آکلینڈ//نیوزی لینڈ میں حالیہ انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی پارلیمنٹ کئی اعتبار سے منفرد ہو گی۔ اراکینِ پارلیمنٹ کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہوگی جب کہ نئی کابینہ میں ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کو 10 فی صد نمائندگی حاصل ہو گی۔دوسری جانب حکومت کی سابق اتحادی جماعت گرین پارٹی بھی 10 فی صد نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے ان میں بھی اکثریت خواتین کی ہے۔لیبر پارٹی نے 120 پارلیمانی نسشتوں میں سے 64 پر کامیابی حاصل کی جن میں نصف سے زیادہ خواتین ہیں۔خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق نئی کابینہ میں نیوزی لینڈ میں مقیم مختلف طبقات کو رنگ و نسل کی بنیاد پر حکومت میں شامل کیا جائے گا۔خیال رہے کہ ہفتے کو ہونے والے انتخابات میں وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی نے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔