دنیا میں کچھ ہی رشتے ایسے ہیں جن سے انسان سچی محبت کرتا ہے، ان میں والدین سر فہرست ہیں، ان کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند و بالاہے،اسی لئے اللہ تعالیٰ نےاپنی عبادت و بندگی کے ساتھ ہی انسان کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔اللہ نے ہی انسان کی پیدائش و پرورش کا ظاہری سبب اُس کے والدین کو بنایا۔ ماں راتوں کو جاگ کر اپنا آرام اپنے بچے پر قربان کرتی ہے، باپ اپنے بچےاور اُس کی ماں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے دن بھر محنت و مزدوری کرتا ہے۔ اب اگر یہی بچہ بڑا ہو کر اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں بے یار و مددگار چھوڑ دے، اُن کے ساتھ حسن سلوک سے نہ پیش آئے، ان کی گستاخی و بے ادبی کرے تو اس سے زیادہ بے انصافی اور ظلم کیا ہو سکتا ہے؟ہر مذہب میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی شدید تاکید کی گئی ہے اور بدسلوکی کرنے سے منع کیا گیا ہے، اولاد پر والدین کا اتنا بڑا حق ہے کہ حقوق ِ والدین کو باقی تمام حقوق پر ترجیح دی گئی ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک بالغ اولاد کو اپنے والدین کے ساتھ ایسا کوئی رویہ اپنانا نہیں چاہئے ،جس سے اُنہیں ذہنی یا روحانی اذیت پہنچے، لہٰذا اولاد پر لازم ہے کہ والدین سے نرمی اور اچھے انداز میں بات کریں ۔بے شک کئی والدین کا مزاج بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے چڑچڑا سا ہو جاتا ہے، اگر اولاد کو والدین کی کسی بات پر غصہ بھی آجائے تو برداشت کرے، انھیں نہ جھڑ کے اور نہ ہی ڈانٹ ڈپٹ کرےاور ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بات کرکے اُن کے سامنے عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آئیں۔اللہ کے پیارے رسولؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ اپنے ماں باپ کا اطاعت شعار خدمت گزار کوئی بھی فرزند جب اُن کی طرف رحمت و محبت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے ہر نگاہ کے بدلے ایک حج مبرور و مقبول کا ثواب لکھتا ہے۔ لہٰذا اس کے حصول کے لئے اولاد اپنے والدین کے ساتھ جو بھی نیکی کر سکتا ہو،وہ کریںاور ان کے حق میں رحم و کرم اور عجز و انکساری کے پیکر بن جائیںاور کبھی بھی اپنے کردار، گفتار یا حرکات و سکنات سے اُن کی دل آزاری نہ کریں۔
موجودہ دورمیں معاشرہ انتشار اور افراتفری کا شکار ہے اور مسلمان اپنی روایات اور اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں اور آئے روز والدین کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور قتل جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب ایک معمول بن چکاہے۔یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ اس جدید دور میںبیشتر اولادیں اپنے بوڑھے والدین کواولڈ ایج ہومز کے حوالے کررہے ہیں،کسی رشتہ دار کے رحم و کرم پر چھوڑرہے ہیں یا اپنے ہی گھر میں بے یارومددگار چھوڑکر غیر اخلاقی و خود غرضانہ رویے کا شکار بنا رہے ہیں،جوکہ انتہائی شرمناک فعل ہی نہیں بلکہ انسانیت کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔بہرحال والدین کے ساتھ حسن سلوک افضل اور محبوب ترین اعمال میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نےجہا ں والدین کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق بچوں کی پرورش کے تقاضوں کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے ،وہیںاولاد کے لئے اطاعتِ والدین کے تقاضوں کی ادائیگی بھی لازمی قرار دی ہے اور واضح کرکے رکھ دیا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت ضروری ہے،وہاں والدین کی اطاعت بھی ضروری ہے اور اس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔مگر افسو س !آج کے مسلمان ان سبھی باتوں کو فراموش کرچکے ہیں ۔ اس لئے آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حقوق العباد کے متعلق اسلام کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور خصوصاً والدین کے مقام و مرتبہ کے متعلق جو احکامات ہیں ، اُسے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا مختلف پروگراموں کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے اورمعاشرے کے تمام طبقات اس معاملے میں اہم کردار اداکریں تاکہ مسلم معاشرہ میں والدین اور بزرگوں کو ان کا جائز مقام مل سکے۔