اشرف چراغ
کپوارہ// وادی کشمیر میں نا مساعد حالات کے دوران سرحدں پر گن گرج کی وجہ سے لوگو ں ذہنی سکون سے محروم تھے تاہم اب حالات اس قدر پر امن ہیں کہ وادی کرناہ میں بھی سرحدی سیاحت کو فرو غ مل رہا ہے اور اس بات کا اعتراف ہفتہ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے قانون ساز اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران کیا جب انہو ں نے کہا کہ حکومت کرناہ وادی میں سرحدی سیاحت کو فرو غ دینے کے لئے منصوبہ بنا رہی ہے کیوں کہ اس خوبصورت علاقہ میں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہے۔وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو کرناہ میں بڑی پذیرائی مل رہی ہے۔وادی کرناہ جیسے پر امن علاقے میں طویل عرصے تک جارہی رہنے والی بارود کی گھن گرج اور جنگی حالات کی جگہ اب سیاحت نے لے لی ہے۔اس مثبت تبدیلی نے مقامی لوگو ں کے کاروبار کو ایک نئی زندگی بخشی ہے۔سیاحوں کی آمد سے علاقے میں معاشی سر گرمیا ں تیز ہوگئی ہیں اور قدیم تباہی کے اثرات آہستہ آہستہ کم ہو رہے ہیں۔اگر کرناہ وادی کو واقعی سر حدی سیاحت کے نقشے پر لایا جائے گا تو یہ بات یقینی ہے کہ سیاحت کو فرو غ دینے سے مقامی افراد کی آمدانی میں اضافہ ہوگا۔جس سے وادی کرناہ جیسے علاقے میں کا روبار کو فرو غ مل سکے گا۔ایک مقامی شہر ی زبیر احمد کا کہنا ہے کہ ما ضی میں بارود کی بو اور گولیو ں کی گھن گرج نے یہا ں کے لوگو ں کی زندگی کو مفلوج کر دیا تھا جسے اب سیاحت کے ذریعے معمول پر لایا جارہا ہے اور یہ تبدیلی اس بت کی عکاسی کرتی ہے کہ طاقت استعمال عارضی ہوتا ہے اور لوگ امن اور تر قی چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ تین سے کے دوران گزشتہ برسو ں کے مقابلے میں گولہ بار اور گولیو ں کی گھن گرج خاموش رہنے سے امن و سکون کا ما حول سایہ فگن رہا ہے اور ان سالوں کے دوران سرحدی سیاحت کے فرو غ کے لئے کافی حد تک ممد و معاون ثابت ہوا۔اتنا ہی نہیں بلکہ حالات نے اس قدر کرو ٹ لی کہ حد متارکہ پر واقع ٹیٹوال علاقے میں شاردا مندر کو عقیدت مندو ں کے لئے کھول دیا گیا اور پورے ملک سے آنے والے سینکڑوں عقیدت مندو ں نے یہا ں کا درشن کیا اور اس سے یہ بات عیا ں ہے کہ امن کی جیت نے تشدد کو شکت دی اور کرناہ علاقے میں سر حدی سیا حت نے رفتار پکڑ لی۔ضلع صدر مقام سے 70کلو میٹر دور کرناہ وادی اب تیزی سے ایک مقبول سیا حتی مقام بنتی جار ہی ہے حالانکہ شدید برف باری کی وجہ سے یہ علاقے بھی آمد و رفت کے لئے متا ثر ہوتا ہے۔بڑی بڑی اونچی چو ٹیو ں کے پہا ڑی درو ں میں سے نستہ ڑھن گلی (سادھنا)سطح سمندر سے 10ہزار فٹ کی بلندی پر کشمیر سے سب سے خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔یہا ں کے لوگو ں کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دورا ن علاقے میں سیا حت نے طول پکڑ لی۔ایک اور مقامی شہری کا کہنا ہے کہ سر حدی سیا حت نے اس دور دراز سرحدی علاقے کو امن اور ترقی کی علامت میں بدل دیا ہے جس سے مقامی لوگو ں کی معاشی حالے مستحکم ہوئی ہے اور روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔مقامی لوگو ں نے کا کہنا ہے کہ سرحدی سیاحت کو فرو غ دینے سے لوگ اپنی روایات ،طرز زندگی اور منفرد ثقاتی شناخت کو تقویت مل رہی ہے۔کرناہ کے لوگو ں نے سر کار سے مطالبہ کیا کہ کرناہ علاقہ کو پوری طرح سرحدی سیاحت کے نقشے پر لایا جائے تاکہ سیاحوں میں ان علاقوں کے بارے میں غلط فہمیا ں دور ہوگی یہ کرناہ علاقہ امن اور خیر سگالی کا مرکز بن جائے۔