پرویز احمد
سرینگر //کشمیر میںدانتوں کی بیماری کافی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مجموعی طور پر 67فیصد لوگ دانتوں کے سڑنے ، مسوڑھوں میں درد،منہ میں سفید داغ اور جبڑوں میں درد کی بیماری جیسی بیماریوں کے شکار ہے۔ ان میں سے 40سے 60سال کی عمر کے 19فیصد دانتوں کی سڑن،45فیصد میں مسوڑھوں کا درد اور 35فیصد کے جبڑوں کی ہڈیوں میں درد ہوتا ہے۔ دانتوں کا سڑنا ، دانتوں میں بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والے سراخوں کو کہتے ہیں۔ منہ میں موجود بیکٹیریا سے نکلنے والے تیزاب سے دانت کے مضبوط حصہ میںشوگر، کولڈ ڈرنک اور دیگر مشروبات کی وجہ سے کیڑا(دانوں پر جمعی ہوئی بیکٹیریا ) لگ جاتا ہے جو دانتوں میں درد ، سوزش ، حساسیت اور بعد میں سراخ پیدا کرتا ہے۔اس کے علاوہ وادی میں مسوڑوں میں سوزش، حساسیات اورمنہ میں سفید داغ اور جبڑوں کی ہڈیوں میں درد کی شکایت بھی کافی لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ گورنمنٹ ڈینٹل کالج سرینگر کے اعداد و شمار کے مطابق کالج میں روزانہ 500سے زائد مریضوںدانتوں کے علاج کیلئے آتے ہیں جن میں دانتوں کے علاوہ منہ کی بیماریاں بھی شامل ہیں۔ دانتوں کی بیماریوں میں دانتوں کا سڑنا اورجبڑوں کی ہڈیوں میں درد شامل ہے جبکہ منہ کی بیماریوں میں مسوڑھوں کی سوزش، حساسیت اور منہ میں سفید داغ آتے ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میںتقریباً 95یعنی 19فیصد دانت سڑنے اور 125یعنی25فیصد جبڑوں کے درد میں مبتلا ہیں جبکہ123یعنی 23فیصد مسوڑھوں میں درد ، حساسیت اور منہ کے سفید داغ ہونے کے مریض ہوتے ہیں۔ گورنمنٹ ڈینٹل کالج سرینگر میں شعبہ اورل میڈیسن کے ڈاکٹر الطاف حسین کاوسہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ آسٹریلیا ، انگلینڈ اور دیگر یورپی ممالک میں دن میں دو بار دانت صاف کرنا قانون بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہاں کوئی دن میں دو بار دانت صاف نہیں کرتا تو اس کا چالان ہوتا ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بند کی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر الفاط نے کہا کہ کشمیر میں دانتوں کی صحت ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور اس کی وجہ یہاں کے لوگوں کی کمزور اقتصادیات ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی کی اقتصادات مضبوط ہوتی ہے تو وہ تبھی اپنے اوپر بھی پیسہ خرچ کرتا ہے۔ ڈاکٹر الطاف کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے وادی میں 67فیصد سے زائد لوگوں کے دانت مختلف بیماریوں سے متاثر ہیں۔ڈاکٹر الفاظ نے مزید بتایا ’’ یہاں لوگوں میں زیادہ تر دانت سڑنے کی شکایت پائی جاتی ہے کہ 20سے 35سال کے درمیان لوگوں میں زیادہ تر جبڑوں کی ہڈیوں میں درد پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بڑی وجہ ذہنی تنائو ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں میں بے روزگار، اقتصادی حالت اور دیگر وجہ سے تنائو ہوتا ہے جو جبڑوں میں درد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ انہوں نے کہا اصل مسئلہ لوگوں میں جانکاری کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانکاری ہوگی تو تبھی لوگ صفائی کا دھیان رکھیں گے۔