ڈیلی ویجروںکے معاملے پر رپورٹ میں تیزی لانے کی ہدایت
سشمیتا
جموں//جموں و کشمیر کابینہ نے پیر کو اس سال اگست۔ستمبر کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسی قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے اہل لوگوں کےلئے 5مرلہ سرکاری زمین الاٹ کرنے کی پالیسی کو منظوری دی۔پالیسی اب لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی منظوری کیلئے بھیجی جائے گی۔کابینہ ،جس کی صدارت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نےجموں کے سول سیکرٹریٹ میں ہوئی، نے اننت ناگ سنٹرل کوآپریٹو بینک اور جموں سنٹرل کوآپریٹو بینک کے احیاء کے لیے 118کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے فیصلے کو بھی منظوری دی۔میٹنگ کے دوران ہونے والی بات چیت سے واقف سرکاری ذرائع کے مطابق ان بیمار بینکوں کو بحال کرنے کی خاطر رقوم لگانے کیلئے ہدایات دینے کے علاوہ، کابینہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کی (بینکوں) کی نگرانی کیلئے ایک پیشہ ور بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔سرکاری ذرائع نے بتایا’’اگرچہ بورڈ ان کے معاملات کو منظم کرنے کےلئے پہلے سے موجود ہے، اسے مزید مضبوط کیا جائے گا۔ یہ ان کے روزمرہ کے مسائل یا معاملات کا بھی خیال رکھے گا‘‘ ۔ذرائع نے بتایا کہ کابینہ نے پینل کے تجویز کردہ ناموں میں سے جموں و کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن کے نئے چیئرپرسن کے نام کو بھی منظوری دی۔ذرائع کے مطابق اگرچہ مختلف سرکاری محکموں میں یومیہ اجرت پر کام کررہے ملازمین کو ریگولرائز کرنے کا طویل عرصے سے زیر التوا معاملہ ایجنڈے میں شامل نہیں تھا تاہم کابینہ کے اجلاس میں ہونے والی بات چیت میں اسے شامل کیا گیا۔کابینہ نے چیف سکریٹری کو ان کی سربراہی میں کمیٹی کی رپورٹ کو مکمل کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے لئے اپنی ہدایات کا اعادہ کیا، جو یومیہ اجرت سے متعلق ریگولرائزیشن اور دیگر متعلقہ معاملات کو دیکھنے کے لئے تشکیل دی گئی تھی۔5مرلہ پلاٹ کی الاٹمنٹ کی پالیسی کے حوالے سے ذرائع نے نشاندہی کی کہ یہ وزیر اعلیٰ کے اعلان کے مطابق ہے۔دیگر اہم فیصلوں میں جو کہ ایجنڈا آئٹمز کے طور پر غور و خوض میں شامل تھے اور کابینہ کی طرف سے منظوری دی گئی، ان میں دیہی ترقی محکمہ کے ولیج لیول ورکرز کی تنخواہ کی سطح میں اضافہ اور ضلع پنچایت افسروں کی دوبارہ تقرری شامل ہے۔ولیج لیول ورکرزکے بارے میں، ذرائع نے بتایا کہ انہیں پٹواریوں کے برابر لیول ٹو سے لیول فور میں اپ گریڈ کیا گیا، اس طرح ان کی تضادات ختم ہو گئیں۔یہ انکشاف ہوا ہے’’ان کی نئی بھرتی پنچایت سکریٹری کے طور پر کی جائے گی جس میں کم از کم قابلیت گریجویشن ہو گی‘‘ ۔ڈی پی اوز کے معاملے پرذرائع نے کہا’’اسسٹنٹ کمشنر پنچایتوںکے عہدوں کی تخلیق کے بعد، ڈی پی اوز کی پوسٹیں حقیقی معنوں میں کام نہیں کر رہی تھیں یا یوں کہہ لیں کہ ان کی اہمیت ختم ہو گئی تھی، اس لیے اب انہیں (ڈی پی اوز) کو اے سی پی کے دفتر میں بلاک ڈیولپمنٹ آفیسرز (بی ڈی اوز) ہیڈ کوارٹر کے طور پر دوبارہ نامزد کر دیا گیا ہے۔ مزید دو پوسٹوں کے ساتھ ڈائریکٹر کے اشتہار اور دیگر امور کے لئے اشتہارات جاری کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ، کابینہ نے آئندہ بجٹ، مرکزی فنڈنگ، سی ایس ایس سے متعلق مسائل سے متعلق چند امور پر بھی بات چیت کی۔ ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کے اگلے اجلاس میں بجٹ پر بحث پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔