پرویز احمد
سرینگر //کشمیر میںہرنیا ہونے کی بیماری کافی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 12فیصد لوگ ہرنیا سے متاثر ہیں اور ان میں اکثریت مردوں کی ہے ۔ ہرنیا سے متاثرہ لوگوں میں مردوں کی شرح 98فیصد جبکہ 2فیصد خواتین میں بھی ہرنیا پایا جاتا ہے۔ ہرنیاجسم کے کسی اندرونی حصے کا پٹھوں کے کمزور سراخ سے باہر آنے کا نام ہے۔ اس کی بڑی علامتوں میں متاثرہ جگہ پر گومڈ بننا، کھڑے ہونے میں تکلیف یا کھانسنے اور چھینکنے میں تکلیف ہونا ہے۔ بھارت میں سالانہ 15سے 20لاکھ لوگ ہرنیا کے شکار ہوتے ہیںہے۔ کشمیر صوبے میں روزی روٹی کمانے کیلئے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے لوگ زیادہ تر ہرنیا کے شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ شرح کسانوں کی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کسانوں کی شرح سب سے زیادہ 27فیصد، مزدوروں کی شرح23فیصد، دکانداروں کی شرح 16فیصد ، طلبہ و طالبات کی شرح 16فیصد، سرکاری ملامین کی شرح 11فیصد اور گھروں میں کام کرنے والے لوگوں کی شرح 6فیصد ہوتی ہے۔ ان میں 23فیصد کی عمر 21سے30سال، 22فیصد کی عمر 31سے 40سال کے درمیان اور 39فیصد کی عمر 41سے 50سال کے درمیان ہوتی ہے۔ ہرنیا کے 52فیصد مریضوں میں جسم کے دائیں حصہ میں ہرنیا پایا جاتا ہے جبکہ دیگر 48فیصد مریضوں میں بائیں جانب ہرنیا پیدا ہوتا ہے ۔ وادی میں شعبہ جراحی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرنیا کی بڑی وجہ زیادہ وزن اٹھانا ہوتا ہے اور اس لئے یہ زیادہ ان لوگوں میں پیدا ہوتا ہے جو سخت محنت مشقت کے کام کرتے ہیں، ان میں کسان، مزدور، دکانداروں اور دیگر افراد شامل ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں ہرنیا سے متاثر 7فیصد لوگوں میں 55فیصد زیادہ وزن اٹھانے کی وجہ سے ہر نیا کے شکار ہوگئے تھے جبکہ 36فیصد جسم سے کارج ہونے والے مادہ کے نظام میں خرابی کی وجہ سے ہرنیا کے شکار ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے اور شوگر کے مریضوں میں ہر نیا ہونے کے خطرات موجود ہوتے ہیں۔ سینئر سرجن ڈاکٹر جاوید احمد کا کہنا ہے کہ ہرنیا کی بیماری بہت پہلے سے کشمیر میں تھی کیونکہ یہاں کے لوگ ہمیشہ جفاکش رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیماری متوسط طبقے کو متاثر کرتی ہے جس میں کسان ، مزدور اور دیگر دکاندار وغیر ہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں زیادہ تر مریضوں کو جراحی کی ضرورت پڑتی ہے اور جراحی کی مدد سے وہ اس سے چھٹکارہ پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ اس کیلئے کئی قسم کی جراحیاں موجود ہیں، پہلے اوپن سرجری ہوتی تھی اور آج لیپبرسکوپک سرجری کی جاتی ہے جو صحیح ہوتی ہے اور مریضوں کو ٹھیک ہونے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگتا ۔‘‘