف کم ہوا ۔پتھر بازیوں کا سلسلہ تقریباً ختم ہوگیا ۔آئے روز کی ہڑتالوں سے بھی راحت نصیب ہوئی ۔ عسکری معرکوں میں بھی بہت کمی واقع ہوئی ۔اس طرح کی صورتحال دہائیوں پر محیط تھی جس کی وجہ سے خاص طور پر عوام کے ایک طبقے کی حالت انتہائی ابتر ہوگئی ۔لیکن صورتحال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ایک طبقے کے پاس دیکھتے ہی دیکھتے دولت کے انبار جمع ہوئے ۔انہوں نے زمینیں خریدیں جس کے نتیجے میں اس زمین کی قیمت جو چند ہزار روپے میں بھی فروخت نہیں ہوتی تھی لاکھوں اور پھر کروڑوں تک پہنچ گئی ۔دلالوں کا ایک طبقہ پیدا ہوا جس نے راتوں رات لاکھوں کی دولت کمائی ۔نتیجہ یہ ہوا کہ مڈل کلاس طبقے کے لئے زمین خریدنا اور گھر بنانا ناممکن ہوگیا ۔ اس کی وجہ سے کئی تشویشناک سماجی مسائل پیدا ہوئے، چنانچہ آج بھی لاکھوں خاندان ایسے ہیں جن کے پاس مشکل سے ہی رہنے کے لئے ایک یازیادہ سے زیادہ دوکمرے ہیں ۔ جو لوگ ایسے حالات میں رہتے ہیں ان کے بچوں کی ذہنی حالت بگڑ گئی۔منشیات کا کاروبار فروغ پاگیا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس کاروبار میں ملوث ہوگئی۔تعلیم کا معیار انتہائی پست ہوگیا ۔ بیکاری اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ۔اس کے علاوہ ایسے بے شمار سماجی مسائل نے سراٹھایا جو آخر کار قوموں کی بربادی کا باعث بن جاتے ہیں ۔
جب اس مایوس کن صورتحال کے بارے میں سوچا جاتا ہے تو جو سوال ابھر آتا ہے، وہ یہ ہے کہ ایسا آخر کیوں ہوا۔بہت غور و حوض کے بعد اس سوال کا صرف ایک ہی جواب سامنے آئے گا کہ تشدد اور سیاسی افراتفری نے اس قوم کو اس حالت تک پہنچایا جس کے ہر ایک فرد کے پاس اپنا ایک گھر تھا۔ اپنی زمین تھی ۔ اپنا کاروبار یا کام تھا ۔ماوزے تنگ نے کبھی کہا تھا کہ انقلاب اپنے ہی بچوں کو کھاجاتا ہے ۔ اس سرزمین پر یہ بات سچ ثابت ہوئی ۔ہم نے اتنی بڑی قیمت چکائی کہ جس کا کوئی حد و حساب بھی نہیں ۔چھوٹے بچے بھی مائوں کی گودوں سے اتر کر موت کی آغوش میں گم ہوگئے ۔ جن کے سروں پر سہرے سجنے کی باری تھی وہ خون کے دریا میں ڈوب گئے ۔ بوڑھے بھی جرم بے گناہی میں مارے گئے اور عورتیں بھی ۔ عصمتیں بھی لٹ گئیں اور عزتیں بھی تاراج ہوگئیں، بدلے میں کیا ملا سوائے ذلت اور خواری کے ۔ ہزیمت اور ناامیدی کے لیکن اس کے باوجو کوئی ایک بھی ایسا فرد نہیں کہ جو اس بڑے المیے پر سوچتا اور جس میں یہ تسلیم کرنے کی ہمت ہوتی کہ ہم نے غلطی کی اور غلطی کا خمیازہ بھگتا اور اب وقت ہے کہ ہم نئے حالات میں نئی سوچ پیدا کریں ۔ اپنی غلطیوں کی تلافی کریں اور ایک نیا سفر شروع کریں جس میں ہزیمت اور نامرادی کا کوئی بھی امکان باقی نہ ہو۔ اس کے برعکس آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ان غلطیوں کو تسلیم کرنا غداری تصور کرتے ہیں ۔ جو نئی سوچ اورنیا اپروچ پیدا کرنے کے خیال کو ہی سرے سے رد کررہے ہیں حالانکہ تلخ حقائق ان کا منہ چڑھارہے ہیں ۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اپنے آپ ہی بہت کچھ بدل رہا ہے ۔ ان کی ضد کسی تبدیلی کو نہیں روک سکتی ہے پھر بھی وہ ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور ایک اور المیے کا باب رقم کرنے پر ہی تلے ہوئے ہیں ۔
آج کے اس منظر نامے کے بیچ ڈی ڈی سی انتخابات کا انعقاد ہوا ۔یہ انتخابات بے شک پھیکے ہوتے بلکہ کئی اور مسائل کا بھی باعث بنتے اگر مین سٹریم کی وہ جماعتیں ان میں حصہ نہیں لیتیں جنہوں نے کچھ ہی عرصہ قبل ایک اتحاد قائم کیا تھاجسے پیپلز الائنس برائے گپکار ڈیکلریش کا نام دیا گیا تھا ۔اس اتحاد کا مقصد اور موقف دفعہ 370اور 35اے کی بحالی کے لئے آخری دم تک جدوجہد قرار دیا گیا تھا۔ اس موقف کے حق میں یہ مضبوط دلیل تھی کہ ان دفعات کا ہٹایا جانا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے ۔اتحاد میں ایک دوسرے کی حریف جماعتیں نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی اور پیپلز کانفرنس کے علاوہ سی پی آئی ایم ے، عوامی نیشنل کانفرنس اور پیپلز مومنٹ شامل ہوئیں ۔ پہلے کانگریس بھی اس میں شامل تھی جو اس موقف کی تائید کررہی تھی کہ خصوصی پوزیشن کو ہٹایا جانا ایک غیر آئینی قدم تھا لیکن بعد میں جب الائنس نے ہر ایک انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا تو وہ اتحاد سے الگ ہوگئی ۔انتخابات میں حصہ نہ لینا عوامی اتحاد کا اٹل اور متفقہ موقف قرار دیا گیا تھا لیکن الائنس کواس وقت دو راہے پر کھڑا ہونا پڑا جب ڈی ڈی سی انتخابات کا بگل بج گیا اور اس میں حصہ لینے کے لئے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بھاچپا اور کانگریس کے علاوہ بھی انفرادی سطح پر لوگوں نے دوڑ دھوپ شروع کردی ۔اتحاد میں شامل تنظیموں کو اپنے کارکنوں سے لگاتار یہ اطلاعات موصول ہو تی رہی ہوں گی کہ الائنس کے اس انتخاب میں شامل نہ ہونے کے باوجود نہ صرف انتخاب ہوگا بلکہ قابل لحاظ حد تک لوگ اس میں شامل ہوں گے اور ووٹ بھی پڑیں گے چنانچہ عوامی اتحاد کو لگا کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرکے ایک بہت بڑی سیاسی غلطی کا ارتکاب کررہی ہے کیونکہ اس طرح سے اتحاد میں شامل جماعتیں سیاسی اعتبار سے ختم ہوجائیں گی اور نئے چہرے میدان میں اتر آئیں گے جو نئی سیاسی قوت بھی بن سکتے ہیں اور تبدیلی کا عنوان بھی ۔اتحاد کی قیادت کو یہ احساس ہوا کہ یہ انتخاب جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل کے نئے باب کا آغازہوسکتا ہے، اس لئے انہوں انتخابات میں شرکت نہ کرنے کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا حالانکہ ان کے سیاسی موقف کے اعتبار سے یہ فیصلہ انہیں نظریاتی بنیاد فراہم کررہا تھا لیکن اکثر اوقات سیاست میں ایسے موڑ بھی آجاتے ہیں جب زمینی حقائق نظریات سے زیادہ اہم بن جاتے ہیں اور زمینی حقیقت یہ تھی کہ تین دہائیوں سے ایک مخصوص صورتحال میں پسے ہوئے تباہ حال اور مایوس لوگ اپنی شکستوں کے مزار سے سر اٹھا کر باہر آنا چاہتے تھے ۔ اس زمینی حقیقت نے عوامی اتحاد کو تدبذب میں ڈال دیا ۔آخر کار اس نے بہت سارے خدشات کے باوجود لاچار ہوکر جوا کھیلنے کا فیصلہ کرلیا اور انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کردیا ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جموں کشمیر کے مفلوج سیاسی ماحول میں حرکت پیدا ہوئی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈروںکے لئے جومیدان خالی تھا اس میں ان کے سامنے ایک بڑی قوت کھڑی ہوگئی ۔عوامی اتحاد نے اپنا موقف نہیں بدلا ،وہ آج بھی اسی موقف پر کھڑی ہے جب نتائج سامنے آچکے ہیں اور اسے خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوچکی ہے ۔ انتخابی عمل کے دوران ملی ٹنسی کے واقعات بھی رونما ہوئے لیکن ان کا انتخابی عمل پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔
مجموعی طور پرامن طور پر انتخابات اختتام پذیر ہوئے اور پچاس فیصد سے زیادہ پولنگ نے اس عمل کو اتنی اعتباریت بخشی کہ بی جے پی قایدین کو کہنا پڑا کہ جیت کس کی ہوئی اور کس کی نہیں، اس سے قطع نظر جمہوریت کی جیت ہوئی ۔ عوامی اتحاد112نشستیں حاصل کرکے سرفہرست رہا ۔ بی جے پی کو 76نشستیں حاصل ہوئیں ۔سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اتحاد کی اس کامیابی کو بھارتیہ جنتاپارٹی کے لئے چشم کشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ثابت ہوا کہ لوگ پانچ اگست کے فیصلوں او ر اقدامات سے ناراض ہیں، اس لئے مرکز کو یہ فیصلے واپس لینے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے ۔وزیر داخلہ امیت شاہ نے عوام کو انتخابات میں بھرپور حصہ لینے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جمہوریت پر یقین کا اظہار کیا۔
ان متضاد آرائوں کے بیچ اگر گہرائی کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیکر لوگوں نے تبدیلی کی خواہش کا اظہار ہی نہیں کیا بلکہ اس کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔اول تو تبدیلی کے لئے پرامن اور جمہوری راستے کی طرف لوٹ آنے کی خواہش ہے اور دوم موجودہ سیاسی قیادتوں سے ناراضگی اور ان کی جگہ نئی قیادت کی تلاش ہے ۔عوامی اتحاد نے بے شک 110 نشستیں حاصل کرکے ایک بڑی جیت درج کی ہے لیکن ذراغور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس اتحاد میں شامل ہر ایک جماعت کو زبردست نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔نیشن کانفرنس جو 67سیٹیں لیکر اس انتخاب میں بی جے پی کے بعد دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، نے 2019کے پارلیمانی انتخاب میں تین نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی تھی ۔ اس حساب کے کشمیر کے 46اسمبلی حلقوں کا حساب لگا کر دیکھا جائے تو صرف کشمیر میں اس کے 110امیدواروں کو کامیابی حاصل ہونی چاہئے تھی ۔ اس لحاظ سے نیشنل کانفرنس کو خاص طور پر واد ی میں زبردست خسارہ ہوا ہے۔پی ڈی پی اس سے بھی زیادہ خسارے میں ہے ۔ ایک سینئر صحافی نے اسمبلی حلقوںاور ڈی ڈی سی نشستو ںکا تقابلی جائزہ لیکر حساب لگا یا کہ نیشنل کانفرنس اس طرح سے کل ملا کر بیس اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کرسکی ہے ۔ بی جے پی 22پر ،پی ڈی پی 8پر، کانگریس 8پر اور سی پی آئی ایم ، جموں کشمیر پبلک موومنٹ ، پیپلز کانفرنس اور پی ڈی ایف ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کرسکی ہے جبکہ آزاد امیدوار پندرہ اسمبلی نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں ۔ادھر جموں میں بی جے پی کا ووٹ شیئر 59فیصد سے گھٹ کر 34فیصد تک آگیا ہے ۔اس لحاظ سے جیت کسی کی نہیں ہوئی ہے سوائے ان گمنام چہروں کے جو آزاد امیدواروں کی حیثیت سے کامیاب ہوئے۔گپکار الائنس کو اگر جموں کے کشتواڑ اور راجوری کا سہارا نہ ملتا تو حالت مختلف ہوتی ۔اپنی پارٹی ایک نئی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے ۔
مجموعی طور پر وہ دعوے حقیقت میں غلط ثابت ہوچکے جن کا اس وقت گپکار الائنس اور بی جے پی کی طرف سے چرچا ہورہا ہے ۔ دونوں اپنے اپنے موقفوں کے حق میں اسے ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں جبکہ حقیقت مختلف ہے ۔ تشددکے طویل دور کے ستائے ہوئے لوگوں نے تبدیلی کے حق میں اپنی خواہش کا اظہار تو کردیا لیکن کسی موقف کے حق میں یا اس کے مخالف اپنی رائے نہیں دی ۔