ڈگری ہولڈروں کیلئے 80فیصد اور ڈپلومہ کیلئے 20فیصد کوٹہ مقرر
بلال فرقانی
سرینگر// حکومت نے جموں و کشمیر انجینئرنگ (گزیٹیڈ) سروس بھرتی ضوابط کا مجوزہ مسودہ جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے7 دن کے اندر اعتراضات اور تجاویز طلب کی ہیں۔ محکمہ کی جانب سے جاری عوامی نوٹس کے مطابق مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد مزید کوئی اعتراض یا تجویز قبول نہیں کی جائے گی اور مسودہ منظوری کیلئے قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ 13 جولائی کو جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ محکمہ جل شکتی کی تنظیم نو اور حالیہ کیڈر جائزہ کے بعد نئی بھرتی قواعد مرتب کیے گئے ہیں تاکہ گزیٹیڈ انجینئرنگ سروس کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔سرکاری دستاویز کے مطابق انجینئرنگ سروس کے قواعد پہلی مرتبہ 1978 میں ایس آر او،380 کے تحت نافذ کیے گئے تھے، جن میں بعد ازاں 1992 اور 2006 میں ترامیم کی گئیں۔ اس وقت محکمہ تعمیرات عامہ کے تحت پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، آبپاشی و فلڈ کنٹرول اور آر اینڈ بی و مکینیکل انجینئرنگ ایک ہی انتظامی ڈھانچے کا حصہ تھے۔ جولائی 2009 میں ان کی علیحدگی کے بعد پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، آبپاشی و فلڈ کنٹرول محکمہ ایک آزاد محکمہ بنا، جسے 2020 میں جل شکتی محکمہ کا نام دیا گیا۔ 2012، 2013 اور 2019 میں اس کی منظور شدہ گزیٹیڈ اسامیوں کی تعداد باقاعدہ طور پر نوٹیفائی کی گئی، جبکہ مئی 2026 میں منظور شدہ کیڈر جائزہ کے بعد نئے قواعد تیار کیے گئے۔
مسودہ قواعد کے مطابق محکمہ میں سیکریٹری ٹیکنیکل کا اعلیٰ ترین عہدہ لیول،14 میں رکھا گیا ہے، جس پر تقرری چیف انجینئر (سیول) میں سے میرٹ، موزونیت اور سروس ریکارڈ کی بنیاد پر ہوگی۔چیف انجینئر کے عہدے پر ترقی کے لیے متعلقہ شعبہ میں کم از کم 18 سال کی گزٹیڈ سروس لازمی ہوگی، جبکہ سپرنٹنڈنگ انجینئر کے عہدے کیلئے امیدوار کا ایگزیکٹو انجینئر ہونا، سیول انجینئرنگ میں ڈگری یا’ اے ایم آئی ای‘ کی اہلیت رکھنا اور کم از کم 15 سال کی گزٹیڈ سروس ضروری قرار دی گئی ہے۔مسودے کے مطابق ایگزیکٹو انجینئر کی اسامیوں پر 80 فیصد ترقی انجینئرنگ ڈگری یا’ اے ایم آئی ای‘ رکھنے والے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئروں میں سے ہوگی، جن کے پاس کم از کم 6 سال کی گزیٹیڈ سروس اور 2 سالہ تجربہ ہونا لازمی ہوگا، جبکہ باقی 20 فیصد حصہ ڈپلومہ ہولڈروں کیلئے مختص کیا گیا ہے جنہیں8 سال کی گزیٹیڈ سروس درکار ہوگی۔اسی طرح اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر کی تقرری اسسٹنٹ انجینئروں میں سے ترقی کے ذریعے ہوگی، جہاں ڈگری ہولڈروں کیلئے2 سال اور ڈپلومہ ہولڈروں کیلئے3 سالہ تجربہ شرط ہوگا۔مسودہ قواعد میں اسسٹنٹ انجینئر کی اسامیوں کیلئے نئی بھرتی اور ترقی دونوں کے راستے تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں 20 فیصد اسامیاں براہ راست بھرتی کے ذریعے پْر کی جائیں گی، جن کے لیے کسی تسلیم شدہ یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی ڈگری یا اے ایم آئی ای کی اہلیت ضروری ہوگی۔ مزید 60 فیصد اسامیاں ڈگری یافتہ جونیئر انجینئروں اور 20 فیصد ڈپلومہ ہولڈوںجونیئر انجینئروں کو ترقی دے کر پْر کی جائیں گی۔مسودے میں کینال سپرنٹنڈنٹ کی اسامی بھی شامل کی گئی ہے، جس پر صرف آبپاشی و فلڈ کنٹرول محکمہ کے آبپاشی نگران حلقہ میں سے ترقی کی بنیاد پر تقرری ہوگی۔ اس کے لیے کم از کم 5سالہ تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔انتظامی تعطل سے بچنے کیلئے مسودہ قواعد میں عبوری انتظامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ اگر کسی مرحلے پر ڈگری یا ڈپلومہ کی مخصوص زمرے سے اہل امیدوار دستیاب نہ ہوں تو دوسریے زمرے کے اہل افسران کو عارضی بنیاد پر ترقی دی جا سکے گی، تاہم ایسی ترقی مستقبل میں سنیارٹی یا مزید ترقی کے لیے کوئی اضافی حق یا ترجیح فراہم نہیں کرے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق تمام متعلقہ ملازمین، انجینئرنگ تنظیمیں اور دیگر متعلقین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مجوزہ قواعد پر اپنی تجاویز یا اعتراضات سات دن کے اندر محکمہ جل شکتی کو ارسال کریں تاکہ حتمی منظوری سے قبل ان پر غور کیا جا سکے۔