ولادت باسعادت کے فوراً بعد ہی آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ نے آپ ﷺ کو دودھ پلایا اور پھر ثوبیہ جو ابولہب کی آزاد کردہ کنیز تھی نے آپﷺ کو دودھ پلایا ۔ یہاں اس بات کی وضاحت کرنا اور بھی لازمی ہے کہ جب ابو لہب نے آپﷺ کی ولادت کی خبر سنی تو خوشی کے الم میں اُس نے ثوبیہ کو اپنی غلامی سے آزاد کر دیا۔ ثوبیہ نے ہی آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ ؓ کو آپ سے پیشتر اپنا دودھ پلایا تھا۔ اس طور پر حضرت حمزہ ؓ آپ ﷺ کے رضاعی بھائی بھی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد ثوبیہ نے ابو سلمہ کو بھی دودھ پلایا۔
حضور ﷺ ثوبیہ کا احترام اور اکرام اس قدر کرتے تھے کہ ہجرت کے بعد بھی اُن کے لئے مدینہ منورہ سے ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔ جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو آپ ﷺ نے ثوبیہ اور اُس کے بیٹے مسروح کے بارے میں دریافت فرمایا آپﷺ سے یہ عرض کیا گیا کہ اُن کا انتقال ہوا ہے پھر آپﷺ نے معلوم فرمایا کیا اُس کے خویش و اقارب میں سے کوئی زندہ ہے تاکہ اُن سے سلوک اور احسان کا معاملہ فرمایا جائے معلوم ہوا کہ خویش و اقارب میں سے بھی کوئی زندہ نہیں۔ ابولہب کے مرنے کے بعد کسی شخص نے اُس کو خواب میں بہت ہی بُری حالت میں دیکھا اور پوچھا یہ کیا معاملہ ہے ابولہب نے کہا کہ صرف سر انگشت کی مقدار میں ہی پانی پلایا جاتا ہے۔ یعنی حضور پاک ﷺ کی ولادت با سعادت کی خوش خبری سنتے وقت جس انگشت کے اشارے سے ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔
ثوبیہ کے بعد حلیمہ سعدیہ نے آپ ﷺ کو دودھ پلایا کیونکہ عرب میں ایک دستور یہ بھی تھا کہ عرب کے شرفاء اپنے بچوں کو دودھ پلانے کیلئے دور دراز دیہاتوںمیں بھیجا کرتے تھے تاکہ بچوں کو صاف ستھرا تازہ اور شفاف ماحول ملے جس سے بچوں کی نشو نما میں بھی کوئی کسر باقی نہ رہے زبان اُن کی فصیح ہو اور عرب کا تمدن اور دیگر خصوصیات کسی بھی قیمت پر الگ نہ ہوں۔ابوبکر صدیق ؓ نے ایک مرتبہ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کی زبان نہایت فصیح ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اول تو میں قریش میں سے ہوں اور پھر بنی سعد میں ہم نے دودھ پیا ہے۔
دستور کے پیش نظر ہر برس بنی سعد کی عورتیں شیرخوار بچوں کی تلاش میں مکہ آیا کرتی تھیں ۔ سعیدہ حلیمہ فرماتی ہے کہ میں اور بنی سعد کی عورتیں شیر خوار بچوں کی تلاش میں مکہ آئے میرے ساتھ میرا شوہر اور ایک شیر خوار بچہ بھی تھا اپنی سواری کیلئے ایک دبلی پتلی اُونٹنی اور ایک لاغر گدھی بھی تھی۔ اونٹنی کا یہ حال تھا کہ اُس کے تھنوں میں دودھ کا قطرہ بھی نہ تھا بھوک سے ہم نڈھال تھے اور رات بھر بچے کو دودھ نہ ملنے کی وجہ سے اُس کا رونا بلکنا فطری تھا۔ میری چھاتی میں بھی اتنا دودھ نہ تھا کہ بچہ سیر ہوسکے۔ ہر عورت کے سامنے آپﷺ کو رضاعت کیلئے پیش کیا گیا لیکن یہ سننے پر کہ آپ ﷺ یتیم ہیں ہر عورت آپ ﷺ کو لینے سے دست کش ہوتی رہی یہ سوچ کر کہ جس بچے کے سر پر یتیمی کا سایہ ہے اُس سے حق الخدمت ملنے کی کیاتوقع رکھی جاسکتی ہے لیکن یہ بات کسی کو معلوم نہ تھی کہ یہ بچہ یتیم نہیں بلکہ آگے چل کر دریتیم ثابت ہوگا اور یہی وہ اعلیٰ اور عرفہ شخصیت ہے جس کا ہمسر اول سے آخر تک اس کائینات میں نہ کوئی تھا اور نہ قیامت تک کوئی ہوگا۔ اس اعلیٰ پایہ شخص کے ہاتھوں میں قیصر اور کسریٰ کی کُنجیاں رکھی جائیں گی ۔ دنیا میں اگرچہ اُس کا کوئی حق الخدمت دینے والا نہیں لیکن یہی وہ برگزیدہ ذات ہے جس کا والی، متولی اور مربی اللہ ہے جسکے ہاتھ میں زمین اور آسمانوں کے بیشمار خزائن ہیں جو خدمت اور پرورش کرنے والوں کو وہم و گمان سے بھی زیادہ عطا کرنے والا ہے۔
سب عورتوں نے باری باری شیرخوار بچے لئے لیکن حلیمہ ہی خالی رہ گئیں اور اس بات کا شاق حلیمہ کے دل پر بہت ہی گہرا گزرا اور اچانک الہامی طور پر اُس کے دل میں اس یتیم کو لینے کی شدید ترین خواہش امنڈ آئی اور اُس نے فوراً جاکر اپنے شوہر سے مشورہ کرکے حضور پاک ﷺ کو لے لیانیز شوہر سے مشورہ کرتے وقت شوہر نے یہ کہا کہ اگر تو ایسا کرے تو اُمید ہے کہ حق تعالیٰ اس بچے کو ہمارے لئے خیر و برکت کا موجب بنائے۔
حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ میرا بندہ جو مجھ سے گمان کرتا ہے میں اسی گمان کے مطابق اُس کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں‘‘ حلیمہ کا بچے کو لے آنا ہی اس بات کا سبب بن گیا کہ تمام تر برکات کے دروازے کھلنے لگے ۔ حضرت حلیمہؓ کہتی ہے کہ جوں ہی اس سعادت مند مولود کو گود میں لیا اور چھاتی میں دودھ یکلخت بھر گیااتنا دودھ بھر آیا کہ آپﷺ بھی سیرآب ہوئے اور آپﷺ کا رضاعی بھائی بھی سیر ہوگیا۔ اُونٹنی کا دودھ لینے گئے تو دیکھا اُونٹنی کے تھن بھی دودھ سے لبریز ہوچکے ہیں میں نے اور میرے شوہر نے بھی خوب سیر ہوکر دودھ پیا اور آرام سے رات کاٹی تو صبح ہوتے ہی شوہر نے مجھ سے کہا ’’ اے حلیمہ تو یہ بات خوب سمجھ لے کہ خدا کی قسم تم نے بہت ہی مبارک بچہ لے لیا ہے۔‘‘
قافلہ کے روانہ ہونے پر سب لوگوں کی آنکھیں چوندیاگئی جب اُنہوں نے دیکھا کہ وہی دُبلی پتلی سواری ایک عظیم الشان برق رفتار سواری بن گئی جس پرحلیمہ اس مولود مسعود کو لئے ہوئے تھیں ۔ سب سواریاں پیچھے رہ گئی لیکن حلیمہ کی سواری آگے نکل گئی ۔ بنو سعد میں قحط برپا تھا اور سب بکریوں کی حالت ناگفت بہہ تھی لیکن حلیمہ کی بکریاں ہی شکم سیر ہوکر آتی تھیں۔ حلیمہ کہتی ہے کہ اس طرح اللہ کی جانب سے ہر طرف سے خیر و برکت آتی رہی اور ہم فیضیاب ہوتے رہے۔(انشاء اللہ باقی آ ئندہ)