یواین آئی
نئی دہلی// کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو کانگریس کے وزیر اعظم کے ریمارک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو جمہوریت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے اور آئین کو نقصان پہنچانے کے فن میں مہارت حاصل ہے۔ کھڑگے نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا ’’مودی جی، ایک کے بعد ایک ادارے کو آپ کے ذریعہ ڈھمکایا جارہا ہے، اس لیے اپنے گناہوں کے لیے کانگریس پارٹی کو مورد الزام ٹھہرانا بند کریں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ آپ عدلیہ کی بات کر رہے ہیں۔ آپ آسانی سے بھول جاتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین ججوں کو ایک بے مثال پریس کانفرنس کرنے اور جمہوریت کی پامالی کے خلاف خبردار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ کانگریس صدر نے اپنی پوسٹ کے ذریعے وزیر اعظم سے پوچھا کہ نیشنل جوڈیشل اپوائنٹمنٹ کمیشن (این جے اے سی) کون لایا؟ اسے سپریم کورٹ نے کیوں روکا؟واضح رہے کہ ملک کی سب سے پرانی پارٹی پر حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ ’’دوسروں کو ڈرانا اور دھمکانا کانگریس کا پرانا کلچر ہے‘‘۔ مودی کا تبصرہ تقریباً 600 ممتاز وکلائکی جانب سے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کو لکھے گئے ایک خط کے بعد آیا ، جس میں مفاد پرست گروپوں پر فکر ظاہر کی گئی ہے جو عدلیہ پر اپنی سالمیت کو کمزور کرنے کے لئے دبا ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ادھرکانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ’’جمہوریت کو تباہ و برباد کرنے والوں کے خلاف ضرور کارروائی کی جائے گی۔ گاندھی نے جمعہ کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ مرکزی تفتیشی بیورو اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو اپنا کام کرنا چاہئے اور اگر یہ لوگ اپنا کام کرتے تو ایسا نہ ہوتا ۔ گاندھی نے کہا،’’کسی دن اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) کی حکومت بدلتی ہے، تو یقینی طور پر جمہوریت کو ختم کرنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ایسی کارروائی کی جائے گی کہ کسی کو دوبارہ ایسا کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ یہ میری گارنٹی ہے۔‘‘