عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وادی کشمیر میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی سیاحوں کی آمد ایک بار پھر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ملکی وغیر ملکی سیلانی برف پوش پہاڑوں اور قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہو نے کیلئے بے قرار ہیں۔ سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد، بالخصوص ہوٹل اور ہاؤس بوٹ مالکان، موجودہ سرمائی سیزن اور آنے والے مہینوں کے حوالے سے خاصے پْرامید نظر آتے ہیں، تاہم بڑھتے ہوئے ہوائی کرائے سیاحوں کی آمد میں ایک بڑی رکاوٹ بن کر ابھرے ہیں۔سیاحتی شعبے کے سرکاری و غیر سرکاری اندازوں کے مطابق گزشتہ برس ابتدائی مہینوں میںکشمیر میں سیاحت نے نمایاں عروج دیکھا، تاہم پہلگام حملے کے بعد کئی ماہ تک سیاحوں کی آمد نا کے برابر رہی جس کے نتیجے میں سیاحتی انڈسٹری کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی پس منظر میں امسال بھی سیاحتی سرگرمیوں میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے، خاص طور پر سرمائی کھیلوں اور برف باری کے باعث گلمرگ، پہلگام اور سونمرگ جیسے مقامات پر خاصی چہل پہل دیکھی جا رہی ہے۔ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ موسمِ سرما کے دوران سیاحوں کی مسلسل آمد خوش آئند ہے۔ ان کے مطابق اپریل تک کے لیے پیشگی بکنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ آنے والا سیاحتی سیزن بھی گزشتہ برس کی طرح کامیاب رہ سکتا ہے۔ ہاؤس بوٹ مالکان نے بھی اسی طرح کی امیدوں کا اظہار کیا ہے۔ہاو س بوٹ مالک محمد یعقوب دون کے مطابق ہاؤس بوٹس کی پیشگی بکنگ شروع ہو چکی ہے اور اگر حالات سازگار رہے تو اس سال سیاحتی سیزن ریکارڈ توڑ ثابت ہو سکتا ہے۔تاہم، سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ گزشتہ برس کی بعض پالیسی غلطیوں کو نہ دہرایا جائے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ہوائی کرایوں کو اعتدال میں رکھنے، اضافی وصولیوں کے خلاف کارروائی اور پروازوں کی بہتر نگرانی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔