۔ 19جولائی سے بارشوں کا نیا سلسلہ شرو ع ہوگا، 20کے بعد شدت اختیار کرنے کا امکان
عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر// ایک ہفتے کے نسبتاً ٹھنڈے موسم کے بعد وادیٔ کشمیر میں ایک بار پھر گرمی اور حبس نے شدت اختیار کر لی ہے۔ جمعرات کے روز سری نگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.2ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو رواں ماہ جولائی کا دوسرا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔اس سے قبل 10 جولائی کو سری نگر میں رواں ماہ کا سب سے زیادہ درجہ حرارت34.5ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔11جولائی کے بعد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی بارشوں اور بعض مقامات پر تیز بارش کے باعث درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی۔12جولائی کو سری نگر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کم ہو کر22.7ڈگری سینٹی گریڈتک پہنچ گیا تھا، جو معمول سے کافی کم تھا۔اس کے بعد درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ منگل کو درجہ حرارت30ڈگری، بدھ کو 32ڈگری اور جمعرات کو بڑھ کر 34.2ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔وادی کے دیگر علاقوں میں قاضی گنڈ میں 32.5ڈگری، کوکرناگ میں 32.4ڈگری، کپواڑہ میں 33.2ڈگری، پہلگام میں 28.9ڈگری اور گلمرگ میں 25.4ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا
۔ادھر جموں خطے میں مانسون کے اثرات کے باعث درجہ حرارت معمول کے قریب رہا۔ جموں شہرمیں 36.4ڈگری، کٹراہ میں 33.8ڈگری، بانہال میں 30.5ڈگری، بٹوت میں 28.2ڈگری جبکہ بھدرواہ میں 31.6ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مختار احمد نے بتایا کہ وادی کشمیر میں 18جولائی تک گرمی اور حبس کی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا’’18جولائی تک موسم عمومی طور پر گرم اور مرطوب رہے گا۔ آئندہ دو روز کے دوران درجہ حرارت میں مزید اضافہ متوقع ہے، تاہم19جولائی سے اس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی‘‘۔مختار احمد کے مطابق 19جولائی سے بارشوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔انہوں نے بتایا’’19جولائی کو جموں و کشمیر کے متعدد علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسنے کی توقع ہے، جبکہ جموں خطے کے چند مقامات پر مختصر دورانیے کی تیز بارش بھی ہو سکتی ہے‘‘۔انکے مطابق20سے 23جولائی کے دوران بارشوں کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا’’اس سلسلے کی شدت21اور 22جولائی کو اپنے عروج پر ہوگی، جب کشمیر اور جموں ڈویژن کے چند اضلاع میں موسلا دھار بارش اور مختصر دورانیے کی شدید بارش متوقع ہے‘‘۔انہوںنے خبردار کیا ہے کہ 20سے 22جولائی کے دوران چناب وادی، پیر پنچال خطے اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ ہے۔انہوںنے مزید خبردار کیا کہ بالخصوص جموں ڈویژن میں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، معمولی سیلابی صورتحال پیدا ہونے اور دریاؤں، ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا بھی امکان ہے۔کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ20 سے 23جولائی کے دوران زرعی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل رکھیں۔اسی طرح سیاحوں، ٹریکنگ کرنے والوں، ٹرانسپورٹروں اور عام مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موسم کی تازہ ترین اطلاعات پر مسلسل نظر رکھیں اور اسی کے مطابق اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں۔