سرینگر // وادی میں اضافی بجلی سپلائی فراہم کرنے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ موسم سرما کی آمد کیساتھ ہی لوڈ شیڈنگ کی پریشان کن صورتحال نے صارفین کی ناک میں دم کر دیا ہے۔محکمہ نے دو ہفتے قبل شہر سرینگر کے لئے کٹوتی پروگرام مشتہر کیا لیکن تب دے شہر میں بجلی کی بدترین صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔شہر کے میٹر یا نان میٹر علاقوں میں اب کوئی فرق نہیں رہی ہے۔ کٹوتی غیر اعلانیہ طور پر کی جارہی ہے اور اس کے لئے کوئی بھی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے نہ اس بات کا امتیاز رکھا جارہا ہے کہ پہلے سے طے شدہ شیڈول میں کونسا وقت مقرر کیا گیا ہے۔شہر کے سیول لائنز اور پائین شہر علاقوں میں دن میں کم سے کم 7بار بجلی کاٹی جاتی ہے اور آنکھ مچولی کی یہ صورتحال دن بھر جاری رکھی جاتی ہے۔پچھلے 10روز سے اس طرح کی صورتحال نے بدترین شکل اختیار کی ہے۔ شہر اور دیہات کے لوگ بجلی کی اندھا دھند لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ محکمہ بجلی کا کہنا ہے کہ جب تک لوگ تعاون نہیں کریں گے انہیں مزید بجلی کٹوٹی کا سامنا رہے گا ۔یاد رہے کہ شہر سرینگر کیلئے اگرچہ محکمہ بجلی نے 7نومبر کو شیڈول جاری کیا تھا، لیکن اس شیڈول پر عمل درآمد کہیں نظر نہیں آرہا ہے اور شہر میں کئی کئی گھنٹوں تک بجلی بند رکھی جاتی ہے، اگرچہ محکمہ بجلی نے میٹر والے علاقوں میں ڈیڑھ گھنٹے اور نان میٹر یافتہ علاقوں میں تین گھنٹے بجلی اعلانیہ طور پر بند رکھنے کا دعویٰ کیا تھا ، لیکن ،میٹر یافتہ علاقوں میں روازنہ 45منٹوں تک دو بار بجلی بند رکھنے کے بجائے دن میں لگاتار چار سے پانچ مرتبہ کاٹی جاتی ہے۔ پچھلے چند دنوں سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ مزید بڑھ گئی ہے ۔شہر کے کرسو راجباغ ،جواہر نگر ، صنعت نگر ، چھان پورہ ، راولپورہ ، باغ مہتاب ، حیدرپورہ ، برزلہ ، باغات ، سونہ وار سمیت دیگر میٹریافتہ علاقوں کے لوگوں نے بتایا کہ ان کے علاقوں میں دن میں کئی کئی گھنٹوں بجلی غیر ا علانیہ طور کاٹ دی جاتی ہے۔جمعرات کو کرسو راجباغ اور چھان پورہ سمیت دیگر علاقوں میں 6گھنٹے بجلی بند رہی ، وہیں نان میٹر یافتہ علاقوں سمیت وادی کے ان علاقوں میں بھی بجلی کا کہیں نام نشان نہیں ہے جہاں کوئی شیڈول جاری نہیں ہوا ہے اور وہاں کے لوگ محکمہ بجلی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ قصوبوں میں بجلی کی سپلائی کما حقہ کی جاتی ہے لیکن دیہات کا انتہائی برا حال ہے جہاں دن میں کبھی کبھار ہی برقی رو کی سپلائی ممکن بنائی جاتی ہے۔