ماہر ڈاکٹروں کی کمی کے باوجود ریفرل شرح محض 1فیصد،ٹراما سینٹر کا قیام ہدف
محمد تسکین
بانہال//جموں سرینگر قومی شاہراہ پر واقع سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بانہال کو ماہر ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل عملے اور دیگر معاون سٹاف کی شدید قلت کا سامنا ہے، تاہم اس کے باوجود ہسپتال غیر معمولی طور پر کم ریفرل شرح کے ساتھ صحت کی بھاری ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ایس ڈی ایچ بانہال کا ریفرل ریٹ صرف 1.02فیصد ہے، جس نے ایک بار پھر جموں۔سرینگر قومی شاہراہ پر واقع بانہال میں ٹراما کیئر سینٹر کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔محکمہ صحت کے مطابق، سب ضلع ہسپتال بانہال میں کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کی چھ منظور شدہ اسامیوں میں سے صرف دو ماہرین موجود ہیں جن میں ایک گائناکالوجسٹ اور ایک آرتھوپیڈک سرجن تعینات ہیں، جبکہ ریڈیولوجسٹ، جنرل سرجن، اینستھیٹسٹ اور پیڈیاٹریشن کی چار اہم اسامیاں تاحال خالی ہیں، جس کے باعث ہنگامی اور ٹراما سے متعلق مریضوں کو مکمل سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بلاک میڈیکل آفیسر کے علاوہ سب ضلع ہسپتال بانہال میں 10میڈیکل آفیسر خدمات خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں تاہم پیرا میڈیکل سٹاف کی کمی ہے اور 56منظور شدہ اسامیوں کے مقابلے میں صرف 38اہلکار تعینات ہیں۔بی ایم او بانہال ڈاکٹر شبیر احمد ڈار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اعداد و شمار خود اس تاثر کی نفی کرتے ہیں جو سوشل میڈیا پر ایس ڈی ایچ بانہال کو محض ’’ریفرل ہسپتال‘‘ قرار دینے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگ سوشل میڈیا پر کہتے رہتے ہیں کہ بانہال ہسپتال ایک ریفرل ہسپتال ہے تاہم یہاں کے اعداد وشمار اس بیانے کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ہسپتال میں 3,82,529او پی ڈی مریضوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے صرف 3,907مریضوں کو بہتر علاج اور تشخیص و دیگر سہولیات کیلئے کشمیر اور جموں کے ہسپتالوں میں منتقل کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریفرل آڈٹ باقاعدگی سے کیا جاتا ہے اور تمام ڈاکٹروں کو غیر ضروری ریفرل کم سے کم کرنے کی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں۔ایس ڈی ایچ بانہال میں بانہال اور رامسو سب ڈویژن اور ریل رابطے کے بعد سب ڈویژن گول کے علاسے بھی مریضوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں، حادثات کیلئے مہشور سڑکوں اور رام بن سے نویگہ ٹنل کے درمیان واحد بڑے طبی مرکز کے طور پر سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بانہال انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی کمی کے ن تمام چیلنجوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ممبر اسمبلی بانہال سجاد شاہین نے بانہال میں 50بستروں پر مشتمل لیول۔3ٹراما کیئر سینٹر کے قیام کے لیے مضبوط مطالبہ کیا ہے۔ چیف میڈیکل آفیسر رام بن کو پیش کی گئی تحریری نمائندگی میں بتایا گیا ہے کہ اس ہسپتال پر بانہال ، رامسو اور گول سب ڈویژنوں کی تین لاکھ سے زائد آبادی کو خدمات فراہم کرتا ہے اور روزانہ 600سے 800او پی ڈی مریضوں کا بوجھ سنبھالتا ہے۔نمائندگی میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ شری امرناتھ یاترا کے دوران تقریباً 10لاکھ یاتری لامبر بانہال یاترا گراؤنڈ میں قیام کرتے ہیں، جہاں طبی امداد اور ہنگامی علاج کے لیے ایس ڈی ایچ بانہال پر ہی انحصار کیا جاتا ہے۔سرکاری مراسلے کے مطابق، انڈین پبلک ہیلتھ سروسزکے معیار کے تحت ایس ڈی ایچ بانہال کو 100بستروں والے ہسپتال میں اپ گریڈ کیے جانے کی مکمل اہلیت حاصل ہے اور توسیع کے لیے مناسب اراضی بھی دستیاب ہے۔محکمہ صحت کے حکام اور عوامی نمائندوں نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ماہر خدمات اور ٹراما کیئر انفراسٹرکچر کو مضبوط نہ کیا گیا تو ہسپتال پر بڑھتا ہوا دباؤ صحت کے نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔ لوگوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیر صحت سکینہ ایتو کو شاہراہ پر قائم بانہال اور رامسو کے ہسپتالوں کو ہر لحاظ سے جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ مقامی مریضوں کے ساتھ ساتھ سڑک حادثات کے زخمیوں کو کسی قسم کی دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔